۵؍سال میں آٹھویں بار انتخابات ہوئے،رادیف کی پارٹی کو بڑی جیت حاصل ہونے سے ماہرین نے پیشگوئی کی ہے کہ سیاسی عدم استحکام ختم ہوگا۔
رومن رادیف ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے-تصویر:آئی این این
مشرقی یورپ کے ملک بلغاریہ میں عام انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوگیا ہے۔ اطلاعات کےمطابق سابق صدر رومن رادیف کی پارٹی کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اتواراور پیر کو ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہوگیا تھا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ہونے والے آٹھویں پارلیمانی انتخابات میں سابق صدر رمین ردیف کی پارٹی ’پروگریسو بلغاریہ‘ واضح برتری کے ساتھ کامیاب ہو گئی ہے۔ اس کامیابی کے بعد رادیف کے اگلے وزیراعظم بننے کا امکان ہے۔
ایگزٹ پولز کے مطابق مرکزِ بائیں بازو کی اس جماعت کو واضح اکثریت حاصل ہوئی ہے، جس سے کئی سالوں سے جاری سیاسی عدم استحکام کے بعد ایک مضبوط حکومت کی امید پیدا ہوئی ہے۔خیال رہے کہ بلغاریہ میں پچھلے ۵؍ برسوں میں آٹھ بار عام انتخابات کرائے گئے ہیں۔ پیر تک۹۸ء۳؍فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رادیف کی پارٹی نے۴۴ء۷؍ فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں، اور امکان ہے کہ وہ۲۴۰؍ نشستوں والی پارلیمنٹ میں تقریباً۱۳۰؍ نشستیں حاصل کر لے گی۔ اس طرح یہ پارٹی اپنے حریفوں سے کافی آگے نکل گئی ہے۔تاہم، اب بھی یہ سوال باقی ہے کہ رومن رادیف کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی، اور ان کی کامیابی کے بعد بلغاریہ کا کردار یورپی یونین اور نیٹو میں کس سمت جائے گا۔ماضی میں روس کے ساتھ ان کے بہتر تعلقات پر بھی کئی طرح کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔
رومن رادیف کون ہیں؟
۶۲؍سالہ رومن رادیف تقریباً ایک دہائی تک بلغاریہ کے صدر رہے اور اسی سال جنوری میں وزارتِ عظمیٰ کے لئے انتخاب لڑنے کی غرض سے اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔سابق فضائیہ کے کمانڈر رادیف کا کہنا ہے کہ وہ ملک سے ’اولیگارچک طرزِ حکمرانی‘ کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ ملک میں کرپشن اور سیاسی بحران کے باعث عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ ۲۰۲۵ء میں رادیف نے انسدادِ بدعنوانی مظاہروں کی حمایت کی، جس کے نتیجے میں سابق وزیرِاعظم روزین زیلزیاکوف کی قدامت پسند حمایت یافتہ حکومت گر گئی تھی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالیں تاکہ ووٹ خریدنے جیسے رجحانات کا مقابلہ کیا جا سکے۔قابل ذکر ہے کہ رومن رادیف کو کریملن حامی سیاستداں سمجھا جاتا ہے ۔ پچھلی بار جب وہ اقتدار میں تھے تو روس کے صدر پوتن سے ان کے تعلقات بہتر تھے ۔