کچھ امریکی لیڈروں نے جنگ بندی کو درست قدم قرار دیا تو کچھ لیڈروں نے اسےغیر واضح حکمت عملی اور امریکہ کی شکست قرار دیا
EPAPER
Updated: April 09, 2026, 8:21 AM IST | New York
کچھ امریکی لیڈروں نے جنگ بندی کو درست قدم قرار دیا تو کچھ لیڈروں نے اسےغیر واضح حکمت عملی اور امریکہ کی شکست قرار دیا
امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کے جنگ بندی اعلان کے بعد امریکی سیاسی حلقوں میں شدید اختلافات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کو کچھ قانون سازوں نے سفارتکاری کی پیش رفت قرار دیا ہے جبکہ دیگر نے اسے غیر واضح حکمت عملی اور خطرناک رجحان سے تعبیر کیا ہے۔اعلان کے مطابق واشنگٹن اور تہران نے دس نکاتی فریم ورک پر کام کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جو عالمی تیل سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔ اس پیش رفت کو بعض ریپبلکن لیڈروں نے امریکی فوجی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ریپبلکن رکن کانگریس مورگن گریفتھ نے صدر ٹرمپ کے اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج کی مؤثر کارروائی نے ایران کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا۔ ان کے مطابق اس جنگ بندی کا اصل مقصد یہ یقینی بنانا ہونا چاہئے کہ اب ایران کبھی بھی جوہری صلاحیت حاصل نہ کر سکے۔اسی طرح پنسلوانیا سے تعلق رکھنے والے رکن کانگریس برائن فٹزپیٹرک نے اس پیش رفت کو ایک محتاط مگر ضروری قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سفارتکاری ہمیشہ اولین ترجیح ہونی چا ہئے اور اگر یہ معاہدہ انسانی جانوں کے تحفظ اور سنجیدہ مذاکرات کے لئے موقع فراہم کرتا ہے تو اسے مثبت سمجھنا چاہیے ۔
دوسری جانب ریپبلکن سینیٹر لینڈسے گراہم نے بھی محتاط حمایت کا اظہار کیا لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ کسی بھی نتیجے پر جلد پہنچنا مناسب نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق اگر سفارتکاری سے بہتر نتائج حاصل ہوتے ہیں تو اسے ترجیح دی جانی چا ہئے مگر ہر دعوے اور حقیقت کو اچھی طرح پرکھنا لازمی ہے۔اس کے برعکس کئی ڈیموکریٹ لیڈروں نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انڈیانا کے رکن کانگریس فرینک مروان نے کہا کہ ایران کے حوالے سے صدر کے یکطرفہ اقدامات نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ انہوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق اس تنازع میں امریکہ کے واضح مقاصد نظر نہیں آئے اور اس کا کوئی منطقی انجام بھی سامنے نہیں آ رہا جبکہ امریکی فوجی اب بھی خطرے میں ہیں۔کیلیفورنیا کے رکن کانگریس کیون کائلی نے بھی کانگریس کے کردار کو نظر انداز کیے جانے پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو کسی بھی صورت میں ایسی پالیسی اختیار نہیں کرنی چاہیے جو دیگر اقوام کو تباہ کرنے کی دھمکی پر مبنی ہو اور جاری فوجی کارروائیوں پر نگرانی کانگریس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔اسی طرح الاسکا سے سینیٹر لیزا مرکوسکی نے صدر کی بیان بازی کو امریکی اقدار کے خلاف قرار دیا۔ایریزونا کے سینیٹر روبن گالیگو نے کہا کہ کسی بھی تہذیب کو ختم کرنے کی دھمکی دینا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔