Updated: November 01, 2026, 9:05 PM IST
| New Delhi
مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے بڑھتے ہوئے استعمال کے درمیان ایک سافٹ ویئر ڈیولپر کے ملازمت کے انٹرویو کا دلچسپ معاملہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ ایک امیدوار نے کوڈنگ انٹرویو کے دوران چیٹ جی پی ٹی سمیت دیگر مصنوعی ذہانت کے ٹولز استعمال کرنے کی اجازت مانگ لی۔
ٹیک ملازم۔ تصویر:آئی این این
مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے بڑھتے ہوئے استعمال کے درمیان ایک سافٹ ویئر ڈیولپر کے ملازمت کے انٹرویو کا دلچسپ معاملہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ ایک امیدوار نے کوڈنگ انٹرویو کے دوران چیٹ جی پی ٹی سمیت دیگر مصنوعی ذہانت کے ٹولز استعمال کرنے کی اجازت مانگ لی۔ امیدوار کا کہنا تھا کہ جب جدید دور میں سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کے لیے مصنوعی ذہانت کے ٹولز دستیاب ہیں اور وہ چند سیکنڈ میں کوڈ تیار کرسکتے ہیں تو پھر کسی مسئلے کو خود حل کرنے میں ۴۵ ؍منٹ کیوں ضائع کیے جائیں؟ تاہم اس مطالبے کے بعد امیدوار کو سافٹ ویئر ڈیولپر کی ملازمت کے لیے منتخب نہیں کیا گیا۔
یہ معاملہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر ایک وائرل پوسٹ کے ذریعے سامنے آیا۔ اس پوسٹ میں کمپنی کی ٹیلنٹ ایکوزیشن ٹیم کی جانب سے امیدوار کو بھیجا گیا مسترد کیے جانے کا ای میل شیئر کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق یہ ای میل ٹیک برج سالیوشنز (TechBridge Solutions) کی جانب سے بھیجا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق امیدوار نے سافٹ ویئر ڈیولپر کی ملازمت کے لیے انٹرویو دیتے ہوئے کوڈنگ اسیسمنٹ (Coding Assessment) کے دوران چیٹ جی پی ٹی، کلاڈ (Claude) یا کرسر (Cursor) جیسے مصنوعی ذہانت کے ٹولز استعمال کرنے کی اجازت طلب کی۔ اس کا مؤقف تھا کہ حقیقی دنیا میں سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ کا کام اب مصنوعی ذہانت کے بغیر نہیں کیا جاتا، اس لیے انٹرویو کے دوران بھی ان ٹولز کے استعمال کی اجازت ہونی چاہیے۔
جب انٹرویو لینے والے نے وضاحت کی کہ کوڈنگ راؤنڈ کا مقصد امیدوار کی مسئلے کو سمجھنے اور اسے خود حل کرنے کی صلاحیت جانچنا ہے تو امیدوار نے اس دلیل سے اتفاق نہیں کیا۔ اس نے کہا کہ حقیقی دفتری ماحول میں ڈیولپرز پہلے ہی اے آئی ٹولز کی مدد سے کوڈنگ کرتے ہیں، اس لیے انٹرویو میں بھی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ بات چیت کے دوران امیدوار نے انٹرویو لینے والے سے پوچھا کہ کیا وہ کوڈنگ اسائنمنٹ مکمل کرنے کے لیے اے آئی ایجنٹ استعمال کرسکتا ہے؟ اس نے وضاحت کی کہ اے آئی ٹول کی مدد سے حل تیار کرنے کے بعد وہ خود انٹرویو لینے والے کو اس حل کے بارے میں سمجھا دے گا۔
یہ بھی پڑھئے:ایشین چیمپئنز لیگ کے اہم مقابلے میں کرسٹیانو رونالڈو النصر کی ٹیم سے باہر
امیدوار کا استدلال تھا کہ اگر کوئی مصنوعی ذہانت کا ٹول صرف ۳۰؍ سیکنڈ میں کسی مسئلے کا جواب یا حل تیار کرسکتا ہے تو پھر اسی کام کو خود کرنے میں ۴۵ ؍منٹ کیوں صرف کیے جائیں؟ اس کے خیال میں جدید ٹیکنالوجی کا مقصد ہی کام کو کم وقت میں اور زیادہ مؤثر انداز میں مکمل کرنا ہے۔تاہم انٹرویو لینے والے نے امیدوار کی صلاحیت جانچنے کے لیے ایک اہم سوال پوچھ لیا۔ اس سے کہا گیا کہ وہ اے آئی کے ذریعے تیار کیے گئے کوڈ کی ٹائم کمپلیکسٹی یعنی اس بات کی وضاحت کرے کہ الگورتھم کی کارکردگی اور وقت کی ضرورت ان پٹ کے حجم کے ساتھ کس طرح تبدیل ہوتی ہے۔ اس سوال کا جواب دینے کے بجائے امیدوار نے ایک مرتبہ پھر پوچھ لیا کہ کیا وہ اس کی وضاحت حاصل کرنے کے لیے بھی چیٹ جی پی ٹی سے سوال کرسکتا ہے؟ اس جواب نے انٹرویو لینے والے کے سامنے امیدوار کی بنیادی پروگرامنگ اور مسئلے کو خود سمجھنے کی صلاحیت سے متعلق سوالات کھڑے کردیے۔
اس گفتگو کے بعد کمپنی کی ریکروٹمنٹ ٹیم نے امیدوار کو ای میل کے ذریعے مطلع کیا کہ انہوں نے کسی دوسرے امیدوار کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ای میل میں اس کی جدید ڈیولپمنٹ ٹولز میں دلچسپی کی تعریف بھی کی گئی، تاہم اسے مشورہ دیا گیا کہ وہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیولپمنٹ کے بارے میں سیکھنے کے ساتھ اپنی بنیادی پروگرامنگ اور مسئلے حل کرنے کی صلاحیتوں کو بھی مضبوط کرے۔ یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کے درمیان بحث شروع ہوگئی کہ کیا ملازمت کے انٹرویو میں اے آئی ٹولز کے استعمال کی اجازت طلب کرنا غلط ہے یا جدید ٹیکنالوجی کے دور میں یہ ایک جائز مطالبہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے:انیل کپور نے شاہ رخ خان سے پہلی ملاقات اور ’منت‘ سے جڑا قصہ بتایا
ایک صارف نے لکھا کہ حقیقی ملازمت میں اے آئی کا استعمال عام ہوسکتا ہے، لیکن انٹرویو کا مقصد یہ جانچنا ہوتا ہے کہ امیدوار خود کتنا جانتا ہے۔ اگر کوئی شخص ہر سوال کے جواب میں صرف یہ کہے کہ وہ اے آئی سے مدد لے گا تو اس کی اپنی صلاحیتوں کا اندازہ کیسے لگایا جاسکتا ہے؟ ایک دوسرے صارف نے کہا کہ امیدوار کو اے آئی استعمال کرنے کی وجہ سے مسترد نہیں کیا گیا، بلکہ مسئلہ یہ تھا کہ وہ ہر مرحلے پر مصنوعی ذہانت پر انحصار کر رہا تھا۔ اگر وہ واقعی ایک قابل سافٹ ویئر انجینئر ہوتا تو اے آئی کے تیار کردہ کوڈ کی ٹائم کمپلیکسٹی اور اس کے کام کرنے کے طریقے کی وضاحت خود کرسکتا تھا۔ ایک اور صارف نے طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کمپنی کو اپنا تکنیکی کام مکمل کرنے کے لیے صرف چیٹ جی پی ٹی ہی درکار ہوتا تو وہ کسی انسانی انجینئر کو ملازمت کیوں دیتی؟ کمپنی کو ایسے شخص کی ضرورت ہے جو ٹیکنالوجی کو سمجھ سکے اور اس کے تیار کردہ حل کی جانچ بھی کرسکے۔ اس واقعہ نے ایک اہم سوال کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت مستقبل میں سافٹ ویئر انجینئرز کے کام کرنے کے طریقے کو مکمل طور پر تبدیل کردے گی؟ چیٹ جی پی ٹی، کلاڈ اور کرسر جیسے ٹولز کوڈ لکھنے، غلطیاں تلاش کرنے، پروگرامنگ کے مسائل حل کرنے اور ڈیولپمنٹ کے عمل کو تیز کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ تاہم ان ٹولز کے ذریعے تیار کیے گئے کوڈ کو سمجھنا، اس کی خامیوں کی نشاندہی کرنا اور درست حل کا انتخاب کرنا اب بھی اہم تکنیکی مہارتیں ہیں۔
ماہرین کی جانب سے بھی اے آئی کو ایک معاون ٹیکنالوجی کے طور پر استعمال کرنے اور اس پر مکمل انحصار کرنے کے درمیان فرق کو اہم قرار دیا جاتا ہے۔ کسی بھی سافٹ ویئر انجینئر کے لیے ضروری ہے کہ وہ اے آئی سے حاصل ہونے والے نتائج کی جانچ کرسکے اور یہ سمجھ سکے کہ تیار کردہ کوڈ کس طرح کام کرتا ہے۔بہرحال، ایک امیدوار کا یہ سوال کہ ’جب اے آئی ۳۰ ؍سیکنڈ میں کام کرسکتا ہے تو میں ۴۵؍ منٹ کیوں لگاؤں؟‘ اب مصنوعی ذہانت اور ملازمتوں کے مستقبل سے متعلق سوشل میڈیا بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ اس واقعہ نے واضح کیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے واقفیت کے ساتھ بنیادی پروگرامنگ، منطقی سوچ اور مسئلے حل کرنے کی صلاحیت بھی سافٹ ویئر ڈیولپرز کے لیے انتہائی اہم ہے۔