یہاں واقع بھنڈاری کمپاؤنڈ، گنگارام واڑی علاقے میں جمعرات کی دیر رات ہونے والے ہولناک سانحہ میں ایک خستہ حال عمارت کوہِ نور اپارٹمنٹ کی بی وِنگ کا چار منزلہ حصہ اچانک منہدم ہوگیا، جس کے نتیجے میں ۱۰؍ افراد ہلاک جبکہ ۳؍ شدید زخمی ہو گئے۔
EPAPER
Updated: August 01, 2026, 10:21 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai
یہاں واقع بھنڈاری کمپاؤنڈ، گنگارام واڑی علاقے میں جمعرات کی دیر رات ہونے والے ہولناک سانحہ میں ایک خستہ حال عمارت کوہِ نور اپارٹمنٹ کی بی وِنگ کا چار منزلہ حصہ اچانک منہدم ہوگیا، جس کے نتیجے میں ۱۰؍ افراد ہلاک جبکہ ۳؍ شدید زخمی ہو گئے۔
یہاں واقع بھنڈاری کمپاؤنڈ، گنگارام واڑی علاقے میں جمعرات کی دیر رات ہونے والے ہولناک سانحہ میں ایک خستہ حال عمارت کوہِ نور اپارٹمنٹ کی بی وِنگ کا چار منزلہ حصہ اچانک منہدم ہوگیا، جس کے نتیجے میں ۱۰؍ افراد ہلاک جبکہ ۳؍ شدید زخمی ہو گئے۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب عمارت میں مرمت کا کام جاری تھا اور چند مزدوروں کے ساتھ بعض مکین بھی اندر موجود تھے۔ عمارت کے زمین بوس ہوتے ہی پورا علاقہ چیخ و پکار سے گونج اٹھا اور ہر طرف افراتفری مچ گئی۔ اس سے قبل رات تقریباً ۹؍ بجے عمارت سے غیر معمولی آوازیں آنے کے سبب اور دیواروں میں دراڑیں واضح ہوجانے پر بلڈنگ کے مکینوں نے فوری طور پر میونسپل کارپوریشن کے عملے کو اطلاع دی تھی۔ اس کے بعد مکینوں کو عمارت سے باہر نکالنا شروع کردیا گیا تھا ۔ متعدد خاندان بروقت باہر نکل بھی آئے تاہم کچھ لوگ گھریلو سامان نکالنے میں مصروف تھے۔ اسی دوران رات تقریباً ساڑھے گیارہ بجے زور دار دھماکے جیسی آواز کے ساتھ عمارت کا بڑا حصہ منہدم ہوگیا اور کئی افراد ملبے تلے دب گئے۔
عینی شاہدین کے مطابق اے وِنگ میں رہائش پذیر تقریباً دو درجن افراد نے بروقت عمارت خالی کرکے اپنی جانیں بچالیں لیکن بی وِنگ میں موجود افراد کو سنبھلنے کا موقع نہ مل سکا۔ حادثہ کے فوراً بعد مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کرتے ہوئےملبہ ہٹانا شروع کیا اور پولیس کو بھی اطلاع دی۔. اطلاع ملتے ہی این ڈی آر ایف، ٹی ڈی آر ایف، فائر بریگیڈ، مقامی پولیس، میونسپل کارپوریشن کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ شعبہ اور دیگر اداروں کی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں۔ چار فائر انجن، ایمبولینس، پوکلین، جے سی بی، ہائیڈرولک مشینری اور کھوجی کتوں کی مدد سے جنگی پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ مسلسل بارش، تنگ گلیاں اور بھاری ملبہ کارروائی میں رکاوٹ بنتے رہے تاہم امدادی ٹیموں نے پوری رات ملبہ ہٹا کر دبے ہوئے افراد کو نکالنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ریسکیو کارروائی کے دوران ملبے سے ۱۰؍ افراد کی لاشیں نکالی گئیں۔ ہلاک ہونے والوں میں شمیم شیخ (۴۸) ، رنجیت سنگھ(۳۲) ، معراج رسول شیخ(۳۴)، شمیم انصاری(۳۰) اور سنتوش پانڈے(۴۲) کی شناخت ہوگئی ہے جبکہ ۵؍دیگر افراد کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی ہے۔ زخمیوں میں ابھے کمار(۲۴)، دیپک کمار(۲۵) اور سنگیتا پرجاپتی(۳۶) شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر آئی جی ایم سب ڈسٹرکٹ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی رکن پارلیمان سریش مہاترے، سابق مرکزی وزیر مملکت کپل پاٹل، رکن اسمبلی مہیش چوگھلے، میئر نارائن چودھری ،کارپوریٹر شکیل انصاری (پاپا) سمیت دیگر عوامی نمائندے اور اعلیٰ افسران جائے حادثہ پر پہنچے اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔ حکام نے ملبہ مکمل طور پر ہٹانے تک سرچ آپریشن جاری رکھنے کی ہدایت دی ہے کیونکہ ملبے میں مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی عمارت کے انہدام کی وجوہات معلوم کرنے کے لئے تکنیکی تحقیقات بھی شروع کردی گئی ہیں۔