• Sun, 15 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کشمیر : بازاروں میں کھجوروں کی بہار لیکن معیار پر سوال

Updated: February 15, 2026, 8:06 PM IST | Srinagar

رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی وادی کشمیر کے بازاروں میں غیر معمولی رش دیکھا جا رہا ہے، خصوصاً کھجور خریدنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم عوامی حلقوں نے حکومت اور فوڈ سیفٹی محکمے سے مطالبہ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے وادی کشمیر کو برآمد ہونے والی کھجوروں کے معیار کی سختی سے جانچ کی جائے تاکہ ناقص یا غیر معیاری اشیاء مارکیٹ میں داخل نہ ہوسکیں۔

Dates Image.Photo:INN
کھجوروں کی تصویر:آئی این این

رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی وادی کشمیر کے بازاروں میں غیر معمولی رش دیکھا جا رہا ہے، خصوصاً کھجور خریدنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم عوامی حلقوں نے حکومت اور فوڈ سیفٹی محکمے سے مطالبہ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے وادی کشمیر کو برآمد ہونے والی کھجوروں کے معیار کی سختی سے جانچ کی جائے تاکہ ناقص یا غیر معیاری اشیاء مارکیٹ میں داخل نہ ہوسکیں۔ 
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہر سال رمضان سے قبل ہزاروں ٹن کھجور کشمیر پہنچتے ہیں، مگر اس بات کی کوئی واضح ضمانت نہیں ہوتی کہ ان کی کوالٹی عالمی معیار کے مطابق ہے یا نہیں۔ لوگوں نے زور دے کر کہا کہ کھانے پینے کی اشیاء، خصوصاً مذہبی اہمیت رکھنے والی مصنوعات میں کوئی بھی سمجھوتہ قابلِ قبول نہیں ہے۔ 
سری نگر کے معروف کھجور تاجر ظہور احمد ترمبو نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کھجوروں کی خرید و فروخت میں غیر سنجیدہ عناصر کی مداخلت تشویشناک بنتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ چند برسوں سے سوشل میڈیا پر کئی ایسے افراد سامنے آئے ہیں جو مختلف پیشوں سے وابستہ ہونے کے باوجود رمضان کے دوران کھجور بیچنے لگتے ہیں۔ 
انہوں نے کہاکہ حیرت کی بات یہ ہے کہ جو لوگ سال بھر کسی اور پیشے سے جڑے ہوتے ہیں، رمضان آتے ہی کھجوروں کا کاروبار شروع کر دیتے ہیں۔ بے روزگاری اپنی جگہ لیکن ہر کوئی حساس فوڈ بزنس میں نہیں آسکتا۔ ظہور ترمبو کے مطابق فیس بک اور انسٹاگرام پر سرگرم کچھ انفلوئنسر بھی مبالغہ آرائی اور غلط تشہیر کے ذریعے صارفین کو گمراہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ انفلوئنسر بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، لیکن ان میں زمینی حقیقت بہت کم ہوتی ہے۔ کئی لوگ ایسی کھجوروں کا بھی دعویٰ کرتے ہیں جو کشمیر میں دستیاب ہی نہیں ہوتیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:بارش کی وجہ سے ہند-پاکستان میچ نہ ہونے پر سب سے زیادہ نقصان کس کا ہوگا؟

انہوں نے خاص طور پر مدینہ منورہ کی ایک معروف نوعیت کی کھجور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ کھجور صرف مخصوص باغات میں پائی جاتی ہے اور کشمیر تک اس کی باقاعدہ برآمد نہیں ہوتی۔ اس کے باوجود کچھ دکاندار اس کھجور کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔  انہوں نے مزید کہا کہ بعض موسمی دکاندار ایک ہی قسم کی کھجور پر رعایت کا جھانسہ دے کر خریدار کو اپنی دکان تک بلاتے ہیں، مگر وہاں جا کر ریٹ اور کوالیٹی بالکل مختلف فراہم کی جاتی ہے، جو صریحاً دھوکہ دہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:سنجے لیلا بھنسالی کی فلم ’’لَو اینڈ وار‘‘ کی ریلیز کی تاریخ آگے بڑھی

ظہور احمد ترمبو نے فوڈ سیفٹی ڈپارٹمنٹ سے مطالبہ کیا کہ کھجور کی دکانوں اور سوشل میڈیا پر فروخت کرنے والے افراد کی سختی سے سیمپلنگ کی جائے تاکہ عوام کی صحت کے ساتھ کھلواڑ نہ ہو۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ صرف رجسٹرڈ اور معتبر دکانداروں سے ہی خریداری کریں۔  عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ رمضان کے مقدس مہینے میں مہنگائی، ناجائز منافع خوری، جعلی اشیاء کی فروخت اور غیر معیاری کھجوروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ صارفین سکون کے ساتھ خریداری کر سکیں اور کسی دھوکے کا شکار نہ ہوں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK