Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگلہ دیش: ۱۲۵؍ سال پرانے اسکول کے بانی کے ہندوستانی پوتے کا شاندار استقبال

Updated: August 24, 2026, 6:01 PM IST | Dhaka

بنگلہ دیش کے ڈھاکہ میں ۱۲۵؍ سال قبل قائم کیے گئے اسکول کی سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کیلئے اس کے بانی بینود بہاری پال کے پوتے انجَن کرشنا پال بھارت سے بنگلہ دیش پہنچے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے موجودہ کشیدہ تعلقات کے باوجود پال کے استقبال نے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان مشترکہ زبان، ثقافت اور تاریخی رشتوں کی مضبوطی کو اجاگر کیا۔

Anjankrishna Pal with school administrators. Photo: INN
انجَن کرشنا پال اسکول کے منتظمین کے ساتھ۔ تصویر: آئی این این

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ۱۲۵؍ سال پرانے ایک اسکول نے سرحدوں، سیاسی اتھل پتھل اور نسلوں کے گزرنے کے باوجود قائم رہنے والے باہمی تعلقات کی ایک داستان تازہ کردی ہے۔ مالدہ سے تعلق رکھنے والے ۷۰؍ برس سے زائد عمر کے بزنس مین انجَن کرشنا پال جمعہ کو بنگلہ دیش پہنچے تاکہ اس اسکول کی ۱۲۵؍ ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کر سکیں، جس کی بنیاد ان کے دادا بینود بہاری پال نے ۱۹۰۱ء میں ڈھاکہ میں رکھی تھی۔ اس وقت ڈھاکہ متحدہ بنگال پریزیڈنسی کا حصہ تھا۔ پال نے انگلش بازار کے مہدی پور لینڈ پورٹ کے راستے سرحد عبور کی۔ انہیں ڈھاکہ کے منشی گنج، سرینگر میں واقع بیل تلی گنگاپرساد جگن ناتھ ہائی اسکول کی انتظامیہ کی جانب سے بار بار دعوت دی گئی تھی۔

اسکول کیلئے پال محض بھارت سے آنے والے ایک مہمان نہیں تھے، بلکہ وہ اس شخص کے خاندان کی نمائندگی کر رہے تھے جس کی تعلیمی خدمات کو ۱۲۵؍ سال گزرنے کے باوجود علاقے میں یاد کیا جاتا ہے۔ پال نے کہا، ’’سب سے پہلے انہوں نے فون پر مجھ سے رابطہ کیا۔ اس کے بعد اسکول کی ۱۲۵؍ ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کی درخواست کے ساتھ ایک غیر رسمی خط بھیجا گیا اور پھر باقاعدہ دعوت نامہ بھی ارسال کیا گیا۔ بات یہاں تک محدود نہیں رہی۔ اسکول کے ہیڈ ٹیچر محی الدین میاں نے واٹس ایپ کے ذریعے بھی بار بار مجھ سے درخواست کی کہ میں ہر صورت تقریب میں شرکت کروں۔ ایسی پُرخلوص دعوت کو نظر انداز کرنا میرے لیے ممکن نہیں تھا۔‘‘ سرحد عبور کرنے کے بعد یہ گرمجوشی مزید بڑھ گئی۔ بنگلہ دیش میں پال کا سونا مسجد بندرگاہ پر استقبال کیا گیا اور وہاں سے انہیں گاڑی کے ذریعے راجشاہی لے جایا گیا۔ بعد ازاں اسکول کے نمائندے انہیں ڈھاکہ لے کر گئے۔ اتوار کو اسکول میں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ انتظامی کمیٹی کے ارکان، اساتذہ، طلبہ، سابق طلبہ، والدین اور مقامی باشندے بڑی تعداد میں جمع ہوئے تاکہ ادارے کے بانی کے پوتے سے ملاقات کر سکیں اور اس تعلیمی ادارے کے قیام پر بینود بہاری پال کیلئے اپنی تشکر کا اظہار کریں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں عالمی تحفظ کی تعیناتی ضروری: اقوام متحدہ

یہ استقبال ایسے وقت میں مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے جب اگست ۲۰۲۴ء میں شیخ حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ دونوں جانب کے بعض حلقوں کی جانب سے ہونے والی تلخ بیاناتی کشمکش نے بھی بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔ تاہم پال نے کہا کہ بنگلہ دیش میں ان کا تجربہ اس کے بالکل برعکس تصویر پیش کرتا ہے۔ پال نے ڈھاکہ سے فون پر دی ٹیلی گراف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میں ان کی گرمجوشی سے بے حد متاثر ہوا ہوں۔ انہوں نے میرے قیام کیلئے بہترین انتظامات کیے ہیں۔ ایک کے بعد ایک دوپہر اور رات کے کھانے کی دعوتیں آ رہی ہیں اور میں سب میں شرکت کر رہا ہوں، کیونکہ ایسی خلوص بھری دعوت کو ٹھکرایا نہیں جا سکتا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایران کے خلاف امریکہ کا ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ منصوبہ، نئی پابندیوں کا اعلان متوقع

پال کے مطابق تقریبات کے دوران بینود بہاری پال کی یاد بھی نمایاں ہے، جن کی تصویر اسکول کے ہیڈ ٹیچر کے کمرے کی دیوار پر انتہائی احترام کے ساتھ آویزاں ہے۔ پال کے مطابق اسکول قائم کرنے کے عزم نے ایک وقت میں ان کے دادا کو اپنے ہی خاندان سے اختلاف پر مجبور کر دیا تھا۔ جب ان کے والد اور چچا نے اسکول کے قیام پر آنے والے اخراجات پر اعتراض کیا تو بینود بہاری نے اسکول قائم کرنے کا اپنا وعدہ ترک کرنے کے بجائے خاندان چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ بالآخر ان کی دادی رادھاپیاری نے ایک بڑی رقم دے کر اس وعدے کو پورا کرنے میں ان کی مدد کی۔ بعد میں بینود بہاری نے ان کے نام پر لڑکیوں کیلئے ایک اسکول بھی قائم کیا۔ پال نے کہا، ’’اسکول قائم کرنے کیلئے ان کا عزم قابلِ ذکر تھا۔‘‘ پال بدھ کو ڈھاکہ سے واپس روانہ ہوں گے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس دورے نے انہیں ایک گہرا احساس دیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’دوطرفہ تعلقات میں کچھ تلخی اور کچھ غلط فہمیاں ہو سکتی ہیں، لیکن مجموعی طور پر ایک ہی زبان، موسم، ثقافت اور جذبات رکھنے والے دونوں بنگال کے اکثریتی عوام کے درمیان دوستانہ تعلقات کو اتنی آسانی سے تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK