• Thu, 15 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار: بنگلہ دیشی کے نام پرغریب مسلم مزدور اور پھیری والوں کے خلاف تشدد میں اضافہ

Updated: January 15, 2026, 10:12 PM IST | Patna

بہار میں بنگلہ دیشی کے نام پر غریب مسلم پھیری والوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے، ان واقعات نے ان مزدوروں میں خوف پیدا کردیا ہے، خاندان انصاف کے متلاشی جبکہ پولیس کی بے عملی سوالوں کے گھیرے میں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

بہار میں مسلم پھیری والوں اور مزدوروں کے خلاف تشدد کی ایک سلسلہ وار واقعات نے گہرا خوف اور غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ محض شبہ کی بنیاد پر معاشرے کے غریب افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، عوامی مقامات پر انہیں گالیاں دی جا رہی ہیں اور بغیر کسی ڈر کے ان پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ کٹہیا ر، سہرسا اور مدھوبنی سے تازہ واقعات سامنے آئے  ہیں جہاں یومیہ مزدوری کرنے والوں اور چھوٹے تاجروں کو مارا پیٹا گیا، ان سے لوٹ مار کی گئی، ان پر گولیاں چلائی گئیں یا انہیں ہلاک کر دیا گیا، جبکہ ان کے خاندان اب انصاف کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مساجد و درگاہوں کیخلاف مسلسل عرضیوں پرکورٹ برہم

کٹیہا ر ضلع میں، ایک نوجوان مسلم برتن بیچنے والے کو ’’بنگلہ دیشی‘‘ کہہ کر مارا پیٹا گیا اور اس کی محنت کی کمائی چھین لی گئی۔ سہرسا میں، ایک بسکٹ بیچنے والے پر لوٹ مار کی کوشش کے بعد گولی چلائی گئی۔ مدھوبنی میں، ایک مسلم نوجوان کیہجوم کے ہاتھوں مار پیٹ کے بعد موت ہو گئی، حالانکہ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ سڑک حادثہ تھا۔ان واقعات نے مجموعی طور پر بہار میں مسلم پھیری والوں اور مزدوروں کی حفاظت کے بارے میں سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جن میں سے بہت سے افراد اپنی گزر بسر کے لیے یومیہ مزدوری پر انحصار کرتے ہیں۔کٹہیا ر کا واقعہ۱۱؍ جنوری کو پوٹھیا پولیس اسٹیشن کے دائرہ اختیار میں پیش آیا۔ متاثرہ اکمل رحمان، جو کورھا پولیس اسٹیشن کے تحت سماڑیا چوک کا رہنے والا تھا، سمیلی بلاک کے چکلا گاؤں میں برتن بیچنے گیا تھا۔رحمان کے مطابق، دو مقامی نوجوانوں نے اسے روکا، اسے گالیاں دیں اور اس پر بنگلہ دیشی ہونے کا الزام لگایا۔ جب برتن خریدنے والی خواتین نے اعتراض کیا تو حملہ آوروں نے انہیں بھی دھمکیاں دیں۔جب خواتین بول اٹھیں تو وہ غصے میں آ گئے اور مجھے ڈنڈوں سے مارنے لگے۔ جب وہ بے ہوش ہو گیا تو ملزمین اس کی جیب سے۱۲؍ ہزار روپے نکال کر فرار ہو گئے۔پوٹھیا پولیس اسٹیشن اور سب ڈویژنل پولیس افسر کے پاس تحریری شکایت جمع کرائی گئی ہے۔ تاہم گا ؤں والوں اور خواتین خریداروں سے پولیس کی پوچھ گچھ کے بعد ملزم کو چوئیا منڈل، پتال منڈل کا بیٹا، اور چکلا گاؤں کے ایک اور مقامی رہائشی کے طور پر شناخت کیا گیا۔سب ڈویژنل پولیس آفیسر رنجن کمار سنگھ نے بتایا کہ ’’ہم تحقیقات کر رہے ہیں اور نتائج کے بعد کارروائی کی جائے گی۔‘‘ تاہم، خاندان والوں  نے مسلم منافرت کا الزام عائد کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مدھیہ پردیش : بیتول ضلع کے ڈھابا گاؤں میں ’غیرقانونی مدرسہ‘ کی افواہ پرانتظامیہ نے اسکول منہدم کردی

ایک اور پریشان کن معاملے میں، سہرسا کے مجرموں نے ایک مسلم بسکٹ فروش محمد مجاہد کو نشانہ بنایا۔پولیس اور خاندانی ذرائع کے مطابق، مجاہد کے ساتھ لوٹ مار کی گئی اور اس پر گولی چلا دی۔ اسے تشویشناک حالت میں اسپتال لے جایا گیا ، جہاں وہ زیر علاج ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ چھوٹے مسلم پھیری والے آسان نشانہ ہوتے ہیں کیونکہ وہ نقد رقم رکھتے ہیں اور ان کے پاس کوئی تحفظ نہیں ہوتا۔ اس واقعے نے دیگر پھیری والوں میں خوف پیدا کر دیا ہے، جن میں سے بہت سے لوگوں نے اندھیرے ہونے کے بعد کام کرنا بند کر دیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ وہ حملہ آوروں کی تلاش میں ہیں، لیکن اب تک کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں نفرت انگیز تقاریر میں تشویشناک اضافہ، اقلیتوں کو نشانہ بنایا گیا

سب سے سنگین کیس مدھوبنی ضلع سے سامنے آیا ہے، جہاں ہیتھیوالی گاؤں کے ایک نوجوان مسلم شخص محمد قیوم کی بھیر بھ استھان پولیس اسٹیشن کے تحت پٹی تول گاؤں میں مار پیٹ کے بعد موت ہو گئی۔ان کے خاندان کے مطابق، قیوم اور دو دوست موٹر سائیکل پر ایک دوکان سے گٹکھا خریدنے گئے تھے۔ دکاندار کے ساتھ بحث ہو گئی۔ اس کے فوراً بعد، کئی لوگوں نے جمع ہو کر قیوم پر حملہ کر دیا۔پولیس نے اسے ہسپتال پہنچایا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ سڑک حادثہ تھا، قیوم کے خاندان والے اس دعوے کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ’’یہ حادثہ نہیں تھا، اسے کئی لوگوں نے مارا پیٹا۔ اس کے جسم پر زخموں کے نشان تھے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: عمرخالد و شرجیل امام کی ضمانت کی نامنظوری مایوس کن وافسوسناک: سابق سپریم کورٹ جج

سماجی کارکنوں اور مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ کس طرح مسلم پھیری والوں اور مزدوروں کو شہریوں کی بجائے مشتبہ افراد سمجھا جا رہا ہے۔ غریب مسلمان جو برتن، بسکٹ یا چھوٹی چیزیں بیچتے ہیں، صرف شبہ کی بنیاد پر ان پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ کٹیہا ر کے ایک مقامی سماجی کارکن نے کہایہ قانون و نظم کی ناکامی ہے۔ جبکہ متاثرین کے خاندانوں نے منصفانہ تحقیقات، ملزمان کے خلاف سخت کارروائی اور ان پھیری والوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے جو روزی کمانے کے لیے گاؤں گاؤں جاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK