ناگپور میں ایک صارف نے ایسے ہی ایک نمبر پر فون لگایا اور سائبر فراڈ کا شکار ہو گیا ، وہ نمبر جعلسازوں کا نکلا، اکائونٹ سے پیسے غائب
EPAPER
Updated: May 24, 2026, 12:55 AM IST | Nagpur
ناگپور میں ایک صارف نے ایسے ہی ایک نمبر پر فون لگایا اور سائبر فراڈ کا شکار ہو گیا ، وہ نمبر جعلسازوں کا نکلا، اکائونٹ سے پیسے غائب
اب اے ٹی ایم سینٹر پر دیئے گئے ہیلپ لائن نمبر سے بھی صارفین کو آسانی سے سائبر فراڈ کا شکار بنایا جا سکتا ہے۔ کم از کم ناگپور کے بجاج نگر علاقے میں پیش آئے حیران کن واقعے سے تو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔ یہاں اے ٹی ایم میں کارڈ پھنسنے کے بعد ایک شہری نے اے ٹی ایم سینٹر ہی میں لکھے ہوئے ایک نمبر پر کسٹمر سروس سینٹر سے رابطہ کیا اور سائبر فراڈ کا شکار ہو گیا۔ یعنی وہ نمبر جعلسازوں کا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ صارف کے اکائونٹ سے جو لین دین ہوا اس کا کوئی او ٹی پی اسے موصول نہیں ہوا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ پورا معاملہ تقریباً ۲؍ سال قبل کا ہے لیکن پولیس نے اب جا کر معاملہ درج کیا ہے۔
اطلاع کے مطابق ناگپور کے رہنے والے پریہ درشن ایک نجی کمپنی میں اکاؤنٹنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں اورسینٹرل بینک آف انڈیا میں ان کا اکاؤنٹ ہے۔ ۴؍ اگست ۲۰۲۴ءکی دوپہر کو وہ تاتیا ٹوپے نگر علاقے میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے اے ٹی ایم میں رقم نکالنے گئے۔ اس وقت ان کا اے ٹی ایم کارڈ مشین میں پھنس گیا۔ چونکہ مشین کے پاس کسٹمر سروس کا نمبر لکھا ہوا تھا، لہٰذا انہوں نے فوراً اس نمبر پر رابطہ کیا۔ فون پر موجود شخص نے کہا کہ وہ کسٹمر سروس کا نمائندہ ہے اور اس نے کینسل بٹن دبانے، سلور بٹن دبانے اور دوبارہ پن داخل کرنے کی ہدایت دی۔ کچھ دیر بعد کارڈ نکلا۔ اس کے بعد، اس نمائندے نے کہا’’ آپ کا اکاؤنٹ ۲۴؍ گھنٹے کیلئے منجمد کر دیا جائے گا، آپ اس دوران کوئی لین دین نہ کریں۔ پریہ درشن کو اس پر کوئی شبہ ہوا ۔ اسے لگا کہ یہ بینک کا اپنا کوئی عمل ہے۔
تاہم، اس رات ۱۱؍ بج کر ۵۲؍ منٹ سے ۱۱؍ بج کر ۵۴؍ منٹ تک صرف دو منٹ میں، پونم پلازہ مال کے اے ٹی ایم سے ۱۰۔ ۱۰؍ ہزار روپے کے۴؍ چار ٹرانزیکشن کئے گئے، جس میںکل ۴۰؍ہزار روپے نکلوائے گئے۔ اہم بات یہ ہے کہ پریہ درشن کے موبائل پر اس لین دین کیلئے کوئی او ٹی پی موصول نہیں ہوا۔ اگلی صبح میسج دیکھ کر انہیں فراڈ کا احساس ہوا۔ وہ فوری طور پر ایس بی آئی کی دھنتولی برانچ گئے اور اے ٹی ایم کارڈ بلاک کروایا۔اس کے بعد ایک بار پھر پیغامات آئے کہ ۱۰؍ ہزار اور ۱۵؍ ہزار روپے کی لین دین کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم کارڈ بلاک کرکے مزید رقم چوری سے بچ گئی۔
اے ٹی ایم میں لکھا نمبر غلط کیسے ہے؟
اس معاملے میں سب سے سنگین بات یہ ہے کہ اے ٹی ایم مشین پر لگائے گئے مبینہ کسٹمر کیئر نمبر کا استعمال کرتے ہوئے دھوکہ دہی کی گئی۔ اس لئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی اے ٹی ایم سینٹر میں جعلی اسٹیکر یا جعلی ہیلپ لائن نمبر لگا سکتا ہے؟بات یہ ہے کہ کئی اے ٹی ایم سینٹر میں سیکوریٹی گارڈ کی کمی، سی سی ٹی وی نہ ہونے اور باقاعدہ دیکھ بھال میں لاپروائی کے باعث شہریوں کے بینک اکاؤنٹ کو خطرہ بڑھ رہا ہے۔ اس معاملے میں پریہ درشن کی شکایت پرپونے ۲؍ سال بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس فی الحال یہ پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اے ٹی ایم سینٹر میں وہ نمبر کس نے لگایا تھا۔