مرکزی حکومت کے مطابق سائبر ٹھگی میں۲۰۲۰ء سے ۲۰۲۴ء کے درمیان تین گنا اضافہ ہوا ہے، جبکہ تلنگانہ میں سب سے زیادہ شکایات درج کی گئیں۔
EPAPER
Updated: July 30, 2026, 8:09 PM IST | New Delhi
مرکزی حکومت کے مطابق سائبر ٹھگی میں۲۰۲۰ء سے ۲۰۲۴ء کے درمیان تین گنا اضافہ ہوا ہے، جبکہ تلنگانہ میں سب سے زیادہ شکایات درج کی گئیں۔
مرکزی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ہندوستان میں ۲۰۲۴ء میںدرج ہونے والے سائبر فراڈ کے مقدمات کی تعداد۲۰۲۰ء کے۱۰۳۹۵؍ سے بڑھ کر۲۰۲۴ء میں۲۹۷۵۸؍ ہو گئی، جو تقریباً تین گنا ہے۔ واضح رہے کہ ۲۰۲۴ء میں درج ہونے والے سائبر فراڈ کی مختلف اقسام میں سے، آن لائن بینکنگ فراڈ کے سب سے زیادہ۴۶۵۹؍ مقدمات درج ہوئے۔ جبکہ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ فراڈ کے۳۸۲۹؍ مقدمات دوسرے نمبر پر رہے، اس کے بعد مارکیٹنگ یا سرمایہ کاری فراڈ (۳۰۴۴؍)، اے ٹی ایم فراڈ (۱۶۵۹؍)، جعلی کال (۱۲۶۴؍)، گیمنگ ایپ یا ویب سائٹ فراڈ (۱۰۱۹؍)، او ٹی پی فراڈ (۹۶۵؍) اور ای-والٹ یا یو پی آئی فراڈ کے (۷۲۳؍) مقدمات درج ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: میانمار: آن لائن فراڈ کے خلاف سخت ترین قانون منظور، سنگین جرائم پر سزائے موت
بعد ازاں حکومت نے بتایا کہ گیمنگ ایپ یا ویب سائٹ فراڈ، مارکیٹنگ یا سرمایہ کاری فراڈ، جعلی کالز، اور ای-والٹ یا یو پی آئی فراڈ سے متعلق علیحدہ اعداد و شمار صرف۲۰۲۴ء سے رکھے جا رہے ہیں۔ مزید برآں ۲۰۲۴ءمیں تلنگانہ میں سب سے زیادہ۱۸۹۲۲؍ سائبر فراڈ کے مقدمات درج ہوئے، اس کے بعد بہار (۴۰۲۰؍) اور مہاراشٹر (۲۸۲۷؍) کا نمبر آتا ہے۔ تاہم حکومت نے کہا کہ نیشنل کرائم ریکارڈبیورو سائبر فراڈ کے مقدمات میں ضائع یا بازیافت ہونے والی رقم کے بارے میں ڈیٹا نہیں رکھتا۔
وزارت داخلہ نے کہا کہ اس نے سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر قائم کیا ہے۔۲۰۲۱ء میں شروع کردہ سٹیزن فنانشل سائبر فراڈ رپورٹنگ اینڈ مینجمنٹ سسٹم، مالی فراڈ کی فوری رپورٹنگ کو ممکن بناتا ہے تاکہ فنڈز کے نکالے جانے سے روکا جا سکے۔حکومت نے مزید بتایا کہ اس فراڈ رپورٹنگ سسٹم کے ذریعے۳۰؍ جون تک ۳۲؍ لاکھ ۸۰؍ ہزار شکایات سے۱۱۱۵۸؍ کروڑ روپے سے زیادہ کو بچایا جاچکا ہے۔