Updated: October 17, 2026, 2:04 PM IST
| Beijing
چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے’’جابرانہ قیام‘‘ کو فوری طور پر روکنے کا مطالبات کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ ’ مسئلہ فلسطین اس صدی کی سب سے بڑی تاریخی ناانصافی‘ ‘ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیجنگ طویل عرصے سے ’’دو ریاستی حل‘‘ کی حمایت کرتا رہا ہے اور اس تنازع کو حل کرنے کا یہی درست اور مناسب طریقہ ہے۔
چین اور اسرائیل کے نمائندوں کے درمیان یہ روبرو ملاقات جمعرات کو آذربائیجان میں منعقدہ ایک کانفرنس کے دوران ہوئی۔ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے اس ملاقات کی تصدیق کی، تاہم جب ان کے دفتر سے مغربی کنارے یا فلسطینیوں سے متعلق گفتگو کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔اسرائیلی صدر نے اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’ہماری ملاقات ہمارے دوطرفہ تعلقات اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر مرکوز تھی۔ میں نے بالخصوص اقتصادی تعاون، تجارت اور ثقافت کے شعبوں میں ہمارے باہمی تعلقات کی تعریف کی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ہم نے علاقائی پیش رفت پر بھی بات چیت کی۔ میں نے خطے میں اسرائیل کی امن کی خواہش کو اجاگر کیااور ساتھ ہی ہماری سیکیورٹی کو درپیش اسٹریٹجک خطرات، بالخصوص ایران اور اس کے پراکسی کی طرف سے درپیش چیلنج پر بھی زور دیا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: میڈرڈ، میکسیکوسٹی: فلسطین سے اظہارِ یکجہتی، فنکاروں نے میٹرو اسٹیشنوں کےنام بدلے
واضح رہے کہ ۲۰۲۳ء میں بیجنگ نے سالہا سال کی دشمنی کے بعد ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کا تاریخی معاہدہ کرایا تھا۔ اس کے بعد جاریہ سال ۲۰۲۶ء کے آغاز میں چین نے پاکستان کے ساتھ مل کر امریکہ و اسرائیل اور ایران کے درمیان بات چیت کرانے کی کوششیں کی تھیں، اگرچہ وہ معاہدہ حتمی نتیجہ حاصل نہ کر سکا۔ چین نے گزشتہ چند سالوں سے خود کو اسرائیل-فلسطین تنازع کے حل کیلئے ایک ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔ ۲۰۲۴ء میں بیجنگ نے ہی فلسطین کے متضاد اور حریف دھڑوں کو ایک عبوری ’’قومی مفاہمتی حکومت ‘‘ کی تشکیل پر رضامند کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو مسترد کر دیا
وزیرِ خارجہ وانگ ای نے زور دے کر کہا کہ چین غزہ کی پٹی تک انسان دوست امداد کی مکمل رسائی چاہتا ہے تاکہ اس انسانی ’’تباہی‘‘ کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ چین چاہتا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان جلد از جلد بات چیت دوبارہ شروع ہو اور اس تنازع کا ایک پائیدار سیاسی حل تلاش کیا جا سکے۔