Updated: October 15, 2026, 9:06 AM IST
| Jakarta
انڈونیشیائی علمائے کونسل نے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ بوروبودور مندر اور جکارتہ میں اطالوی گلوکار کی پرفارمنس کو روکیں اور اس کی وجہ اسرائیل کیلئے ان کی ماضی کی حمایت کو قرار دیا ہے۔ انڈونیشیا کی سب سے بڑی اور بااثر اسلامی کونسل نے اطالوی معروف گلوکار اینڈریا بوچیلی کے آنے والے دو کنسرٹس کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ اسرائیل کیلئے بوچیلی کی ماضی کی حمایت مسلم اکثریتی ملک کے عوام کے جذبات سے متصادم ہے۔
اینڈریا بوچیلی ۔ تصویر: آئی این این
انڈونیشیا کی سب سے اعلیٰ علمائے کونسل (ایم یو آئی) نے ۳۱؍ اکتوبر کو وسطی جاوا کے شہر میگیلانگ میں یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل تاریخی بوروبودور مندراور ۳؍ فروری کو ہونے والی پرفارمنس کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کونسل، جس نے سب سے پہلے ۱۰؍ اکتوبر کو اپنی مخالفت کا اعلان کیا تھا، نے بدھ کو وزارتِ سیاحت کے ساتھ ملاقات کی تاکہ بوچیلی کے رومانزا ۳۰؍ ویں سالگرہ ورلڈ ٹور انڈونیشیااور بوروبودور (جو ملک کے سب سے نمایاں تاریخی مقامات میں سے ایک ہے) میں ہونے والے کنسرٹ پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ ایم یو آئی کا کہنا ہے کہ اس کی مخالفت کی وجہ اینڈریا بوچیلیکی طرف سے ماضی میں اسرائیل کی حمایت ہے، جس میں ۲۰۱۰ء میں لاس اینجلس میں اسرائیلی افواج کیلئے ایک فنڈ ریزنگ تقریب میں شرکت اور ۲۰۲۲ء میں تل ابیب میں ہونے والا ایک کنسرٹ شامل ہے۔
کونسل نے ایک بیان میں کہا، ’’ایسی شخصیت کو پلیٹ فارم دینا جس نے غزہ میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے جڑی فوجی کارروائیوں کی مالی معاونت یا حمایت کی ہو، انڈونیشیا کی قوم کے اقدار اور ایم یو آئی کی مذہبی ہدایات کے خلاف ہے۔ ‘‘ دنیا کے سب سے بڑے مسلم اکثریتی ملک انڈونیشیا میں فلسطینیوں کے ساتھ عوامی ہمدردی گہری اور وسیع پیمانے پر پائی جاتی ہے۔ ملک کی حکومت بھی طویل عرصے سے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حامی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش واپسی کا مقصد جمہوریت کی بحالی: شیخ حسینہ
وزارتِ سیاحت کے سکریٹری بایو اجی نے بدھ کو بتایا کہ اس ملاقات کا مقصد ایم یو آئی کے ساتھ ایک اتفاق رائے تک پہنچنا تھا۔ اجی نے کہا، ’’حکومت کا موقف بالکل واضح ہے، ہم فلسطین کی حمایت کرتے ہیں اور ایم یو آئی کے لیڈروں کی طرف سے کچھ ہدایات دی گئی ہیں جن پر ہم مزید بات چیت کرنے کی کوشش کریں گےلیکن اگر ایم یو آئی پہلے ہی بیان جاری کر چکی ہےتو ہم یقینی طور پر ایم یو آئی کے فیصلے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ ‘‘بدھ کو میگیلانگ پولیس نے مختلف اسلامی گروہوں کی بڑھتی ہوئی مخالفت کے پیش نظر بوروبودور کمپلیکس میں ہونے والے کنسرٹ کیلئے اجازت نامہ جاری کرنے کی اپنی سفارش واپس لے لی ہے۔ نہ تو بوچیلی اور نہ ہی کنسرٹ کے آرگنائزرز کی طرف سے ایم یو آئی کےاعتراضات پر فوری طور پر کوئی عوامی ردِعمل سامنے آیا ہے۔
انڈونیشیا میں ہونے والی یہ پرفارمنسیز بوچیلی کے رومانزا ۳۰؍ ویں سالگرہ ورلڈ ٹورکا حصہ ہیں، جو اس البم کی یاد میں منایا جا رہا ہے جس نے اس گلوکار کو بین الاقوامی شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا تھا اور جس میں ان کا ایک مشہور ترین گانا ’’کون تے پارٹیرو‘‘ بھی شامل تھا۔