• Fri, 06 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی : کالوار گرام پنچایت کا تعلیمی ماڈل دوسروں کیلئے قابلِ تقلید

Updated: February 06, 2026, 9:59 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

سرکاری اسکولوں میں داخلہ کرانے والے والدین کیلئے پراپرٹی ٹیکس مکمل معاف،مراعات کے ذریعے سرکاری اسکولوں کو نئی زندگی دینے کی کوشش

Bhiwandi School.Photo:INN
بھیونڈی کا اسکول۔ تصویر:آئی این این

 سرکاری اسکولوں میں گھٹتی ہوئی طلبہ تعداد کے دور میں اگر کوئی ادارہ عملی اقدام کے ذریعے تعلیم کو فروغ دینے کی سنجیدہ کوشش کر رہا ہے تو وہ کالوار گرام پنچایت ہے۔ بھیونڈی تعلقہ کے دیہی علاقے میں واقع اس گاؤں نے ایسا تعلیمی ماڈل پیش کیا ہے جو نہ صرف مقامی سطح پر مؤثر ثابت ہو رہا ہے بلکہ دیگر گرام پنچایتوں اور بلدیاتی اداروں کے لئے بھی قابلِ تقلید مثال بن سکتا ہے۔
اس سلسلےمیںکالوار گرام پنچایت کے سرپنچ مہیش مہاترے نے اعلان کیا ہے کہ یکم جون ۲۰۲۶ء  سے جو والدین اپنے بچوں کا داخلہ گاؤں کے ضلع پریشد (سرکاری) اسکول میں کروائیں گے، انہیں گھر پٹّی (پراپرٹی ٹیکس) میں سو فیصد رعایت دی جائے گی۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد سرکاری اسکولوں کو بند ہونے سے بچانا، تعلیم کو عام آدمی کی دسترس میں رکھنا اور والدین کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنا ہے۔
کالوار ضلع پریشد اسکول کے اساتذہ النکار وارگھڑے اور پرشانت بھوسلے نے اس فیصلے کو سرکاری تعلیم کے حق میں ایک مثالی قدم قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مراٹھی زبان کی شناخت اور سرکاری اسکولوں کی بقا کے لئےاس طرح کے حوصلہ افزا فیصلے وقت کی ضرورت ہیں۔ یہ فیصلہ محض ایک مالی رعایت نہیں بلکہ ایک تعلیمی حکمتِ عملی ہے، جس کے ذریعے گرام پنچایت نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ سرکاری اسکول کمزور نہیں بلکہ مضبوط بنائے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں سہارا اور ترجیح دی جائے۔ دیہی علاقوں میں جہاں والدین اکثر نجی اسکولوں کی جانب مائل ہو جاتے ہیں، وہاں اس طرح کی مراعات سرکاری تعلیم کی طرف واپسی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
تعلیمی حلقوں کا ماننا ہے کہ کالوار گرام پنچایت نے وسائل کے باوجود یا قلت کے باوجود جو راستہ اختیار کیا ہے، وہ دیگر گرام پنچایتوں کے لئے بھی مشعلِ راہ ہے۔ اگر ہر مقامی خود مختار ادارہ اپنے دائرہ اختیار میں سرکاری اسکولوں کے تحفظ اور فروغ کے لئے اس طرح کے عملی فیصلے کرے تو نہ صرف تعلیمی معیار بہتر ہو سکتا ہے بلکہ سرکاری اسکولوں پر عوام کا اعتماد بھی بحال ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:مغربی بنگال کے عبوری بجٹ میں ’ممتا‘ کی جھلک،کئی دلکش اعلانات

سرپنچ مہیش مہاترے کے مطابق صرف مراٹھی (زبان) یا تعلیم کے تحفظ کے نعرے لگانا کافی نہیں بلکہ انہیں عملی شکل دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور انتظامیہ اس ماڈل کو ریاستی سطح پر اختیار کرے تو دیہی اور نیم شہری علاقوں میں سرکاری اسکولوں کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔سماجی اور تعلیمی کارکن دیان ولی جان شیخ نے اس تعلق سے ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا:’’جب ایک گرام پنچایت سرکاری اسکولوں کو بچانے اور مضبوط بنانے کے لئے والدین کو براہِ راست مراعات دے سکتی ہے تو پھر میونسپل کارپوریشن جیسے بڑے شہری ادارے کیوں نہیں؟ اسکولوں کو مربوط کرنا، ضم کرنا اور مرمت کے نام پر سرکاری اسکول بند کرنا کسی بھی طرح تعلیمی مفاد میں نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ میونسپل کارپوریشن بھی گرام پنچایت کے نقشِ قدم پر چلے، سرکاری اسکولوں کو بند کرنے کے بجائے انہیں سہولتیں، مراعات اور اعتماد فراہم کرے۔ سرکاری تعلیم کو کمزور کرنا نہیں بلکہ مضبوط بنانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:پہلی فلم کے بعد چار سال تک دوسری فلم سائن کرنے پر پابندی تھی: اہان شیٹی

تعلیمی میدان میں سرگرم ڈاکٹر خورشید کے مطابق کالوار گرام پنچایت کا یہ منصوبہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ مقامی سطح پر کئے گئے درست فیصلے بڑے نتائج دے سکتے ہیں۔ آج کالوار نے جو مثال قائم کی ہے، وہ کل دوسرے گاؤں، قصبوں اور شہروں کے لئے ایک مؤثر اور مثبت تعلیمی راستہ ثابت ہو سکتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK