• Fri, 06 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار : اسمبلی کے باہر اپوزیشن کا زبردست احتجاج

Updated: February 06, 2026, 10:59 AM IST | Agency | Patna

نیٹ طالبہ کی موت پر احتجاج میں رابڑی دیوی بھی شامل ہوئیں، کہا کہ واردات میں کسی وزیر کا بیٹا یا خود کوئی وزیر شامل ہو سکتا ہے

Former Bihar Chief Minister and Leader of Opposition In The Bihar Vidhan Parishad Rabri Devi Participated In The Protest.Photo: PTI)
بہار کی سابق وزیر اعلیٰ اور بہار ودھان پریشد میں اپوزیشن لیڈر رابڑی دیوی نے احتجاج میں شرکت کی۔ تصویر: پی ٹی آئی

اسی درمیان حزب اختلاف کی پارٹیوں نےقانون ساز کونسل کے باہر بھی اس معاملے پراحتجاج کیا اور پوسٹر کے ساتھ حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔وہ بہار کی بیٹیوں کے لیے انصاف اورخاطیوں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ رابڑی دیوی نے کہا کہ نیٹ کی تیاری کرنےوالی طالبہ کی مشتبہ موت کے معاملے میں کسی وزیر کا بیٹا یا خود کوئی وزیر شامل ہوسکتا ہے، جسے نتیش حکومت بچانے کی کوشش کررہی ہے۔ حکومت، وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور وزیر داخلہ سمراٹ چودھری اس معاملےپر خاموش ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ملوث افراد حکومت کا حصہ ہیں۔رابڑی دیوی نے کہا کہ بہار کا کوئی ضلع ایسا نہیں ہے جہاں عصمت دری کے واقعات نہ ہو رہے ہوں۔
رابڑی دیوی نے اس معاملےکی جانچ سی بی آئی کو سونپے جانے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ لیپا پوتی کے بعد اب اس معاملے کو سی بی آئی کو سونپ دیاگیاہے ۔ انہوںنے الزام لگایا کہ پہلے اس معاملے کو دبانے کی کوشش کی گئی اور بعد میں معاملہ طول پکڑنے پر لیپا پوتی کر کے اب اس معاملے کی جانچ سی بی آئی کو سونپ دی گئی ہے۔سی بی آئی کی جانچ میں تاخیر ہوگی اور اس وقت تک یہ معاملہ ٹھنڈا ہوجائے گا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سی بی آئی کی اس جانچ سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نتیش حکومت جب سے دوبارہ برسراقتدار آئی ہے تب سے ریاست میں جرائم بڑھ گئے ہیں۔ اس کے باوجود میڈیا اسے جنگل راج قرار نہیں دے رہا ہے۔  

یہ بھی پڑھئے:پاکستان یوٹرن لے گا : سابق کرکٹروں کادعویٰ

رابڑی دیوی کے اس سنگین الزام پربی جےپی ایم ایل سی اور پارٹی ترجمان سنجے میوکھ نے کہا کہ این ڈی اے کی حکومت میں کوئی بھی مجرم بخشا نہیں جاتااور نہ ہی کسی بے قصور کو پھنسایا جاتاہے ۔ ملک کی سب سے مضبوط ایجنسی اس معاملے کی جانچ کررہی ہے ۔ ہم امید کررہے ہیں کہ اس معاملے میں جلد از جلد خاطی کو پکڑ لیا جائے گا اوراسے قرار واقعی سزا ملے گی۔

یہ بھی پڑھئے:پنجاب میں گردوارہ کے باہر عام آدمی پارٹی کے لیڈر لکی اوبرائے کو گولی ماری گئی

 واضح رہے کہ جہان آباد کی طالبہ ۶؍جنوری کو پٹنہ کے ایک ہوسٹل میں بے ہوشی کی حالت میں پائی گئی تھی ۔ بعد میں۱۱؍جنوری کو ایک پرائیویٹ اسپتال میں اس کی موت ہوگئی تھی ۔ طالبہ کےاہل خانہ نے پولیس افسران پر اس معاملےکو دبانےکی کوشش کا الزام لگایا تھا۔ پہلے اس معاملےکی جانچ ایس آئی ٹی کو سونپی گئی تھی لیکن بعد میں سیاسی  ہنگامے اور اپوزیشن کی جانب سے حکومت پر متعدد الزامات لگائے جانے کے بعد نتیش حکومت نے اسے سی بی آئی کو سونپ دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK