Inquilab Logo Happiest Places to Work

بی جےپی کاگھمنڈ چکنا چور،بانکی پور اور دتیا میں پٹخنی

Updated: August 04, 2026, 7:45 AM IST | New Delhi

زعفرانی پارٹی اپنے صدر کی سیٹ نہیں بچا سکی، پرشانت کشور۱۹؍ ہزار ووٹوں سے جیت کر بہار اسمبلی پہنچے،دتیا میں کانگریس کی فتح، مانجل پور نے بی جےپی کی عزت بچائی

Prashant Kishor after his victory in Bankipur Assembly constituency
پرشانت کشور بانکی پور اسمبلی حلقہ میں اپنی فتح کے بعد

بہار، مدھیہ پردیش اور گجرات کی ۳؍ اسمبلی سیٹوں کیلئے ہونےوالے ضمنی الیکشن کےنتائج نے بی جےپی کے گھمنڈ کو چکناچور کردیا ہے۔ بہار کی بانکی پور سیٹ جو پارٹی صدر بنائے جانے کے بعد نتن نبین کے استعفیٰ سے خالی ہوئی تھی پر جن سوراج پارٹی کے صدر پرشانت کشور نے ۱۹؍ ہزار ۳۲۴؍ ووٹوں سے  جیت لی  جبکہ دتیا کی سیٹ کانگریس کے گھنشیام سنگھ نے ۶؍ ہزار ۱۶؍ ووٹوں سے جیت لی۔ بی جے پی کو صرف گجرات کی مانجل پور سیٹ پر کامیابی ملی ہے ۔جنتر منتر کے احتجاج   کے بعد ہونے والے اس پہلے الیکشن میں زعفرانی پارٹی کی ہار  کے کئی معنی نکالے جارہے ہیں۔ 
 بانکی پور کی ہارشرمندگی کا سامان
  بہار کی بانکی پورسیٹ پر بی جےپی کی ہار کو اس کیلئے سب سے بڑا جھٹکا قرار دیا جارہاہے۔ یہ سیٹ  ۲۰۲۵ء میں نتن نوین   نے ۵۲؍ ہزار ووٹوں سے جیتی تھی۔ پارٹی کے قومی صدرنتن نوین کے استعفیٰ کے بعد  یہ خالی ہوگئی تھی۔ پارٹی صدر کی سیٹ کو دوبارہ جیت لینے کیلئے بی جےپی اس قدر پُراعتماد تھی کہ  روی شنکر پرساد  کے حوالے سے یہ بیان بھی سامنے آیاتھا کہ زعفرانی پارٹی  وہاں کتے یا بلی کوبھی کھڑ ا کرے تو وہ جیت جائےگا۔   روی شنکر نے  مذکورہ بیان کو سیاق سباق سے عاری قرار دیکرتردید کی تھی مگر انہوں نے  غیر معمولی کامیابی کی پیش گوئی کی تھی۔   یہاں سے بی جے پی کے امیدوار نیرج کمار سنہا کو اپنی فتح کا یقین اس قدر تھا کہ انہوں  نے ۲۰۰؍ کلو لڈو کا آرڈر دے دیاتھا۔ انہیں ۴۴؍ ہزار  ۸۲۷؍ ووٹ ملے ہیں  جبکہ پرشانت کشور نے ۶۴؍ ہزار ۱۵۱؍ ووٹ لئے۔ 
  دتیا کی کامیابی سے کانگریس پُر جوش
  مدھیہ پردیش کی دتیا اسمبلی سیٹ  پر کامیابی نے کانگریس   کے کارکنوں  میںجوش بھر دیا ہے۔دتیا سیٹ ۲؍ اپریل کو کانگریس کے ایم ایل اے راجندر بھارتی کو عوامی نمائندگی ایکٹ۱۹۵۱ء کے تحت نااہل قرار دیئے جانے کے بعد خالی ہوئی تھی۔دتیا سیٹ کو مدھیہ پردیش کے سابق وزیر داخلہ نروتم مشرا کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، جنہوں نے۲۰۰۸ء سے ۲۰۱۸ء تک مسلسل ۳؍مرتبہ یہاں سے انتخاب جیتامگر ۲۰۲۳ء  میں   ہار  گئے ۔ بی جے پی امیدوارآشوتوش تیواری  نروتم مشرا کے پولنگ بوتھ پر بھی کانگریس سے زیادہ ووٹ نہیں لے سکے۔ انہیں نروتم مشرا کا ٹکٹ کاٹ کر امیدوار بنایاگیاتھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK