دو ماہ سے زائد عرصے کی حراست کے دوران نابالغ لڑکے کو پہنچنے والی ’’جسمانی اور ذہنی اذیت‘‘ کو نوٹ کرتے ہوئے، ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ ایک ماہ کے اندر، لڑکے کو ۵؍ لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرے۔
EPAPER
Updated: January 13, 2026, 9:55 PM IST | Patna
دو ماہ سے زائد عرصے کی حراست کے دوران نابالغ لڑکے کو پہنچنے والی ’’جسمانی اور ذہنی اذیت‘‘ کو نوٹ کرتے ہوئے، ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ ایک ماہ کے اندر، لڑکے کو ۵؍ لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرے۔
پٹنہ ہائی کورٹ نے بہار حکومت کو ایک مسلم نابالغ لڑکے کو ۵؍ لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے جسے غیر قانونی طور پر گرفتار کرکے دو ماہ سے زائد عرصے تک جیل میں رکھا گیا۔ عدالت نے پولیس کی اس کارروائی کو ذاتی آزادی اور آئینی تحفظات کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ جسٹس راجیو رنجن پرساد اور جسٹس رتیش کمار پر مشتمل ڈویژن بنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ لڑکے کی گرفتاری اور حراست، جس کی عمر اس وقت ۱۶؍ سال سے کم تھی، غیر قانونی اور بلا جواز تھی۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ایک کم عمر طالب علم کو بغیر کسی قانونی بنیاد کے قید کیے جانے پر وہ ’’خاموش تماشائی‘‘ نہیں بن سکتی۔
یہ بھی پڑھئے: الیکشن کمشنرس کو قانونی کارروائی سے تاحیات استثنیٰ پر نوٹس
مکتوب میڈیا کے مطابق، یہ کیس ضلع مدھے پورہ میں ہوئے ایک تصادم سے تعلق رکھتا ہے۔ پولیس کے پاس درج کرائی گئی ایف آئی آر میں لڑکے کا نام شامل تھا، لیکن چارج شیٹ میں اس کا نام نہیں تھا۔ لڑکے کی گرفتاری کو چیلنج کرتے ہوئے اس کے اہل کانہ نے پٹنہ ہائی کورٹ میں حبس بے جا کی درخواست دائر کی تھی جس پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے یہ فیصلہ سنایا ہے۔ مذکورہ نابالغ لڑکے کو ۲۳؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو حراست میں لیا گیا تھا اور اس نے دو ماہ سے زائد عرصہ جیل میں گزارا۔ بنچ نے پایا کہ تفتیشی افسر نے ہندوستانی قانون کے تحت نابالغوں کے لیے واضح قانونی تحفظات کے باوجود، کسی ٹھوس مواد یا ثبوت کے بغیر لڑکے کو گرفتار کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’منریگا بچاؤ مارچ‘ کے دوران پولیس پر طاقت کے استعمال کاالزام
عدالت نے مزید کہا کہ ’’تفتیشی افسر نے درخواست گزا ر، جو ۱۶؍ سال سے بھی کم عمر طالب علم ہے، کے خلاف کسی ٹھوس مواد کی غیر موجودگی میں کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کیا۔ افسر کو اس معاملے میں ایسا کرنے کا اختیار نہیں تھا۔‘‘ عدالت نے اس گرفتاری کو ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیا۔ بنچ نے مجسٹریٹ کے کردار پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وہ نابالغ کے حقوق کی حفاظت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ مجسٹریٹ نے لڑکے کی عمر یا گرفتاری کی قانونی حیثیت کی تصدیق کیے بغیر میکانکی انداز میں اسے ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ پولیس نے گرفتاری کے وقت لڑکے کی عمر غلط طور پر ۱۹؍ سال درج کی گئی تھی جس کی وجہ سے اسے غیرقانونی قید کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھئے: دیوریا میں ۵۰؍ سالہ قدیم مزار پر بلڈوزر کارروائی، پورا علاقہ پولیس چھاؤنی میں تبدیل
دو ماہ سے زائد عرصے کی حراست کے دوران نابالغ لڑکے کو پہنچنے والی ’’جسمانی اور ذہنی اذیت‘‘ کو نوٹ کرتے ہوئے، عدالت نے بہار حکومت کو ہدایت دی کہ وہ ایک ماہ کے اندر، لڑکے کو ۵؍ لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ رقم انکوائری کے بعد ذمہ دار افسران سے وصول کی جائے۔ اس کے علاوہ، ہائی کورٹ نے پولیس حکام کے اختیارات کے غلط استعمال کی وجہ سے مقدمہ پر ہونے والے اخراجات کی بھرپائی کے لیے لڑکے کے اہل خانہ کو ۱۵؍ ہزار روپے ادا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے بہار کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) کو ہدایت دی کہ وہ اس واقعے کی انتظامی انکوائری شروع کریں اور غلطی کرنے والے اہلکاروں کے خلاف مناسب کارروائی کریں، ساتھ میں ۶؍ ماہ کے اندر ان سے معاوضے کی رقم کی وصولی کو بھی یقینی بنائیں۔