• Mon, 07 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

باسمتی چاول کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنے کو تیار رہیں

Updated: September 07, 2026, 8:03 PM IST | New Delhi

باسمتی چاول کے شوقین صارفین کو آنے والے دنوں میں اس کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ رواں سیزن میں باسمتی دھان کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور اس بار باسمتی دھان گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ۱۰۰۰؍ روپے فی کوئنٹل مہنگا فروخت ہو رہا ہے۔

Basmati Rice.Photo:INN
باسمتی چاول۔ تصویر:آئی این این

باسمتی چاول کے شوقین صارفین کو آنے والے دنوں میں اس کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ رواں سیزن میں باسمتی دھان کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور اس بار باسمتی دھان گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ۱۰۰۰؍ روپے فی کوئنٹل مہنگا  فروخت ہو رہا ہے۔ تجارتی ذرائع کے مطابق باسمتی دھان کی قیمتوں میں اضافے کا اثر آنے والے دنوں میں چاول کی ہول سیل اور ریٹیل قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ باسمتی چاول کی پیداوار، منڈی کی قیمت، طلب اور برآمدی صورتحال اس کی حتمی قیمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:الٹیمیٹ فریسبی میں ہندوستان کی عالمی ٹاپ ۲۰؍ میں شمولیت

رواں سیزن میں کسانوں کو باسمتی دھان کی بہتر قیمت مل رہی ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس کی قیمت میں تقریباً ۱۰۰۰؍ روپے فی کوئنٹل  کا اضافہ بتایا جا رہا ہے۔ دھان کی قیمت بڑھنے سے ملوں اور تاجروں کی لاگت بھی بڑھتی ہے، جس کے نتیجے میں تیار باسمتی چاول مہنگا ہونے کا امکان رہتا ہے۔ باسمتی چاول کی قیمتوں پر گھریلو طلب کے ساتھ ساتھ عالمی مارکیٹ میں ہندوستانی باسمتی کی مانگ بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ ہندوستان دنیا کے بڑے باسمتی چاول برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور مشرق وسطیٰ سمیت کئی بین الاقوامی بازاروں میں ہندوستانی باسمتی کی مضبوط مانگ ہے۔
دھان کی قیمت میں اضافے کا براہِ راست اثر چاول کی قیمت پر فوری طور پر پڑنا ضروری نہیں کیونکہ چاول کی قیمت میں ملنگ، پیکنگ، نقل و حمل، ذخیرہ اندوزی اور دیگر اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔ تاہم اگر دھان کی بلند قیمت برقرار رہتی ہے تو اس کا اثر بتدریج باسمتی چاول کی ہول سیل اور ریٹیل قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔اس صورتحال میں تہواروں اور شادیوں کے سیزن کے دوران باسمتی چاول کی طلب میں اضافہ ہونے پر قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:میکلمور کے’ ’فری فلسطین‘‘ مطالبے پر تنازع، ایڈ شیرن کے ٹور سے ہٹانے کی درخواست

باسمتی دھان کی زیادہ قیمت کسانوں کے لیے مثبت خبر ہے، کیونکہ انہیں اپنی پیداوار کی بہتر آمدنی مل سکتی ہے۔ تاہم دوسری جانب چاول خریدنے والے صارفین کے لیے قیمتوں میں اضافہ تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق آنے والے ہفتوں میں منڈیوں میں باسمتی دھان کی آمد، برآمدی طلب اور عالمی مارکیٹ کی صورتحال اس بات کا تعین کرے گی کہ چاول کی قیمتیں مزید بڑھتی ہیں یا موجودہ سطح کے آس پاس برقرار رہتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK