Inquilab Logo Happiest Places to Work

کرناٹک ایم ایل سی الیکشن میں بی جے پی اتحاد کو دھچکا!

Updated: June 20, 2026, 9:11 AM IST | Bangalore

زعفرانی اتحاد کے اراکین کی ’کراس ووٹنگ ‘، کانگریس نے ۷؍میں سے ۵؍سیٹیں جیت لیں، بی جے پی نے ریاستی لیڈران کو دہلی طلب کیا۔

Chief Minister DK Shivakumar, Randeep Singh Surjewala can be seen with the newly elected members. Photo: INN
وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار، رندیپ سنگھ سرجے والا ،نومنتخبہ اراکین کے ساتھ دیکھے جاسکتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

 کرناٹک قانون ساز کونسل کے انتخابات میں بی جے پی کو’کراس ووٹنگ‘ سے دھچکا پہنچا ہے۔یہاں جمعرات کو کانگریس نے۷؍میں سے ۵؍نشستیں جیت لیں ۔ وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار کی قیادت میں کانگریس، بی جے پی اتحاد میں ’سیندھ‘  لگانے میں  کامیاب رہی۔ ہزیمت کا سامنا کرنے والی بی جے پی کی اعلیٰ کمان نے جمعہ کو اس معاملے پر ناراضگی کا اظہار کیا اور ریاستی لیڈران کو دہلی طلب کیا ہے۔
 رپورٹ کے مطابق کرناٹک لیجسلیٹیو کاؤنسل کی ۷؍ نشستوں میں سے ۵؍کو  کانگریس نے اپنے نام کرلیا، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو۲؍ نشستوں پر اکتفا کرنا پڑا۔ این ڈی اے کی اتحادی جماعت جنتا دل (سیکولر) کے امیدوار گووند راجو کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، جسے ریاستی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور کرناٹک امور کے انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا نے اس کامیابی کو ریاست کے سیاسی منظرنامے میں ایک نئے باب کی شروعات قرار دیا۔ ان کے مطابق پارٹی کے امیدوار بی کے ہری پرساد، بی ایس شیونا، ٹپناپا کامکنور، پی وی موہن اور ونئے کارتک پہلے ہی مرحلے کی گنتی میں کامیاب قرار پائے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو متوقع تعداد سے گیارہ زیادہ ووٹ ملے اور مجموعی طور پر ۱۵۱؍ اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہوئی۔
 ادھر بی جے پی کے سینئر لیڈر اور اسمبلی میں قائد حزب اختلاف آر اشوک نے اعتراف کیا کہ ووٹنگ کے انداز سے واضح ہوا ہے کہ پارٹی کے ۳؍ ووٹ کانگریس کے حق میں گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اراکین کی نشاندہی کرکے مناسب کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب جنتا دل (سیکولر) کے ۱۸؍ اراکین ہونے کے باوجود اسکے امیدوار کو صرف ۱۴؍ ووٹ مل سکے۔ سیاسی حلقوں میں اس نتیجے کو نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے لیے بڑی کامیابی اور مرکزی وزیر ایچ ڈی کماراسوامی کے لیے دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔
  اطلاعات کے مطابق بی جے پی اور جنتا دل (سیکولر) کے بعض اراکین  اسمبلی نے کراس ووٹنگ کرکے کانگریس کی حمایت کی۔ انتخاب میں مجموعی طور پر ۲۲۲؍ ووٹ ڈالے گئے، جن میں ایک ووٹ غلط طریقے سے ترجیحی نمبر درج کیے جانے کے باعث مسترد کردیا گیا۔ کامیابی کے لئے ہر امیدوار کو۲۷ء۶۳؍ووٹ درکار تھے۔ جنتا دل (سیکولر) امیدوار کے باہر ہونے کے بعد ووٹوں کی منتقلی کے ذریعے بی جے پی کے امیدوار لنگراج پاٹل بھی کامیاب ہونے میں کامیاب رہے۔
وزیراعلیٰ شیوکمار نے بی جے پی کو ہرانے کیلئے اسی کا ماڈل اپنا یا:جرکیہولی
 کرناٹک قانون ساز کونسل کے انتخابات میں کراس ووٹنگ کے تنازع پر ریاست کے وزیرِ تعمیراتِ عامہ ستیش جرکیہولی نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کانگریس کی شاندار کامیابی یقینی بنانے کیلئے بی جے پی کی سیاسی حکمتِ عملی کو کامیابی سے اپنایا۔ جمعہ کے روز جب ریاستی سیاست میں کراس ووٹنگ اور پسِ پردہ جوڑ توڑ کے الزامات موضوعِ بحث تھے، جرکیہولی نے کہا کہ کانگریس نے بی جے پی کے دہلی ماڈل سے متاثر انتخابی حکمتِ عملی اختیار کرکے اپنے حریفوں پر سبقت حاصل کی۔ جو کچھ دہلی میں ہوتا رہا ہے، وہی اب کرناٹک میں ہوا ہے۔  اپوزیشن کی جانب سے اراکینِ اسمبلی کی خرید و فروخت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ سے خرید و فروخت نہیں کہا جا سکتا۔ 
 پارٹی کے اندر ناراضگی کا پہلے سے علم تھا: ایچ ڈی کماراسوامی
 کرناٹک کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور مرکزی وزیر ایچ ڈی کمارا سوامی نے کہا ہے کہ قانون ساز کونسل کے انتخابات میں کراس ووٹنگ کوئی غیر متوقع بات نہیں تھی کیوںکہ انہیں پارٹی کے اندر پائی جانے والی ناراضگی کی پہلے ہی سے معلومات تھیں۔ جمعہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کمارا سوامی نے کہا کہ انہوں نے انتخابات سے قبل ہی ممکنہ کراس ووٹنگ کا اندازہ لگا لیا تھا، اسلئے انتخابی نتائج سے وہ نہ تو حیران ہوئے اور نہ ہی پریشان۔ ان کے مطابق بعض اراکین اسمبلی کے رویہ کے بارے میں تفصیلی معلومات انہیں کافی عرصے سے حاصل تھیں ۔کماراسوامی نے بتایا کہ تقریباً چار اراکین اسمبلی نے پارٹی لائن کے خلاف ووٹ دیا۔

congress Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK