ہائی کورٹ نے حادثہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کی ،پولیس میںدرج کی گئی ایف آئی آر میں بنگلورکی ٹیم کےعلاوہ کر ناٹک اسٹیٹ کرکٹ اسوسی ایشن کا نام بھی شامل
EPAPER
Updated: June 05, 2025, 11:47 PM IST | Bangalore
ہائی کورٹ نے حادثہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کی ،پولیس میںدرج کی گئی ایف آئی آر میں بنگلورکی ٹیم کےعلاوہ کر ناٹک اسٹیٹ کرکٹ اسوسی ایشن کا نام بھی شامل
پہلی بار آئی پی ایل چمپئن بننے والے رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) کا جشن بدھ کو ایک بڑے حادثے میں بدل گیا۔ چناسوامی اسٹیڈیم کے باہر فاتح ٹیم کے کھلاڑیوں کے استقبال کیلئے جمع ہونے والوں میںمچنے والی بھگدڑ میں ۱۱؍ افراد ہلاک ہوگئے ۔۳۳؍زخمی ہیں ۔ تمام متوفیوں کی عمریں ۳۵؍ سال سے کم تھیں، ان میں ۳؍ نوجوان تھے ۔ اس حادثے پر کرناٹک ہائی کورٹ نے کارروائی کی ہے۔ اس معاملے پرکرناٹک ہائی کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کی ہے اورکرناٹک حکومت کو نوٹس بھی جاری کیا ہے۔ کرناٹک حکومت نے عدالت کو بتایا کہ بھگدڑ کے بعد زخمیوں کو فوری علاج فراہم کیا گیا۔۱۳۸۰؍پولیس اہلکار تعینات کئے گئے۔ بنچ نے اٹارنی جنرل کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ اگلی سماعت ۱۰؍ جون کو ہوگی ۔ سماجی کارکن اسنیہمئی کرشنا کے وکیل نے مطالبہ کیا کہ آئی پی ایل اور دیگر ذمہ داروں کو بھی اس حادثہ کیلئے نوٹس جاری کیا جائے۔ اس پر بنچ نے کہا کہ اسٹیٹس رپورٹ آنے کے بعد اس پر غور کیا جائے گا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ چنا سوامی بھگدڑ کی وجوہات جاننے کیلئے اور مستقبل میں ایسے حادثات کوروکنے کے اقدامات سے متعلق ہمیں متعدد خطوط ملے ہیں، اسی پر ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کیا جا رہا ہے ۔اس کیس کی سماعت کارگزار چیف جسٹس وی کامیشور راؤ اور جسٹس سی ایم جوشی کی بنچ نے کی۔
سماجی کارکن اسنیہمئی کرشنا نے کبن پارک پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے ۔ شکایت میں وزیر اعلیٰ سدارامیا، نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار اور کرناٹک کرکٹ بورڈ پر لاپروائی کا الزام لگایا گیا ہے ۔بنگلور واقعے میں رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) انتظامیہ بھی تفتیش کے دائرے میں آئی ہے ۔ دراصل، ایم چناسوامی اسٹیڈیم میں بھگدڑ سے چند گھنٹے قبل آر سی بی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جیت کے جلوس کا اعلان کیا گیا تھا۔
۴؍ نکات میں سمجھیں اتنا بڑا حادثہ کیوں اور کیسے ہوا؟
nمفت پاس کے ساتھ اسٹیڈیم میں داخلہ: اس پاس کو آر سی بی کی ویب سائٹ سے حاصل کرنا تھا ۔ بدھ کو اس اعلان کے بعد جب لوگوں کی بڑی تعداد ویب سائٹ پر آنا شروع ہوئی تو سائٹ کریش ہو گئی۔ جن کے پاس پاس تھے ان کے ساتھ بغیر پاس والے بھی اسٹیڈیم پہنچ گئے۔ جس کی وجہ سے بےانتہا بھیڑ ہوگئی۔
nابتدائی تحقیقات کے مطابق ہجوم نے اسٹیڈیم میں داخل ہونے کیلئے گیٹ نمبر۱۰؍،۱۲؍ اور۱۳؍کو توڑنے کی کوشش کی۔ پولیس نے لاٹھی چارج کیا ۔ نالے پر رکھا سلیب گر گیا اور پھر ہلکی بارش کے درمیان بھگدڑ مچ گئی۔
nدوپہر تقریباً ساڑھے ۳؍ بجے بھیڑ اور بڑھ گئی اور تمام دروازے بند کر دیے گئے۔ جس کی وجہ سے آس پاس کے لوگ بھی اندر نہیں جا سکے۔ ہنگامہ شروع ہو گیا ۔ گیٹ نمبر۱۰؍پر صورتحال مزید خراب ہوگئی۔ پولیس خواتین اور بچوں کو پیچھے دھکیلنے لگی جس میں کچھ خواتین بے ہوش ہو گئیں۔
nحکومت نے کہاکہ موقع پر۵؍ ہزارسیکوریٹی اہلکار تھے، لیکن بھیڑ بہت زیادہ تھی۔ اس لیے وکٹری پریڈ نہیں ہو سکی۔ ذرائع کے مطابق ان میں سے زیادہ تر پولیس اہلکار گزشتہ ۳۶؍ گھنٹے سےڈیوٹی پر موجود تھے۔
از خود نوٹس کو از خود رٹ پٹیشن کے طورپر لیاجائے :ہائیکورٹ
ہائی کورٹ نے کہاکہ ہم نے اس پورے معاملے میں ایڈوکیٹ جنرل سے اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے اسٹیٹس رپورٹ درج کرائی ہے جسے ریکارڈ پر لے لیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ نے رجسٹری کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس ازخود نوٹس کو سوموٹو رِٹ پٹیشن کی طرح رجسٹر کرے۔ اگلی سماعت منگل۱۰؍ جون کو ہوگی ۔ یہ بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ ہائی کورٹ نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے از خود نوٹس لیا ہے اور اب عدالتی نگرانی میں تفصیلی تحقیقات کی جائیں گی۔
زخمیوں کو اسپتال سے فارغ کر دیا گیا
بنگلور بھگدڑ حادثے میں زیادہ تر زخمیوں کو بارنگ اور لیڈی کرزن اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ وہاں داخل ہونے والے ۱۰؍مریضوں میں سے صرف ۲؍ اب بھی زیر علاج ہیں۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ٹی کیمپاراجو نے بتایا کہ چناسوامی اسٹیڈیم میں بھگدڑ کے بعدکل ۱۸؍زخمی اسپتال لائے گئےتھے۔
آر سی بی انتظامیہ بھی زیر تفتیش
حادثےمیں رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) کا انتظامیہ بھی تفتیش کے دائرے میں آیا ہے۔ دراصل، ایم چناسوامی اسٹیڈیم میں بھگدڑ سے چند گھنٹے قبل آر سی بی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جیت کے جلوس کا اعلان کیا گیا تھا۔دوسری جانب کرناٹک اسٹیٹ کرکٹ ایسوسی ایشن(کے ایس سی اے)کے سینئر عہدیداروں کے کردار کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔ کرناٹک پولیس اور مجسٹریٹ انکوائری پینل معاملے کی جانچ کرے گا۔آر سی بی اورکے ایس سی اے کا نام ایف آئی آر میں شامل کیاگیا ہے۔
متوفیوں کی تفصیلات
بھگدڑ میں ہلاک ہونے والے تمام افراد کی عمریں ۳۵؍ سال سے کم تھیں۔ سب سے کم عمر ۱۳؍ سالہ دیویانشی تھی۔ متوفیوںمیں تین کی عمریں ۲۰؍سال سے کم تھیں جبکہ ۶؍کی عمر۲۰؍ سے۳۰؍ سال کے درمیان تھیں ۔ یہ تمام لوگ اپنے دوستوں کے ساتھ رائل چیلنجرز بنگلور کی جیت کا جشن منانے آئے تھے۔ کچھ لوگ بنگلور کے تھے، جب کہ کچھ دوسرے اضلاع سے آئے تھے ۔ مہلوکین میں دیویانشی (۱۳) ، دوریشا (۳۲) ، بھومک (۲۰)، سہانا (۲۵)، اکشتا (۲۷) ، منوج (۱۸)، شراون(۲۰)، دیوی(۲۹)، شیولنگا (۱۷) ، چنئیا(۱۹) اور پرجول(۲۲) شامل ہیں۔
آر سی بی نے ۱۰؍ لاکھ معاوضہ کا اعلان کیا
آئی پی ایل چمپئن آر سی بی کے انتظامیہ نے بنگلور بھگدڑ میںجان گنوانے والوں۱۱؍ افراد کے ا ہل خانہ کیلئے ۱۰؍ لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیاہے ۔ آر سی بی نے جمعرات کو سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا ’’گزشتہ روز بنگلور میںجو بد قسمت سانحہ ہوااس نے آر سی بی فیملی کوگہرے رنج میںمبتلا کردیا ہے،(حادثہ کے متاثرین کیلئے) احترام اور یکجہتی کے طورپرآر سی بی تمام ۱۱؍ متوفیوںکے لواحقین کیلئےدس دس لاکھ روپےکی امداد کا اعلان کرتا ہے۔اس کے علاوہ زخمی مداحوںکو امداد فراہم کرنے اوران کے تعاون کیلئے ’آر سی بی کیئرس‘ کے نام سے ایک فنڈ بھی قائم کیاجارہا ہے۔‘‘