Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھانڈوپ بس حادثہ: ملزم ڈرائیور نے خود کو بچانے کیلئے جھوٹ بولا تھا

Updated: January 04, 2026, 5:10 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

ملزم سنتوش کو عدالتی تحویل میں بھیجا گیا، حادثہ سے قبل بس کا ایک چکر لگا چکا تھا اس لئے اس سے پہلے ڈرائیور کی کوئی غلطی نہیں تھی، اس نے بریک کے بجائے ایکسیلیریٹر دبادیا تھا۔

Accused driver Santosh Sawant hiding his face. Photo: PTI.
ملزم ڈرائیور سنتوش ساونت اپنا چہرہ چھپاتے ہوئے۔ تصویر: پی ٹی آئی۔

بھانڈوپ بس حادثہ کے ملزم ڈرائیور سنتوش ساونت کو مقامی عدالت نے سنیچر کو ۱۴؍ دنوں کیلئے عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ اس دوران تفتیشی افسران نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہا تھا اس نے دیگر ڈرائیور پر حادثہ کی ذمہ داری ڈالنے کی کوشش کی تھی لیکن تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ اسی کی غلطی سے حادثہ ہوا تھا۔ 
سنیچر کو سنتوش کی پولیس تحویل کی مدت ختم ہونے پر اسے ملنڈ کی مجسٹریٹ عدالت کے سامنے پیش کیا گیا تھا جہاں پولیس نے درخواست کی تھی کہ اسے مزید ۵؍ دنوں کیلئے ان کی تحویل میں دیا جائے۔ پولیس نے ۵؍دنوں کی مزید تحویل حاصل کرنے کی وجہ یہ بیان کی تھی کہ وہ طبی جانچ کے ذریعہ اس کی نفسیاتی حالت کی معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن سنتوش کے وکیل ستیش رانے نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کی طبی جانچ کروائی جاچکی ہے اس لئے مزید طبی جانچ کے نام پر اسے مزید ۵؍ دنوں کیلئے پولیس تحویل میں نہیں بھیجا جاسکتا۔ اس دلیل کو قبول کرتے ہوئے عدالت نے پولیس کی درخواست مسترد کردی۔ 
واضح رہے کہ ۲۹؍ دسمبر ۲۰۲۵ء کو بھانڈوپ میں بیسٹ کی بس کی ٹکر سے ۴؍ افراد کی موت ہوگئی تھی اور دیگر ۱۰؍ زخمی ہوگئے تھے۔ جس بس سے حادثہ ہوا تھا جب پولیس نے اس کے ڈرائیور سنتوش کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کی تھی تو اس نے بیان دیا تھا کہ اس سے پہلے کی شفٹ میں بس چلانے والے ڈرائیور نے ڈیوٹی ختم ہونے پر ’ہینڈ بریک‘ لگا کر گاڑی کو ’نیوٹرل‘ کے بجائے ’ڈرائیو موڈ‘ پر چھوڑ دیا تھا اور جب وہ ڈیوٹی پر آیا اور جیسے ہی ہینڈ بریک چھوڑا ویسے ہی بس چل پڑی اور یہ حادثہ پیش آیا۔ تاہم پولیس تفتیش میں پتہ چلا ہے کہ حادثہ سنتوش کی غلطی ہی سے پیش آیا تھا اور وہ خود کو بچانے کیلئے جھوٹی کہانی بیان کر رہا تھا۔ تفتیشی افسران کے مطابق پہلے کی شفٹ کے ڈرائیور اور دیگر متعلقہ افراد کا بیان درج کیا گیا اور سی سی ٹی وی کی ریکارڈنگ بھی دیکھی گئی تو اس سے سنتوش کا جھوٹ پکڑا گیا۔ سی سی ٹی وی کی ریکارڈنگ سے پتہ چلا ہے کہ سنتوش ڈیوٹی شروع کرکے بس کا ایک چکر لگا چکا تھا۔ پہلا پھیرا ختم ہونے کے بعدکچھ وقفہ کیلئے وہ بس سے باہر گیا تھا اور دوبارہ آکر بس چالو کی تھی۔ اس لئے اس سے پہلے کے ڈرائیور کی غلطی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جس وقت حادثہ پیش آیا تھا اس وقت اس نے ’بریک‘ کے بجائے ’ایکسیلیریٹر‘ دبا دیا تھا جس سے بس اچانک آگے بڑھ گئی اور وہاں موجود افراد اس کی زد میں آگئے۔ 
بیسٹ سے تفصیلات طلب
اس دوران پولیس نے ’برہن ممبئی الیکٹرک سپلائی اینڈ ٹرانسپورٹ‘ (بیسٹ) سے سنتوش کو الیکٹرک بس چلانے سے قبل دی گئی تربیت کے تعلق سے تفصیلات طلب کی ہیں کہ اسے کس نوعیت کی، کتنےوقفہ کی اور کس حد تک تربیت دی گئی تھی۔ پولیس نے یہ بھی پوچھا ہے کہ بیسٹ کی الیکٹرک بس چلانے کا ’پروٹوکول‘ کیا ہے، کیا حفاظتی اقدامات کئے جاتے ہیں اور ایمرجنسی حالات میں کیا کرنا سکھایا جاتا ہے۔ پولیس کے مطابق ان سوالات کے جواب ملنے سے ملزم کے خلاف مضبوط کیس تیار کرنے میں مدد ملے گی۔ 
سنتوش گزشتہ تقریباً ۱۵؍ برسوں سے بیسٹ سے وابستہ ہے اور گزشتہ ۳؍ مہینوں سے الیکٹرک بس چلا رہا تھا۔ اس نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ یہ اس کے کریئر کا پہلا حادثہ ہے جس کی وجہ سے وہ گھبرا گیا تھا۔ البتہ پولیس یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ ماضی میں اس سے کوئی حادثہ ہوا ہے یا نہیں ؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK