• Tue, 15 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اے آئی میں ہم سب کو مارنے کی صلاحیت ہے: سابق ڈیپ مائنڈ محقق بلال چغتائی

Updated: September 15, 2026, 9:01 PM IST | New York

سابق ڈیپ مائنڈ محقق بلال چغتائی نے انتباہ دیا ہے کہ اے آئی میں ہم سب کو مارنے کی صلاحیت ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ اے آئی کمپنیاں اگلے چند سالوں میں سپر انٹیلی جنٹ سسٹم بنا سکتی ہیں جو ہر شعبے میں انسانی صلاحیتوں سے آگے نکل جائیں گے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

بلال چغتائی، جنہوں نے گوگل ڈیپ مائنڈ میں اے جی آئی سیفٹی اور الائنمنٹ پر ریسرچ انجینئر کے طور پر کام کیا، جولائی میں مستعفی ہوئے لیکن اس ہفتے انتباہ کے ساتھ عوام کے سامنے آئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اے آئی کمپنیاں اگلے چند سالوں میں سپر انٹیلی جنٹ سسٹم بنا سکتی ہیں جو ہر شعبے میں انسانی صلاحیتوں سے آگے نکل جائیں گے۔آرٹیفیشل جنرل انٹیلی جنس (اے جی آئی) سیفٹی پر کام کرنے والے گوگل ڈیپ مائنڈ کے ایک سابق محقق نے منگل کو کہا کہ مصنوعی ذہانت میں سب کو مارنے کی صلاحیت ہے اور مزید خبردار کیا کہ ان نتائج سے بچنے کے لیے ہمارے پاس وقت ختم ہو رہا ہے۔واضح رہے کہ بلال چغتائی نے جولائی میں گوگل ڈیپ مائنڈ کو چھوڑ دیا تھا جبکہ دو دیگر محققین نے بھی حال ہی میں استعفیٰ دیا ہے۔چغتائی نے ڈیپ مائنڈ میں اے جی آئی سیفٹی اور الائنمنٹ پر ریسرچ انجینئر کے طور پر کام کیا۔ انہوں نے۲۰۲۲ء کے اوائل میں اے آئی پر کام شروع کیا، جب سسٹم بمشکل کچھ مفید کر پاتے تھے۔چار سال بعد، وہ اوپن اے آئی ایجنٹ سوارمز کی طرف اشارہ کرتے ہیں جنہوں نے صدی پرانے ریاضی کے مسائل حل کیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اس وقت زیادہ پریشان کن تھا جب جولائی میں اے آئی ایجنٹس اپنے ٹیسٹ سینڈ باکس سے نکل گئے اور بغیر ہدایت کے ہگنگ فیس کو ہیک کر لیا۔

یہ بھی پڑھئے: اے آئی انسانوں کے کنٹرول میں نہ رہے تو اس کی ترقی بے معنی ہے: مائیکروسافٹ سربراہ نڈیلا

بعد ازاں انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’میں بھی اس ٹیکنالوجی کی ڈیفالٹ رفتار کے بارے میں انتہائی فکر مند ہوں۔ میں سچے دل سے مانتا ہوں کہ اے آئی میں ہم سب کو مارنے کی صلاحیت ہے، اور ہمارے پاس اس نتیجے سے بچنے کے لیے وقت ختم ہو رہا ہے۔‘‘چغتائی نے کہا کہ آئندہ چند سالوں میں اے آئی کمپنیاں سپر انٹیلی جنٹ سسٹم بنا سکتی ہیں جو ہر شعبے میں انسانی صلاحیتوں سے آگے نکل جائیں۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا ڈویلپرز اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ ایسے نظام قابل اعتماد طریقے سے انسانی اہداف پر عمل کریں اور خبردار کیا کہ غلط الائنڈ سپر انٹیلی جنس انسانی کنٹرول سے نکل سکتی ہے اور ایسے اقدامات کر سکتی ہے جو انسانیت کو مستقل طور پر بے اختیار یا ہلاک کر دے۔
اے آئی الائنمنٹ اب بھی ایک حل طلب چیلنج ہے
چغتائی نے مزید کہا کہ اے آئی الائنمنٹ اب بھی ایک حل طلب چیلنج ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ محققین کو اب بھی اس بات کی ابتدائی سمجھ ہے کہ کس طرح جدید نظاموں کو قابل اعتماد طریقے سے انسانی مقاصد کے حصول کے لیے تربیت دی جائے اور خبردار کیا کہ اے آئی کی صلاحیتیں الائنمنٹ ریسرچ سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔چغتائی نے مزید کہا، ’’اس بارے میں ہماری موجودہ سمجھ کہ کس طرح اے آئی سسٹم کو تربیت دی جائے جو گہرائی سے وہ چاہیں جو ہم چاہتے ہیں، انتہائی ابتدائی ہے۔ بدتر بات یہ ہے کہ ہم وقت پر الائنمنٹ کو حل کرنے کی راہ پر نہیں ہیں: فرنٹیئر اے آئی کی صلاحیتیں اے آئی الائنمنٹ کے بارے میں ہماری سمجھ سے کہیں زیادہ تیزی سے بہتر ہو رہی ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ کی ممکنہ تقسیم؛ اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کے لیڈران متحد

انہوں نے واضح کیا کہ وہ اے آئی کی ترقی کو روکنے کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ اے آئی کمپنیوں کے درمیان دوڑ کو سست کرنے کے لیے ہم آہنگی چاہتے ہیں، ساتھ ہی فرنٹیئر سسٹمز کی تعمیر اور جانچ کے بارے میں زیادہ شفافیت چاہتے ہیں۔پوسٹ میں لکھا تھا، ’’زیادہ وسیع پیمانے پر، ہمیں اے آئی کو بہتر بنانے کے مسئلے کے بارے میں احتیاط سے سوچنے والے بہت سے لوگوں کی ضرورت ہے۔ میری نظر میں، یہ اس صدی میں انسانیت کو درپیش سب سے اہم مسئلہ ہے، اور اس کے داؤ بہت زیادہ ہیں۔
ذہن نشین رہے کہ چغتائی سے پہلے، اینتھروپک پری ٹریننگ محقق جیکب کوکسن نے اینتھروپک اور اوپن اے آئی میں تین سال گزارنے کے بعد استعفیٰ دے دیا، جاتے وہے انہوں نے انتباہ دیا کہ ــ’’اے آئی بنانے والے لوگ سچے دل سے مانتے ہیں کہ یہ اس دہائی کے آخر تک ہم سب کو مار سکتی ہے۔‘‘ ڈیپ مائنڈ سیفٹی ٹیم پر کام کرنے والے جوش اینگلز نے۱۲؍ ستمبر کو اعلان کیا کہ وہ اینتھروپک اور اوپن اے آئی کی پیشکشوں کو ٹھکرانے کے بعد ایویلیوایشن نان پرافٹ ایم ای ٹی آر میں شامل ہو گئے ہیں۔اینگلز نے کہا کہ وہ ایک خوفناک خطرہ دیکھ رہے ہیں کہ اے آئی سسٹم پانچ سال کے اندر بے پناہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔انہوں نے لکھا، ’’ایک خوفناک امکان ہے کہ اے آئی سسٹم اگلے پانچ سالوں میں بے پناہ نقصان پہنچائیں۔ میں صحیح امکان نہیں جانتا، لیکن میرے خیال میں یہ اتنا زیادہ ہے کہ یہ دنیا کا سب سے اہم مسئلہ بن جائے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اخوان المسلمون کے خلاف خفیہ مہم میں کلاؤڈ اے آئی کے استعمال کا انکشاف

علاوہ ازیں اینتھروپک کے سی ای او داریو اموڈی نے سنیچر کو ایک مضمون شائع کیا جس میں کمپنیوں پر زور دیا گیا کہ وہ صلاحیتوں میں اضافے کو تیز کریں، اور اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹ مین نے اس مطالبے کی حمایت کی۔تاہم صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ان انتباہات کو مسترد کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا کہ اے آئی انڈسٹری کا ضابطے کا مطالبہ ایک ’’دھوکہ‘‘ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK