Updated: August 24, 2026, 8:08 PM IST
| Tokyo
مرکزی وزیر تجارت اور صنعت پیوش گوئل نے ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ اور خدمات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان میں سیمی کنڈکٹرز کی گھریلو طلب اگلے پانچ برسوں میں ۱۵۰؍ ارب ڈالرس تک پہنچنے کا امکان ہے اور جاپان کی بہت سی کمپنیاں ہندوستان کے اس شعبے کی جانب راغب ہورہی ہیں۔
مرکزی وزیر تجارت اور صنعت پیوش گوئل نے ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ اور خدمات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان میں سیمی کنڈکٹرز کی گھریلو طلب اگلے پانچ برسوں میں ۱۵۰؍ ارب ڈالرس تک پہنچنے کا امکان ہے اور جاپان کی بہت سی کمپنیاں ہندوستان کے اس شعبے کی جانب راغب ہورہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:شری رام اور انیرودھ نے کینکن کنٹری اوپن کا ڈبلز خطاب جیت لیا
گوئل اس وقت ایک بڑے تجارتی وفد کے ساتھ جاپان کے دورے پر ہیں۔ وہ جاپانی میڈیا ادارے نکی ایشیا کے زیر اہتمام ایک مباحثے میں ڈجیٹل ہارڈویئر، ڈیٹا سینٹرز اور دیگر شعبوں کے امکانات سے متعلق سوالات کے جواب دے رہے تھے۔ ہندوستان میں سیمی کنڈکٹر (مائیکرو چِپ) مینوفیکچرنگ کی ترقی کے بارے میںگوئل نے کہا کہ ملک میں ہی اس کی بہت بڑی مارکیٹ موجود ہے۔ انہوں نے کہاکہ پہلے ہمارا اندازہ تھا کہ ہندوستان میں۲۰۳۰ء تک سیمی کنڈکٹرز کی طلب ۱۰۰؍ ارب ڈالر ہوگی، لیکن ہمارے یہاں متوسط طبقے کے جس طرح پھیلاؤ ہورہا ہے، اس سے اگلے پانچ برسوں میں اس کی طلب ۱۵۰؍ ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ متوسط طبقہ الیکٹرانک اشیا کا بڑا صارف ہے اور اس سے ہندوستان میں سیمی کنڈکٹر مارکیٹ کے امکانات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
ڈیٹا سینٹرز، گلوبل کیپیسٹی سینٹرز (جی سی سی) اور خلائی شعبے جیسے شعبوں میں ہندوستان اور جاپان کے درمیان تعاون کے امکانات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کی شراکت داری دنیا میں بہترین نتائج پیش کرسکتی ہے۔ گوئل نے کہاکہ حکومت ہند سیمی کنڈکٹر صنعت کو مکمل تعاون فراہم کررہی ہے۔ جاپان کی بہت سی کمپنیوں کو ہندوستان کی یہ صنعت پرکشش لگ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اجے دیوگن کی ’’دِریشیم ۳‘‘ کا نیا نام’’دِریشیم: دی کنکلوژن‘‘
انہوں نے زیادہ توانائی استعمال کرنے والے ڈیٹا سینٹرز کے حوالے سے بجلی کی مضبوط فراہمی کے نظام کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ۲۰۱۴ء میں مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے وقت ملک کا بجلی گرڈ مختلف ریاستوں اور علاقوں میں منقسم تھا اور شمسی توانائی کی نصب شدہ صلاحیت صرف دو گیگاواٹ تھی۔