• Fri, 02 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

زراعت اور متعلقہ شعبوں میں مرکز کا تعاون بڑھا : نرملا سیتارمن

Updated: October 02, 2026, 10:03 PM IST | New Delhi

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت ریاستوں کے ساتھ مل کر زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں میں تعاون اور سرمایہ کاری بڑھا رہی ہے، تاکہ دیہی علاقوں میں روزگار اور ذریعۂ معاش کے مواقع مضبوط ہوں اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کیا جاسکے۔

Nirmala Sitharaman.Photo:INN
نرملا سیتارمن۔ تصویر:آئی این این

مرکزی وزیر خزانہ  نرملا سیتارمن  نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت ریاستوں کے ساتھ مل کر زراعت اور اس سے وابستہ شعبوں میں تعاون اور سرمایہ کاری بڑھا رہی ہے، تاکہ دیہی علاقوں میں روزگار اور ذریعۂ معاش کے مواقع مضبوط ہوں اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کیا جاسکے۔آندھرا پردیش کے  مدن پلی  میں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ موبائل مویشی طبی یونٹس اور مختلف اضلاع میں ویٹرنری ڈاکٹروں کی تعیناتی جیسی کوششوں سے ڈیری اور ماہی گیری کے شعبوں کو مضبوط بنایا جارہا ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں کسانوں اور دیہی خاندانوں کے لیے آمدنی کے اضافی ذرائع پیدا کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
سیتارمن نے کہا کہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کی مشترکہ کوششوں سے زراعت سے متعلق خدمات کی رسائی دیہی علاقوں تک بڑھائی جارہی ہے۔ ان کے مطابق ڈیری اور ماہی گیری جیسے شعبوں میں بڑھتی سرمایہ کاری کسانوں کو آمدنی کے مختلف ذرائع فراہم کرنے اور صرف ایک فصل پر انحصار کم کرنے میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔
 وزیر خزانہ نے کہا کہ مرکزی حکومت اور آندھرا پردیش حکومت  رائل سیما  کو ’رتنالا سیما‘ یعنی خوشحالی کی سرزمین میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ۲۰۲۴ء میں این ڈی اے کو ملنے والے عوامی مینڈیٹ نے ترقی سے متعلق بڑے اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے نئی توانائی فراہم کی ہے۔ سیتارمن نے بتایا کہ آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ  این  چندرابابو نائیڈو  نے ریاست کے ۱۰؍ اضلاع پر مشتمل ایک بڑے منصوبے کا تصور پیش کیا ہے۔ اس میں رائل سیما کے آٹھ اضلاع کے علاوہ دو پڑوسی اضلاع شامل ہیں۔ تقریباً  ایک لاکھ کروڑ روپے  کی اس اہم پہل کا مقصد خطے کو عالمی معیار کے  باغبانی مرکز کے طور پر ترقی دینا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:کونیا میں فلسطین سے یکجہتی کا منفرد مظاہرہ، فٹبال میچ 89:59 پر ختم

ان کے مطابق اس منصوبے کو وزیر اعظم  نریندر مودی  کی حمایت کے ساتھ عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی ) اور دیگر کثیر ملکی مالیاتی اداروں کا تعاون حاصل ہوگا۔ منصوبے کے تحت جدید زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا، پانی کے مؤثر استعمال پر توجہ دی جائے گی اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے جدید طریقے اپنائے جائیں گے۔ وزیر خزانہ نے زرعی ترقی کے لیے پانی کے تحفظ کو بنیادی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت خاص طور پر پانی کی قلت سے متاثرہ علاقوں میں پانی کے ہر قطرے کے زیادہ سے زیادہ مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے جدید زرعی طریقوں اور ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے، تاکہ کم پانی میں زیادہ پیداوار حاصل کی جاسکے اور کسانوں کو موسمی اور آبی چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد ملے۔
سیتارمن نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سائنسی بنیادوں پر تیار کی گئی نئی بیج کی اقسام کو فروغ دے رہی ہے۔ ایسی فصلوں اور بیجوں کی تیاری پر زور دیا جارہا ہے جو شدید گرمی، خشک سالی اور بدلتے موسمی حالات کو زیادہ بہتر طریقے سے برداشت کرسکیں۔ اس سے ہندوستانی زراعت کو مستقبل کے موسمیاتی خطرات کے مقابل زیادہ مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔وزیر خزانہ نے کسانوں اور دیہی خاندانوں سے متعلق مختلف مرکزی اسکیموں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ  گوبر دھن اسکیم  کے تحت دیہی علاقوں میں پیدا ہونے والے نامیاتی فضلے کو صاف ستھری بایو گیس میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس سے ایک طرف صاف توانائی کے استعمال کو فروغ ملتا ہے تو دوسری جانب دیہی علاقوں میں اضافی آمدنی کے مواقع بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:’ ’دِریشیم: دی کنکلوژن‘‘ اجے دیوگن اور تبو کی ۱۱؍ویں مشترکہ فلم

انہوں نے  پی ایم کُسم اسکیم  کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے کسانوں کو آبپاشی کے لیے شمسی توانائی سے چلنے والے پمپ فراہم کیے جارہے ہیں۔ اس اقدام سے کسانوں کو آبپاشی کے لیے نسبتاً قابل اعتماد اور کم لاگت توانائی دستیاب کرانے میں مدد مل رہی ہے۔ قدرتی آفات اور دیگر خطرات سے فصلوں کو ہونے والے نقصان کے سلسلے میں سیتارمن نے  پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا   کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق فصل بیمہ اسکیم کسانوں کو مالی تحفظ فراہم کرنے اور زرعی خطرات کے اثرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔
 نرملا سیتارمن نے کہا کہ مرکزی حکومت کا مقصد صرف زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا نہیں ہے بلکہ کسانوں کی آمدنی بڑھانا، دیہی روزگار کے مواقع پیدا کرنا، پانی کا تحفظ، ٹیکنالوجی پر مبنی زراعت کو فروغ دینا اور زرعی شعبے کو مستقبل کے چیلنجوں کے لیے تیار کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے ساتھ  ڈیری، ماہی گیری اور باغبانی جیسے شعبوں کی مربوط ترقی دیہی معیشت کو طویل مدت میں مضبوط بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق کسانوں کو آمدنی کے متعدد ذرائع فراہم کرکے دیہی خاندانوں کی معاشی بنیاد کو مستحکم کیا جاسکتا ہے۔ وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ مرکز اور ریاستوں کے درمیان بہتر تال میل، جدید ٹیکنالوجی، پانی کے مؤثر استعمال، موسمیاتی طور پر مضبوط فصلوں اور کسانوں پر مرکوز اسکیموں کے ذریعے دیہی معیشت کو نئی سمت دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK