• Wed, 14 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران نے امریکی جنگی جہازوں کو ڈبونے کی دھمکی دی؛ ہرمز پر ”امریکی افواج کا کنٹرول“: سینٹ کام

Updated: October 14, 2026, 7:09 PM IST | Washington/Tehran

رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامین نیتن یاہو نے دونوں ممالک میں انتخابات سے قبل ایران کے خلاف ایک بڑے نئے آپریشن کے آغاز پر تبادلہ خیال کیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ بات چیت ٹرمپ کی جانب سے عوامی سطح پر یہ کہنے سے پہلے ہوئی تھی کہ وہ ۳ نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا (IRNA) کے مطابق، سپاہِ پاسدارانِ انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کی بحریہ کے ایک سینئر کمانڈر نے منگل کے روز آبنائے ہرمز کے قریب آنے کی صورت میں امریکی جنگی جہازوں کو ڈبونے کی دھمکی دی، جس پر امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔

ریئر ایڈمرل علی عظمائی نے ٹیلی ویژن پر دیئے گئے ایک بیان میں کہا کہ ”ہم امریکی جنگی جہازوں کے آبنائے ہرمز کے دہانے کے قریب آنے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ ہم انہیں ڈبو سکیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی افواج ”الٹی گنتی گن رہی ہیں۔“ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی جنگی جہاز اس آبی گزرگاہ کے قریب آنے کی ”جرات نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ ۱۳ ارب ڈالر کی لاگت کا ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ۷۰۰ کلومیٹر دور چلا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ انسانی حقوق کے محافظ کا کردار دوبارہ ادا کرے: نوبیل امن فاتح نوی پلّے

انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر امریکی یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے یا بند، تو وہ میدان میں آئیں اور دیکھیں کہ اس پر کس کا کنٹرول ہے۔“ عظمائی نے کہا کہ آئی آر جی سی بحریہ آبنائے اور خلیج کو کنٹرول کرتی ہے، جبکہ ایران کی باقاعدہ بحریہ خلیجِ عمان کو کنٹرول کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی آر جی سی ”اسمارٹ کنٹرول“ نافذ کرتی ہے، جس کے تحت ایران آنے اور جانے والے جہازوں کو اجازت نامے جاری کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جنگ کے آغاز کے مقابلے میں اب ایرانی افواج بہتر طور پر تیار ہیں۔

سینٹ کام کا جواب

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس (X) پر ایرانی کمانڈر کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔ اس نے کہا کہ ”آئی آر جی سی کے بحریہ کمانڈر کے پاس کوئی بحریہ نہیں ہے۔ آبنائے ہرمز پر واضح طور پر امریکی افواج اور علاقائی شراکت داروں کا کنٹرول ہے۔“ کمانڈ نے مزید کہا کہ امریکی افواج نے پیر کے روز خلیجی شراکت داروں کو آبنائے کے راستے ۱۹ ملین بیرل سے زائد خام تیل کی ترسیل میں مدد فراہم کی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کو عدالتی جھٹکا، سی این این، ایم ایس ناؤ، پولیٹیکو پر پابندی روک دی گئی

ٹرمپ کا مزید کارروائی کا اشارہ

وسلا، الاسکا میں ایک انتخابی ریلی کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ”انتظار کریں اور دیکھیں کہ ہم ایران کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ ہم ایک زبردست ضرب لگانے والے ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”وہ بس انتظار کر رہے ہیں۔“ انہوں نے واضح کیا کہ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوگا۔

ایکسیوس (Axios) نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامین نیتن یاہو نے دونوں ممالک میں انتخابات سے قبل ایران کے خلاف ایک بڑے نئے آپریشن کے آغاز پر تبادلہ خیال کیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ بات چیت ٹرمپ کی جانب سے عوامی سطح پر یہ کہنے سے پہلے ہوئی تھی کہ وہ ۳ نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھئے: حملے میں۹۵۰؍ حوثی جنگجو ہلاک،۳۸۰؍ گاڑیاں تباہ: یمنی سرکاری فورسیز

ایرانی کشتی پر ڈرون حملہ

مقامی حکام نے تسنیم نیوز ایجنسی کو بتایا کہ بدھ کے روز جنوبی ایران کے صوبہ ہرمزگان میں سیریک کے ساحل کے قریب ایک ماہی گیری کی کشتی پر نامعلوم ڈرون حملے میں تین افراد زخمی ہوگئے۔ ڈرون کے ماخذ کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی ہے۔

پاکستان کی صبر کی اپیل

پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے واشنگٹن اور تہران پر زور دیا کہ وہ جون میں طے پانے والی اسلام آباد ایم او یو کی پاسداری کریں اور اختلافات کو گفتگو کے ذریعے حل کریں۔ روسی وزیرِ داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف کے ساتھ ملاقات کے دوران انہوں نے آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے راستے محفوظ جہاز رانی پر زور دیا اور جہاز رانی اور توانائی کی تنصیبات پر حملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK