باندرہ : کیچڑ اورگندےپانی سےمقامی افراد اورراہ گیروں میں برہمی

Updated: July 15, 2022, 11:03 AM IST | saeed Ahmed | Mumbai

بہرام پاڑہ اورگھاس بازارکے مکینوںنے الزام عائدکیاکہ اس علاقے کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے،نہ توراستہ ٹھیک ہے اورنہ ہی گندے پانی کی نکاسی کا نظام

The plight of locals and passers-by can be gauged by looking at this road in Bahrampara.
بہرام پاڑہ کی اس سڑک کو دیکھ کر مقامی افراد اور راہ گیروں کی پریشانی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ (تصویر: انقلاب)

ومضافات کے یوں تو کئی علاقے ایسے ہیں جہاںراہ گیروں کا چلنا پھرنا دشوار ہے۔ ان ہی میںباندرہ کابہرام پاڑہ اورگھاس بازار علاقہ شامل ہے ۔یہاںتھوڑی دیر کی بارش سے سڑک اور گلیوں میںاس قدر پانی جمع ہوجاتا ہے کہ راہ گیروں کا راستہ چلنا اورمصلیان کاپاک صاف طریقے سے مسجد پہنچنا  دشوار ہوجاتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ایک ، دو دن نہیںبلکہ یہاںکے مکین ان مسائل کابارش کے پورے موسم میںسامنا کرتے ہیں۔ اسی راستے سے ہزاروں لوگ ریلوے اسٹیشن بھی آتے جاتے ہیں۔مکینوںنے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ خود دیکھ لیجئے ،ایسالگتا ہے کہ اس علاقے کویتیم چھوڑ دیا گیا ہے ،نہ تو کارپوریٹر نے کوئی ذمہ داری نبھائی اورنہ ہی ایم ایل اے نے مسائل کے حل کی جانب توجہ دی ۔ مکینوں کی یہ برہمی بالکل درست ہے ،خود اس نمائندے نےبھی علاقے کا دورہ کیا اور بارش کے دوران مسجد جا کر بھی اندازہ لگایا  تو حالات کو بالکل ویسا ہی پایا۔
 محمد صدیق تاراپور والا نےکہاکہ ’’ یہ حقیقت ہے کہ اس علاقے کویتیم چھوڑ دیا گیا ہے اورکام کے نام پرمحض خانہ پُری کی جاتی ہے۔‘‘ انہوںنے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ’’سابق کارپوریٹر س نے محض اپنی جیبیں بھری ہیں، جس سے مسائل جوں کے توں ہیں اورہرسال ان ہی دقتوں سے مکین دوچار ہوتے ہیں،نہ تو بی ایم سی کوکوئی مطلب ہے اورنہ ہی کارپوریٹر ان مسائل کے حل میں سنجیدہ ہے ۔‘‘ 
 بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن کی صدر خاتون شیخ نے کہاکہ ’’ گھاس بازار، ۱۸؍نمبر گیٹ ، فلائی اوور سے کھار روڈ تک یہی حالت ہے۔ ایک جانب راستے میںگندہ پانی جمع رہتا ہے تودوسری جانب کا حصہ گندگی سے اٹا رہتا ہے ۔ وہ تصاویر بھی ہم نے مقامی ایم ایل اے ، بی ایم سی اہلکاروں کو بھیجیں،خط لکھا لیکن کوئی حل نہیںنکلا ہے ا س لئے ہم لوگ سنیچر کو اس کے خلاف احتجاج بھی کریںگے۔‘‘
 گھاس بازار کے دکاندار محمداظہر نے بتایاکہ ’’ تھوڑی سی بارش میں یہاںیہ حال ہوجاتا ہے کہ ہم لوگوںکو دکان سے اترنے کیلئے بھی سوچنا پڑتا ہے ۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’ مصلیان کا گھاس بازارکی مسجد تک پہنچنا مشکل ہوجاتا ہےاورمسجد پہنچنے پر ذہن میںیہ خیال آتا رہتا ہے کہ پاکی کے ساتھ پہنچے ہیں یا نہیں۔‘‘
 بہرام پاڑہ میںمقیم محمدیونس نے بتایاکہ ’’کسی کوکچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیںہے بلکہ بارش کے وقت بیٹ چوکی نمبر ۶؍ کے پاس کھڑے ہوجائیے، ساری کیفیت خود ہی سمجھ میںآجائے گی۔‘‘ ان کے مطابق ’’یہاں سڑک پراس قدر کیچڑ اورگڑھے ہیں کہ پتہ ہی نہیں چلتا ہے کہ سڑک پرگڑھے ہیںیا گڑھے میںسڑک ہے، کارپوریٹر نے کتنا کام کیا ہے ،اس سے اس کے دعوے کوبھی سمجھ لیجئے ۔‘‘
 یہ علاقہ وارڈنمبر۹۶؍میںآتا ہے جونئی حد بندی میں وارڈ نمبر ۹۹؍ ہوگیا ہے۔ اس کے سابق کارپوریٹرحاجی حلیم خان نے کہاکہ ’’ عوام کی شکایت بالکل درست ہے اورواقعی یہاںراستے میں گڑھے بھی بہت زیادہ ہیںاورتھوڑی دیر بارش میںپانی بھی جمع ہوجاتا ہے۔‘‘ لیکن انہوںنے اس کے لئے ریلوے انتظامیہ کویہ کہتے ہوئے ذمہ دار ٹھہرایا کہ گھاس بازار کےپاس ریلوے ٹریک کےنیچے نالا بناکراسے چمڑا باڑی نالے (باندرہ اسٹیشن سے متصل بڑا نالا) سے جوڑنا ہوگا لیکن ریلوے نہ توخود یہ کام کررہا ہے اورنہ ہی بی ایم سی کو اجازت دے رہی ہے۔اس لئے سالہا سال سے پانی کی نکاسی کایہ مسئلہ برقرار ہے۔‘‘ انہوں نے سڑک پرگڑھوں کےتعلق سے کہاکہ ’’ باندرہ اسٹیشن بیٹ چوکی نمبر۶؍سے کھار تک کنکریٹ کی سڑک بنانے کی کارپوریٹروں کی مدت ِ کار ختم ہونے سے قبل ہی منظوری مل چکی ہے اورفنڈ بھی منظور ہوچکا ہے، بارش کےسبب کام شروع نہ ہوسکا  لیکن امید ہےکہ مانسون کے بعد کام شروع ہوگا اور لوگوں کو اس پریشانی سے نجات مل جائے گی۔‘‘ 

bandra Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK