پر تا پ گڑھ اور دیوریا میں بلاک پر مارپیٹ

Updated: September 26, 2021, 7:38 AM IST | pratapgarh

پرتاپ گڑھ: سانگی پور بلاک کے آڈیٹوریم میں بی جے پی کانگریس حامیوں میں جھڑپ، بی جے پی ایم پی پر حملہ ،کارروائی کا انتباہ دیوریا:گوری بازار بلاک احاطے میں آویزاں بینرمیں فوٹو نہ ہونے پر بی جے پی بلاک پر مکھ کے شوہر اور ریاستی وزیر کے بیٹے نے افسرکو مارا پیٹا

BJP MP Sangam Lal Gupta tweeted this photo of the program.
بی جے پی رکن پارلیمنٹ سنگم لا ل گپتا نے پروگرام کی یہ تصویر ٹویٹ کی ۔

: سنیچر کو  اترپردیش کے ضلع پرتاپ گڑھ   اور دیور یا کے  بلاک  پر ہنگامہ ہو ا ، مارپیٹ ہوئی ۔ توڑ پھوڑ بھی ہوئی ۔ پرتاپ گڑھ میں بی جے پی اور کانگریس حامیوں کے درمیان  مارپیٹ ہوئی۔ اس  دوران  بی جے پی  کے مقامی رکن پارلیمنٹ سنگم لال گپتا کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔ دریں اثنا ء دیوریا میں ایک سرکاری تقریب میں  وزیر مملکت جے پرکاش نشاد کے بیٹے  اور بلاک پر مکھ کے شوہر وشو وجے نشاد اور اس کے حامیوں نے سنیچر کو انچارج بی ڈی او اور ملازمین  سے مارپیٹ کی ہے۔ 
   پرتاپ گڑھ کے اسمبلی حلقے رامپور خاص کے سانگی پور بلاک کے آڈیٹوریم میں سنیچر کو آروگیہ میلا منعقد کیا گیا تھا۔ جس میں کانگریس کے سینئر لیڈر پرمود تیواری اور ان کی بیٹی   یوپی اسمبلی میں کانگریس لیڈر آرادھنا مشرا مونا بھی موجود تھیں۔ اس درمیان مہمان خصوصی کے طور پر پرتاپ گڑھ کے ایم پی سنگم لال گپتا پہنچے جس کےبعد ریلی کے مقام پر ہنگامہ شروع ہوگیا۔پہلے کانگریس اور بی جے پی حامیوں کے درمیان  نعرے بازی ہوئی جو دیکھتے ہی دیکھتے مارپیٹ میں تبدیل ہوگئی۔ اس درمیان رکن پارلیمنٹ سنگم لال گپتا اپنے سیکوریٹی گارڈوں کے ساتھ آڈیٹوریم سے  بھاگ نکلے۔ مارپیٹ کے دوران ایم پی کے کپڑے پھٹ گئے اور ان کی گاڑی میں توڑ پھوڑ کی گئی۔
 واقعہ کے بعد سنگم لال گپتا نے اپنی پھٹی ہوئی شرٹ کو دکھاتے ہوئے کہا کہ منصوبہ بند طریقے سے ان پر حملہ کرایا گیا ہے۔ الزام ہے کہ کانگریس  نے بی جے پی کارکنوں کو دوڑا دوڑا کر پیٹا اور بی جے پی ایم پی کی  اراکین کی کئی گاڑیوں پر پتھراؤ اور انہیں لاٹھی ڈنڈوں سے نقصان پہنچا یا گیا۔ رکن پارلیمنٹ کے مطابق سانگی پور بلاک میں وہ ایک سرکاری پروگرام میں شرکت کرنے گئے تھے جہاں اسٹیج پر منصوبہ بند طریقے سے ۵۰۔۶۰؍ افراد موجود تھے۔ وہاں موجود ایک پولیس افسر نے اسٹیج سے انہیں  ہٹنے کیلئے کہا جس پر انہوں نے پولیس افسر سے مارپیٹ کی ۔ جب انہوں نے ایسا کرنےسے منع کیا تو بھیڑ ان پر ٹوٹ پڑی۔ انہوں نے بھاگ کر کسی طرح اپنی جان بچائی۔
  اسی دوران اتر پردیش  کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے ٹویٹ کر حملے کی مذمت کی اور خاطیوں کیخلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیا ۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا:’’ پرتاپ گڑھ کے سانگی پور بلاک میں منعقد ہ غریب کلیان میلے میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ اور بی جے پی پسماندہ سماج مورچہ کے نیشنل جنرل سیکریٹری سنگم لال گپتا جی پر حملہ کرے والے غنڈوں کیخلاف سخت کارروائی جلد از جلد کئے جانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ایک بھی خاطی کو چھوڑانہیں جائے گا۔‘‘
  دوسری جانب خبر لکھے جانے تک اس سلسلے میں کانگریس کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں ظاہر کیا گیا ہے،حالانکہ سوشل میڈیا پر گشت کرنے والی تصویروں میں پرمود تیواری پولیس سے شکایت کرتےہوئے نظر آ رہے ہیں۔ 
  ادھر دیور یا میں بی جے پی لیڈر نے بلاک پر افسر کو زدو کوب کیا ۔  ذرائع کے مطابق گوری بازار بلاک احاطے میں غریب کلیان دیو س پر میلے کا انعقاد کیا گیا تھا جس کے بینر میں ایم ایل اے صدر ڈاکٹر ستیہ پرکاش منی ترپاٹھی کی تصویر تھی لیکن بلاک پرمکھ انیتا نشاد کی تصویر نہیں تھی۔اس دوران  وزیرمملکت جے پرکاش نشاد کے بیٹے وشو وجے نشاد اپنے حامیوں کے ساتھ دفتر پہنچے اور انچار ج بلاک ڈیولپمنٹ افسر سنجے پانڈے سے فوٹو نہ لگانے کے بارے میں پوچھ گچھ کی اور پھر کہا سنی ہوگئی۔ پھر بلاک پرمکھ کے حامیوں نے سنجے پانڈے اور دیگر افسران  اورملازمین  سے مارپیٹ کی ۔ اس سلسلے میںچیف ڈیولپمنٹ افسر روندر کمار نے   بتایا کہ گوری بازار بلاک احاطے میں غریب کلیان دیوس پر ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس دوران کسی بات پر بلاک پرمکھ انیتا نشاد کے شوہر وشو وجے نشاد اور ان کے حامیوں نے پروجیکٹ ڈائریکٹر گرام وکاس اور انچارج بی ڈی او سنجے پانڈے  سے مارپیٹ شروع کردی۔صلح کرانے پہنچے افسران اور ملازمین کو بھی بلاک پرمکھ کے حامیوں نے پیٹ کر زخمی کردیا اور اسٹیج پر لگی کرسیوں کو توڑ دیا۔ڈی ایم آشوتوش نرنجن نے اس معاملے کی فوری جانچ کیلئے ۳؍ رکنی ٹیم تشکیل دی ہے اور یہ ٹیم جانچ کررہی ہے اور اپنی رپورٹ ڈی ایم کو جلد ہی سونپ دے گی۔ انہوں نے بتایا کہ جانچ ٹیم کی رپورٹ کے بعد ڈی ایم کی ہدایت پر آگے کی کارروائی کی جائے گی۔

pratapgarh Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK