باندرہ :ڈیڑھ سال بعد بھی بس سروس بحال نہیں ہوئی ،مسافروں کو دشواریوں کا سامنا

Updated: May 02, 2022, 10:39 AM IST | Bakolesh Trivedi | Mumbai

نالے کی باؤنڈری وال کی تعمیر اور سڑک کی توسیع کےلئے طویل عرصہ سے بس سروس بند ہے،شیئرنگ رکشا والوں پر زائدکرایہ وصول کرنے کا الزام

Bus service from Bandra Railway Station (East) is currently closed..Picture:INN
باندرہ ریلوے اسٹیشن(ایسٹ) سے چلنے والی بس سروس فی الحال بند کی گئی ہیں۔۔ تصویر: آئی این این

تقریباً ڈیڑھ سال کا وقفہ گزر جانے کے باوجود باندرہ ریلوے اسٹیشن(ایسٹ) سے مختلف مقامات کےلئے چلائی جانے والی بیسٹ کی بسوں کو دوبارہ شروع نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے مسافروں کو سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بس سروس بحال نہ ہونے سے باندرہ کرلا کامپلیکس میںواقع مختلف کمپنیوں میں ملازمت کرنے والے ہزاروں افراد کو اور کرلا کی جانب جانے والے مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔واضح رہے کہ پہلے اسٹیشن کے باہر سے ہی کئی بسیں چلائی جاتی تھیں جنہیں نالے کی دیوار تعمیر کرنے اور سڑک کی توسیع کے سبب بند کر دیا گیا ہے۔ یہاں سے چلائی جانے والی  ۳۱۰؍، ۳۱۶؍ اور ۳۱۷؍نمبر کی بسیں فی الحال باندرہ کورٹ کے قریب واقع ڈپو سے چلائی جا رہی ہیں۔اسٹیشن کے باہر نالے کی دیوار کی تعمیر اور سڑک کی توسیع کا کام جاری  ہونے کی وجہ سے یہاں سے بسوں کا چلانا مشکل ہوگیا تھا۔دریں اثنا لوگوں کا کہنا ہے کہ نالے کی باؤنڈری وال کا کام مکمل ہوچکا ہے اور سڑک بھی کشادہ کر دی گئی ہے اس کے باوجودیہاں سے بس سروس بحال کرنے میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے۔ 
 کملیش وورا نام کے ایک شخص ،جو ڈائمنڈ مارکیٹ میں کام کرتے ہیں ،نےبتایا کہ ’’ ہمیں اسٹیشن سے بہرام پاڑہ تک بس ڈپو کےلئے پیدل جانا پڑتا ہے جو کافی دور ہے۔اس کے علاوہ شدید دھوپ سے بھی مسافروں کو پریشانی ہوتی ہے۔ راستے میں چوری ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔اس کے علاوہ اس علاقہ میں زبردست ٹریفک رہتا ہے جس کی وجہ سے مزید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘‘ انہوںنے مزید بتایا کہ پہلے اسٹیشن کے باہر کی سڑک کشادہ نہ ہونے کے باوجود یہاں سے ڈبل ڈیکر بسیں چلائی جاتی تھیں۔اب تو بیسٹ کی چھوٹی اور اے سی بسیں بھی آگئی ہیں انہیں یہاں سے چلانا چاہئے۔بس سروس بحال نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘ ایک دیگر شخص نے بتایا کہ ’’یہاں سے بس سروس بند ہوجانے سے رکشا ڈرائیوروں نے من مانی شروع کردی ہے۔شیئرنگ رکشے کے صبح کے وقت ۲۰؍روپے فی سواری تو شام کے وقت ۳۰؍ روپےلئے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ رکشے میں ۴؍ سے ۵؍ مسافروں کو ایک طرح سے ٹھونس دیا جاتا ہے۔اسٹیشن سے باندرہ کرلا کامپلیکس کیلئے اگر میٹر سے جائیں تو ۳۵؍سے ۵۰؍ روپے ہی لگتے ہیں۔یہی نہیں کئی مرتبہ رکشا ڈرائیور مسافروں کو  اسٹیشن کے پاس ٹریفک کا بہانہ کرتے ہوئے ہائی وے پر ہی اتار دیتے ہیں۔‘‘ ہیروں کے تاجر اور سماجی کارکن نے بتایا کہ انہوںنے دھاراوی بس ڈپو سے بس سروس کی تعداد میں اضافہ کےلئے درخواست کی ہے۔
بیسٹ انتظامیہ نے کیا کہا؟
  باندرہ اسٹیشن سے بس سروس بحال کئے جانے سے متعلق جب بیسٹ انتظامیہ کے ترجمان منوج وراڈے سے استفسار کیا گیا تو انہوںنے کہا کہ ’’باندرہ اسٹیشن دھاراوی بس ڈپو کے تحت آتا ہے۔ بس ڈپو کے منیجر نے بتایا کہ باندرہ میں نالے کی باؤنڈری وال کا کام ہنوز جاری ہے ۔ہم یہاں سے بس سروس کا آغاز اسی صورت میں کر سکتے ہیں جب دیوار کا کام مکمل ہوجائے ۔اس معاملے میں بی ایم سی سے ہم رابطے میں ہیں۔جیسے ہی نالے کی باؤنڈری وال کا کام مکمل ہوجائےگا تو بس سروس  بحال کردی جائےگی تاکہ مسافروں کو سہولت  مل سکے۔

bandra Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK