کانگریس کی جانب سے بنائی گئی ۶؍ ٹیموں نے یکم اور۲؍ اگست کو پٹنہ، جہان آباد، بھاگلپور، دربھنگہ، پورنیہ اور سیوان کا دورہ کیا اور متاثرین سے ملاقات کی، رپورٹ میں طلبہ پر پولیس جارحیت کے الزام عائد کئے گئے۔
EPAPER
Updated: August 11, 2026, 11:56 AM IST | Agency | New Delhi
کانگریس کی جانب سے بنائی گئی ۶؍ ٹیموں نے یکم اور۲؍ اگست کو پٹنہ، جہان آباد، بھاگلپور، دربھنگہ، پورنیہ اور سیوان کا دورہ کیا اور متاثرین سے ملاقات کی، رپورٹ میں طلبہ پر پولیس جارحیت کے الزام عائد کئے گئے۔
کانگریس نے پیرکو الزام لگایا کہ نیٹ پیپر لیک تنازع سے جڑے مظاہرے کے دوران بہار میں طلبہ اور نوجوان مظاہرین کے خلاف پولیس کی طرف سے حدسےزیادہ طاقت کا استعمال کیا گیا، جس میں فائرنگ، لاٹھی چارج اور طویل حراست شامل ہے۔ کانگریس پارٹی نے اس کی مذمت کرتے ہوئے اس کارروائی کا حکم دینے والوں کی جوابدہی کا مطالبہ کیا۔ یہ الزامات بہار کے چھ شہروں میں پارٹی ٹیموں کی جانب سے فیکٹ فائنڈنگ کے عمل کے بعد نئی دہلی میں کانگریس ہیڈکوارٹرز میں ایک پریس کانفرنس کے دوران لگائے گئے۔
بہار کانگریس کے انچارج کرشنا الاورو نے کہا کہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) نے ۶؍ فیکٹ فائنڈنگ ٹیمیں تشکیل دی تھیں جنہوں نے یکم اور۲؍ اگست کو پٹنہ، جہان آباد، بھاگلپور، دربھنگہ، پورنیہ اور سیوان کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیموں نے طلبہ، نوجوانوں، میڈیا کے نمائندوں اور سرکاری اہلکاروں سے ملاقات کی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ پولیس کی اس کارروائی کی کیا وجہ تھی اور اس کا حکم دینے والوں کی شناخت کی جا سکے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
الاورو نے الزام لگایا کہ نوجوان مظاہرین پر اے کے۴۷؍ سے فائرنگ کی گئی اور دعویٰ کیا کہ کئی نوجوان گولی لگنے سے زخمی ہوئے۔ سیوان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ طلبہ اور نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا اور سوال اٹھایا کہ اپنے حقوق کیلئے احتجاج کرنے والوں کے خلاف اتنی طاقت کا استعمال کیوں کیا گیا؟
راجیہ سبھا رکن عمران پرتاپ گڑھی، جو سیوان میں فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کا حصہ تھے، نے الزام لگایا کہ پولیس نے ابتدا میں ضلع میں کسی بھی فائرنگ سے انکار کیا لیکن بعد میں اے کے۴۷؍ سے فائرنگ کے ملزم ایک پولیس افسر کو معطل کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تین نوجوان(آکاش، عارف اور بلیٹ کمار گوڑ)گولی لگنے سے زخمی ہوئے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ آکاش کے کندھے پر، عارف کی گردن پر اور گوڑ کے گھٹنے میں گولی لگی۔ بقول عمران پرتاپ گڑھی، گوڑ، جو اگنی ویر اسکیم کے تحت بھرتی کی تیاری کر رہا تھا، کو گھٹنے کی چوٹ کے باوجود تقریباً۴۰؍ منٹ تک لاٹھیوں سے پیٹا گیا۔ اس واقعے کو ’شرمناک‘ قرار دیتے ہوئےانہوں نے کہا کہ کانگریس کی ٹیم نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سے ملاقات کی اور فائرنگ کے حالات کے بارے میں جواب طلب کیا۔ انہوں نے واقعے کے بارے میں پولیس کے موقف پر بھی سوال اٹھایا اور اس بات کی وضاحت چاہی کہ گولیاں کس نے چلائیں ؟انڈین یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چِب نے کے مظاہروں سے نمٹنے کے طریقہ کار پر حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ طلبہ کو پیلٹ گن، لاٹھی چارج، فائرنگ اور مجرمانہ مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ مسابقتی امتحانات کا مالی بوجھ بھی طلبہ کیلئے ایک بڑی تشویش ہے۔
یہ بھی پڑھئے:رائے گڑھ: اسکولی طالبات کی خستہ حال سڑک کی رپورٹنگ کا ویڈیو وائرل
کانگریس نے کہا کہ اس کی فیکٹ فائنڈنگ مشق کا مقصد متاثرہ طلبہ کے تجربات کو دستاویزی شکل دینا اور حد سے زیادہ طاقت کے استعمال کا احتساب قائم کرنا تھا۔ پارٹی نے حکام سے رپورٹ کردہ چوٹ، حراستوں اور پولیس کارروائی پر جواب طلب کیا۔
’’ طلبہ کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا گیا‘‘
فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے رکن اور این ایس یو آئی چیف ونود جھاکھڑ نے کہا کہ ’’بہار میں طلبہ اور نوجوانوں کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا گیا۔ رات میں انہیں حراست میں لیا گیا اور ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں۔‘‘ پریس کانفرنس میں پپو یادو نے خاص طور پر طالبات کے ساتھ ہوئی بدسلوکی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بچیاں تعلیمی نظام میں بہتری کا مطالبہ کر رہی تھیں لیکن ان کیساتھ غنڈہ گردی کی گئی ہے۔ انھوں نے تعلیمی نظام میں بہتری کے حوالے سے کہا کہ ’’حکومت کمشنری یا ضلع میں امتحان سینٹر بنائے تاکہ بچوں کا خرچ نہ بڑھے۔‘‘