صداقت نے روس سے ویڈیو جاری کر کے ایف آئی آر سے نام نکالنے کی اپیل کی۔
EPAPER
Updated: July 31, 2026, 9:58 AM IST | Kishanganj
صداقت نے روس سے ویڈیو جاری کر کے ایف آئی آر سے نام نکالنے کی اپیل کی۔
کشن گنج(ایجنسی): پیپر لیک کے خلاف طلبہ اور نوجوانوں کا غصہ دہلی سے لے کر بہار تک محسوس کیا گیا۔ پولیس نے دونوں مقامات پر مظاہرین کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کی۔ بہار میں ایک پولیس افسر نے مظاہرین پر اے کے۴۷؍ رائفل سے ہوا میں گولی چلائی۔ کئی طلبہ کو حراست میں لے کر مقدمات درج کئےگئے جنہیں بعد میں واپس لینے کا اعلان کیا گیا۔ اس دوران ایک حیرت انگیز معاملہ اس وقت سامنے آیاجب بہار پولیس نے کشن گنج کے اس مسلم نوجوان کا نام بھی ایف آئی آر میں شامل کیا جوریاست میںموجود ہی نہیں ہے۔کشن گنج ضلع کے اس نوجوان نے جس کا نام محمد صداقت ہے، پولیس کی کارروائیوں پر سنگین سوال اٹھائے ہیں۔ اس نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ گزشتہ ۴؍ مہینوں سے روس میں ہے، اس کے باوجود پولیس نے نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کیلئے اس کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی ہے۔صداقت کونین ضلع کشن گنج کے بہادر گنج کے ستمڑھی کول بھتہ کا رہنے والا ہے۔ اس کاویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ صداقت نے ویڈیو میں کہا’’میرا نام محمد صداقت کونین راہی ہے۔ میں ستمڑھی کول بھتہ کے وارڈ نمبر۱۲؍ کا رہنے والا ہوں۔ میں گزشتہ چار ماہ سے روس میں ہوں۔۲۴؍ جولائی کو ایل آر پی چوک پر نیٹ پیپر لیک ہونے کے خلاف احتجاج ہوا۔ اس سلسلے میں بہادر گنج انتظامیہ نے میرے خلاف بھی ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ میں گزشتہ ۴؍ ماہ سے روس میں ہوں۔ اس لئے میں انتظامیہ سے اپیل کرتا ہوں کہ میرا نام واپس لیا جائے۔‘‘انڈیا ٹوڈے کے گورو کمار کی رپورٹ کے مطابق صداقت کونین راہی نے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ نوجوان نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ جانچ میں اگر اس کے دعوے صحیح ثابت ہوئے تو اس کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کیا جائے۔اس حوالے سے مقامی ضلع کونسل کے نمائندے عمران عالم کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران تشدد کی مذمت کی اورایف آئی آر میں محمد صداقت کا نام شامل کرنے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے بتایاکہ کئی ایسے طلبہ کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے جو احتجاج میں شامل نہیں تھے۔