• Sun, 15 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

چین نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کی ، کنیڈا اور برطانیہ کے شہریوں کو راحت دی

Updated: February 15, 2026, 7:08 PM IST | Beijing

چین نے برطانیہ اورکنیڈاکے شہریوں کے لیے اپنے ویزا قوانین میں بڑی تبدیلی کی ہے۔ چین کے محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اتوار کو کہا کہ سرحدی سفر کو آسان بنانے کے لیے ۱۷؍ فروری سے کنیڈا اور برطانیہ کے عام پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا فری پالیسی بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

China Ease In Visa.Photo;iNN
چین نے ویزا میں راحت دی۔ تصویر:آئی این این

 چین نے برطانیہ اورکنیڈاکے شہریوں کے لیے اپنے ویزا قوانین میں بڑی  تبدیلی کی ہے۔ چین کے محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اتوار کو کہا کہ سرحدی سفر کو آسان بنانے کے لیے ۱۷؍ فروری سے کنیڈا اور برطانیہ کے عام پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا فری پالیسی بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی شِنہوا کے مطابق، چین کے محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ دونوں ممالک کے عام پاسپورٹ ہولڈرز کو کاروبار، سیاحت، خاندان/ دوستوں سے ملاقات، تبادلہ اور عبوری سفر کے مقصد سے چین آنے اور ۳۰؍ دن تک رہنے کے لیے ویزا سےمستثنیٰ رکھا جا سکتا ہے۔ یہ پالیسی ۳۱؍دسمبر ۲۰۲۶ء تک لاگو رہے گی۔
 برطانوی وزیراعظم کیر اسٹارمر اور کنیڈا کے ہم منصب مارک کارنی نے جنوری میں بیجنگ کا دورہ کیا تھا۔ ان کا مقصد چین کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنا اور امریکہ کی مسلسل بدلتی صورتحال سے الگ ہونا تھا۔ دونوں رہنماؤں کی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد ہی چین کی طرف سے یہ بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ بدلتے عالمی حالات کے درمیان یہ فیصلہ اہمیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:’’گھوس خور پنڈت‘‘ کی مشکلات میں اضافہ، اداکار ویبھو پاٹھک نے شکایت درج کروائی

دونوں لیڈروں نے صدر شی جن پنگ جیسے چین کے بڑے لیڈروں کے ساتھ ملاقات کے بعد پیش رفت کی تعریف کی تھی، جس میں ان کے شہریوں کے لیے چین میں ویزا فری رسائی جیسے مسائل بھی شامل تھے۔جب برطانوی وزیراعظم کیر اسٹارمر چین کے دورے پر پہنچے تو انہیں اور ان کی ٹیم کو برنر فون اور نئے سم کارڈ فراہم کیے گئے۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ وہ اس ڈیوائس پر اسپائی ویئر کے انسٹال ہونے یا برطانوی حکومت کے سرور ہیک ہونے سے بچنے کے لیے عارضی ای میل ایڈریس بھی استعمال کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھئے:ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ:بقا کی جنگ میں آسٹریلیا، سری لنکا کی سپر ۸؍پر نظر

اس حوالے سے برطانیہ کے معروف اخباردی گارڈین کی ایک رپورٹ میں کہا گیاکہ ’’ایسے اقدامات سننے میں تو ڈرامائی لگ سکتے ہیں، لیکن ڈجیٹل جاسوسی اور انفارمیشن سیکوریٹی کے دور میں یہ عام بات ہے۔ مثال کے طور پر، نمبر۱۰؍ کچھ غیر ملکی دوروں پر برنر فون کا باقاعدہ استعمال کرتے ہیں، جیسے ۲۰۲۴ء میں برازیل میں جی۲۰؍ سمٹ اور ۲۰۲۵ء میں جنوبی افریقہ میں۔ چین کے دوروں کے لیے یہ احتیاط کم از کم ایک دہائی سے عام ہیں۔ توقع ہے کہ بیجنگ خاموشی سے سن رہا ہوگا اور نگرانی کرے گا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK