• Wed, 14 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگلہ دیش واپسی کا مقصد جمہوریت کی بحالی: شیخ حسینہ

Updated: October 14, 2026, 9:01 PM IST | New Delhi

بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے ایک بیان میں کہا کہ ان کا بنگلہ دیش واپسی کا مقصد جمہوریت کی بحالی ہے،پی ٹی آئی نیوز ایجنسی کو انٹرویو میں حسینہ نے طارق رحمان حکومت پر سخت حملہ کیا اور کہا کہ موجودہ نظام کے تحت بنگلہ دیش شدید قومی بحران سے گزر رہا ہے اور اس کی جمہوریت ختم ہو گئی ہے۔

Bangladesh Former Prime Minister Sheikh Hasina . Photo: INN
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ۔ تصویر: آئی این این

بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے ایک بیان میں کہا کہ ان کا بنگلہ دیش واپسی کا مقصد جمہوریت کی بحالی ہے،پی ٹی آئی نیوز ایجنسی کو انٹرویو میں حسینہ نے طارق رحمان حکومت پر سخت حملہ کیا اور کہا کہ موجودہ نظام کے تحت بنگلہ دیش شدید قومی بحران سے گزر رہا ہے اور اس کی جمہوریت ختم ہو گئی ہے۔حسینہ نے کہا، ’’انتہا پسند قوتوں نے اب بنگلہ دیش میں دوبارہ جگہ حاصل کر لی ہے،بنگلہ دیش کے عوام کو آزادانہ، منصفانہ اور جامع انتخابات کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے، میری واپسی اہم ہوگی کیونکہ یہ بنگلہ دیش کو اس کے عوام کے پاس واپس لانے کی جانب ایک قدم ہوگا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: خسرہ کی وباء، ۹۰۰؍ ہلاکرتیں، ویکسینیشن کی اہمیت پر زور

واضح رہے کہ شیخ حسینہ۲۰۲۴ء میں بنگلہ دیش کی عوامی بغاوت کے دوران بے دخلی کے بعد سے ہندوستان میں ایک نامعلوم مقام پر مقیم ہیں۔ اس سال ستمبر میں حسینہ نے کہا تھا کہ وہ بنگلہ دیش واپس آنے اور قید کا سامنا کرنے کی تیاری کر رہی ہیں، لیکن بڑا سوال یہ باقی ہے کہ کیسے ۔انہوں نے پی ٹی آئی کو بتایا، ’’میں بنگلہ دیش کے عوام کے ساتھ کھڑی ہونا چاہتی ہوں، ان کے حقوق کے لیے لڑنا چاہتی ہوں، اور جمہوریت، سلامتی اور ترقی کی بحالی میں مدد کرنا چاہتی ہوں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایران نے امریکی جنگی جہازوں کو ڈبونے کی دھمکی دی؛ ہرمز پر ”امریکی افواج کا کنٹرول“: سینٹ کام

طارق رحمان کے برکس سربراہی اجلاس چھوڑنے پر
وزیر اعظم رحمان کے برکس سربراہی اجلاس چھوڑنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے اس فیصلے کو ’’ناپختہ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس سے بنگلہ دیش کے قومی مفاد کو نقصان پہنچا۔حسینہ نے کہا، ’’یہ انتہائی بدقسمتی تھی کہ بنگلہ دیش نے ہندوستان میں برکس سربراہی اجلاس میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا۔ برکس سربراہی اجلاس میں بنگلہ دیش کی شرکت نے اس کی معاشی اور سماجی ترقی کے لیے نئے مواقع کھولے ہوتے۔‘‘بعد ازاں انہوں نے رائے دی کہ خارجہ پالیسی ذاتی ردعمل یا قلیل مدتی سیاسی حساب کتاب کے ذریعے نہیں چلائی جا سکتی۔ حسینہ نے کہا، ’’بنگلہ دیش کو ایک پختہ، متوازن اور پراعتماد خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK