الیکشن کمیشن کی ہدایت کے بعد بیلگاوی پولیس نےبی جے پی لیڈر روی پاٹل اور دیگر کیخلاف ایف آئی آر درج کی۔
EPAPER
Updated: October 03, 2026, 10:29 AM IST | Agency | Bengaluru
الیکشن کمیشن کی ہدایت کے بعد بیلگاوی پولیس نےبی جے پی لیڈر روی پاٹل اور دیگر کیخلاف ایف آئی آر درج کی۔
کرناٹک میں جاری ایس آئی آر کے درمیان ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایک طرف الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹ میں غلط دعوئوں اور اعتراضات میں دھاندلی کو روکنے کے لیے علاحدہ مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے، دوسری طرف مسلم ووٹرس کے نام حذف کرنے کے الزام میں بی جے پی لیڈران پر ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے کرناٹک کے چیف الیکٹورل افسر کو ہدایت دی ہے کہ ووٹر لسٹ سے متعلق فرضی دعوے اور اعتراضات داخل کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ اس ہدایت کے پیش نظر کرناٹک پولیس نے بیلگاوی ضلع میں جاری ایس آئی آر کے دوران فارم۷؍ درخواست کا استعمال کرتے ہوئے۱۹۸؍ مسلم ووٹرس کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کرنے کی کوشش کرنے کے الزام میں کرناٹک کے بی جے پی لیڈر روی پاٹل اور دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:شامی انقلاب پر مبنی آنند گوپال کی کتاب بیلی گفورڈ انعام کی دوڑ میں شامل
رپورٹس کے مطابق مذکورہ ایف آئی آر کے علاوہ بھی ایس آئی آر میں گڑبڑی سے متعلق کم از کم ۲؍ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک میسور میں مقامی بی جے پی لیڈروں اور دیگر کے خلاف درج کی گئی ہے جس میں شکایت کنندہ نے الزام لگایا ہے کہ ایس آئی آر کے دوران اس کے، اس کے خاندان اور ’مسلم طبقے‘ کے دیگر افراد کے ووٹ حذف کرنے کی سازش رچی گئی۔ اس کوشش سےمعاشرے میں بدامنی پیدا ہوئی۔ شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ پاٹل کے خلاف بیلگاوی مارکیٹ پولیس اسٹیشن میں معاملہ درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ جب وہ ایس آئی آر کے عمل میں بی ایل او کی مدد کر رہے تھے اور ووٹرس کی معلومات کی تصدیق میں معاونت کر رہے تھے توملزم پاٹل، شنکر بیراپا نائک اور پرشانت دیپک منڈین منی ۲۰؍ دیگر افراد نے انہیں دھمکیاں دیں اور ووٹر لسٹ سے۱۹۸؍ ووٹرس کے نام حذف کرنے کی سازش کی اور جعلی دستاویزات بنا کر بی ایل او کے حوالے کئے۔