بہار اسمبلی میں این آرسی کیخلاف قرارداد منظور

Updated: February 26, 2020, 12:29 PM IST | Agency | Patna

نتیش کمار نے این پی آر بھی ۲۰۱۰ء کے طرز پر ہی کرانے کی تصدیق کی بہار اسمبلی نے منگل کو اتفاق رائے این آرسی کے خلاف قرارداد منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی قطعی کوئی ضرورت نہیں  ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریاست کےو زیراعلیٰ  نتیش کمار نے اراکین اسمبلی کو یقین دہانی کرائی کہ ریاست میں این پی آر بھی ۲۰۱۰ء کے مطابق اضافی سوالات کے بغیر نافذ ہوگا۔

نتیش کمار۔ تصویر : آئی این این
نتیش کمار۔ تصویر : آئی این این

پٹنہ: بہار اسمبلی نے منگل کو اتفاق رائے این آرسی کے خلاف قرارداد منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی قطعی کوئی ضرورت نہیں  ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریاست کےو زیراعلیٰ  نتیش کمار نے  اراکین اسمبلی کو یقین دہانی کرائی کہ ریاست میں این پی آر بھی ۲۰۱۰ء کے مطابق اضافی سوالات کے بغیر نافذ ہوگا۔  وزیراعلیٰ نتیش کمار نے قومی شہری رجسٹر (این آر سی ) کو غیر ضروری  قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ قومی مردم شماری رجسٹر ( این پی آر ) کے حالیہ خاکہ سےکچھ لوگوں کو مستقبل میں این آر سی کے نفاذ کا خطرہ  محسوس ہورہا ہے اسی کو دیکھتے ہوئے ان کی حکومت نے این پی آر ۲۰۱۰ءکے پرانے خاکہ کی بنیاد پر ہی کرانے کیلئے مرکزی حکومت کو خط لکھا ہے ۔ کمار نے اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسو ی پرساد یادو کے شہریت ترمیمی قانون ( سی اے اے ) ، این آر سی اور این پی پر ایوان میں خصوصی بحث کیلئے دی گئی تحریک التواءتجویز کی منظوری کے بعد قریب ایک گھنٹے کی ہوئی بحث کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ ۷؍ اکتوبر ۲۰۱۹ءکو حکومت ہند کے رجسٹرار اور مردم شماری کمشنر کی جانب سے بہارحکومت کو این پی آر سے متعلق ایک خط بھیجا گیا تھا۔ اس سے قبل ۱۵؍مئی ۲۰۱۰ء سے ۱۵؍ جون۲۰۱۰ء کے مابین این پی آر کرایا گیا تھا اور اس کے بعد سال۲۰۱۵ء میںبھی اس پر کچھ کام ہوا تھا۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ اس بار۲۰۲۰ میں جو این پی آر کرانے کیلئے خط بھیجا گیا ہے اس کے خاکہ میں کچھ دیگر اطلاعات کو جمع کرنے کی بات ہے ۔ اس میں  والدین کا نام ، ان کی تاریخ پیدائش ، ان کی جائے پیدائش اور جائے وفات کی بھی جانکاری طلب کی گئی ہے ۔ اس طرح کی معلومات ہر کسی کو نہیں ہے۔ نتیش کمار نے بتایا کہ  ماں   باپ سے متعلق  جانکاری دستیاب نہ ہونے پر اس کے آگے انورٹیڈ کوما کے اندر چھوٹی لکیر کھینچ کر چھوڑ دینی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس سے مستقبل میں این آر سی کے نفاذ  کےخطرات لاحق ہوںگے اس لئے ان کی حکومت نے حکومت ہند کے رجسٹرار اور مردم شماری کمشنر کو ۱۵؍ فروری کو خط لکھ درخواست کی ہے ان سوالات کو این پی آر میں شامل نہیں کیا جائےگا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK