پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء کو ہندوستان کے خلاف ویمنز ایشیا کپ کے گروپ اے کے میچ میں ہندوستانی اوپنر شفالی ورما کو آؤٹ کرنے کے بعد پویلین کی جانب اشارہ کرنے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے سزا دی ہے۔
EPAPER
Updated: September 07, 2026, 8:02 PM IST | Dubai
پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء کو ہندوستان کے خلاف ویمنز ایشیا کپ کے گروپ اے کے میچ میں ہندوستانی اوپنر شفالی ورما کو آؤٹ کرنے کے بعد پویلین کی جانب اشارہ کرنے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے سزا دی ہے۔
پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثناء کو ہندوستان کے خلاف ویمنز ایشیا کپ کے گروپ اے کے میچ میں ہندوستانی اوپنر شفالی ورما کو آؤٹ کرنے کے بعد پویلین کی جانب اشارہ کرنے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی ) نے سزا دی ہے۔ آئی سی سی نے فاطمہ ثناء پر ان کی میچ فیس کا ۱۰؍ فیصد جرمانہ عائد کیا ہے جبکہ ان کے ڈسپلنری ریکارڈ میں ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی شامل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اب خوف کو پیچھے چھوڑنے کا وقت ہے، ایشا رِکھی نے ’’بگ باس ۲۰‘‘ میں آنے کی وجہ بتائی
یہ واقعہ دبئی میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کھیلے گئے ویمنز ایشیا کپ کے میچ کے دوران پیش آیا۔ ہندوستان کی اننگز کے دوسرے اوور میں فاطمہ ثناء نے شفالی ورما کو کیچ اینڈ بولڈ کرکے پویلین بھیجا۔ وکٹ حاصل کرنے کے بعد پاکستانی کپتان نے شفالی ورما کو پویلین کی جانب جانے کا اشارہ کیا، جسے میچ آفیشلز نے نامناسب ’سینڈ آف‘ قرار دیا۔ آئی سی سی کے مطابق فاطمہ ثناء نے لیول ون، آرٹیکل ۲۔۵؍ کی خلاف ورزی کی۔ یہ شق ایسے الفاظ، حرکات یا اشاروں سے متعلق ہے جو کسی بلے باز کی تضحیک کریں یا اس کے آؤٹ ہونے کے بعد جارحانہ ردعمل کو اکسا سکتے ہوں۔
فاطمہ ثناء نے اپنی غلطی تسلیم کرلی اور میچ ریفری سپریا رانی داس کی جانب سے تجویز کردہ سزا کو قبول کرلیا، جس کے بعد باقاعدہ سماعت کی ضرورت نہیں پڑی۔ میدان پر موجود امپائرز نمالی پریرا اور شتھیرا ذاکر جیسی، تھرڈ امپائر رُقیہ سلطانہ اور فورتھ امپائر رباب احسن نے ان کے خلاف چارج عائد کیا تھا۔
یہ فاطمہ ثناء کی گزشتہ ۲۴؍ ماہ کے دوران ضابطۂ اخلاق کی دوسری خلاف ورزی ہے۔ اس سے قبل انہیں ۶ ؍اگست ۲۰۲۵ء کو ڈبلن میں آئرلینڈ کے خلاف ٹی ۲۰؍ انٹرنیشنل میچ کے دوران ایک ڈی میرٹ پوائنٹ دیا گیا تھا۔ تازہ سزا کے بعد ان کے ۲۴؍ ماہ کے ریکارڈ میں مجموعی طور پر دو ڈی میرٹ پوائنٹس ہوگئے ہیں۔ آئی سی سی کے ضابطے کے مطابق لیول ون کی خلاف ورزی پر سرزنش سے لے کر کھلاڑی کی میچ فیس کے زیادہ سے زیادہ ۵۰ ؍فیصد تک جرمانہ اور ایک یا دو ڈی میرٹ پوائنٹس دیے جاسکتے ہیں۔ اگر کسی کھلاڑی کے ۲۴؍ ماہ کے دوران چار یا اس سے زیادہ ڈی میرٹ پوائنٹس ہوجائیں تو انہیں معطلی کے پوائنٹس میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:دلیپ ٹرافی فائنل:ایشان کشن ٹرپل سنچری سے محروم ، ایسٹ زون نے ۷۰۸؍ رنز بنائے
دلچسپ بات یہ ہے کہ فاطمہ ثناء نے اس میچ میں گیند سے پاکستان کے لیے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ۳؍ اوورز میں ۱۷؍ رنز دے کر ۳ ؍وکٹ حاصل کئے اور شفالی ورما کے علاوہ پرتیکا راول اور اسمرتی مندھانا کو بھی پویلین بھیجا۔ تاہم ان کی یہ کارکردگی پاکستان کو شکست سے نہ بچا سکی۔ پاکستان کی پوری ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے صرف ۵۵؍ رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔ جواب میں ہندوستان نے ۴ء۸؍ اوورز میں ۳ ؍وکٹوں کے نقصان پر ہدف حاصل کرکے ۷ ؍وکٹ سے کامیابی حاصل کی۔ شفالی ورما نے ۶ ؍گیندوں پر ۱۲؍ رنز بنائے اور بعد میں ان کی وکٹ فاطمہ ثناء نے حاصل کی۔ فاطمہ ثناء کے ’سینڈ آف‘ اشارے نے میچ کے بعد خاصی توجہ حاصل کی، تاہم آئی سی سی کی کارروائی کے بعد اب پاکستانی کپتان کو اپنے ڈسپلنری ریکارڈ میں ایک اور ڈی میرٹ پوائنٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔