Updated: October 15, 2026, 1:32 PM IST
| Malegaon
مالیگاؤں کے قریب چیچ گوان میں ۳۲؍ سالہ مسلم خاتون انجم شیخ آصف کی اَدھ جلی لاش ملنے سے سنسنی پھیل گئی۔ پولیس نے معاملے کی تفتیش کے دوران کلیم ڈرائیور نامی شخص کو حراست میں لیا ہے۔ اہل خانہ کے مطابق خاتون کے ساتھ مالی لین دین اور شادی کے وعدے کا معاملہ بھی اس واقعے سے جڑا ہوا ہے، تاہم واقعے کی اصل حقیقت تفتیش کے بعد ہی سامنے آئے گی۔
شہر سے قریب چیچ گوان میں ایک اَدھ جَلی ہوئی لاش پائی گئی۔چند گھنٹے کی تفتیش میں معلوم ہواکہ یہ مسلم خاتون ہے جو مالیگاؤں کے امینہ آباد علاقے کی ساکن ہے۔اُس کا نام انجم شیخ آصف (۳۲) ہے۔تعلقہ پولیس عملہ نے کلیم ڈرائیور(مالیگاؤں)کوحراست میں لیا ہے۔شبہ ہے کہ انجم کو جلاکر مارنے والا کلیم ڈرائیور ہی ہے۔ سماجی کارکن شیخ شفیق کے مطابق یہ پُر اسرار معاملہ پیٖر ۱۲ ؍ اکتوبر دیر رات میں سامنے آیا۔ گرنا ڈیم روڈ پر واقع چیچ گوان کے نالے سے انسانی جسم جلنے کی بدبو نے ایک کسان کو متوجہ کیا۔اُس نے مالیگاؤں تعلقہ پولیس اسٹیشن کو اطلاع دی۔ فوری طور سے پولیس ٹیم جائے مقام پر آئی۔دیکھا کہ ایک خاتون کی لاش پڑی ہوئی ہے۔اسے نذر آتش کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔پہلی نظر میں لگتا تھا کہ اس عورت پر آتش گیر سیّال ڈال کر اُسے موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔ اِس نکتے کو پولیس نے قبول کیا کہ اسے جلا کر مارنے کی کوشش کامیاب ہوئی ہے۔ پولیس اہلکاروں کے سامنے یہ چیلنج تھا کہ اَدھ جَلی ہوئی لاش کی شناخت کیسے کی جائے؟ ۔اس کا جواب لاش کے پاس سے ہی مل گیا۔فوت شدہ خاتون کے پاس سے کچھ دستاویزات ملے۔اُس میں مدرعائشہ گرلز اسکول کا لیونگ سرٹیفکیٹ(ایل سی) پر تھا۔اُس کی مدد سے پولیس متوفیہ کے وارثین تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی۔واضح رہے کہ انجم شیخ کا دیڑھ سال قبل طلاق ہوچکا تھا ۔ اُس کے تین بچے ہیں۔پہلے شوہر سے علاحدگی کے وقت اسے دیڑھ لاکھ روپے نقد نان ونفقہ اور دیڑھ لاکھ روپے کے زیورات بھی ملے تھے۔مطلقہ انجم کا تعلق مالیگاؤں کے جُونا میَلا ڈِپو میں رہنے والے کلیم ڈرائیور سے ہوا۔متوفیہ کے قریبی افراد نے بتایا کہ کلیم ڈرائیور نے انجم سے تعلقات استوار کئے۔اُسکے پاس موجود دیڑھ لاکھ روپے نقد اور اتنی ہی رقم کے زیورات بھی لے لئے۔انجم سے شادی کا وعدہ بھی کیا لیکن اُس نے شادی نہیں کی۔کسی نہ کسی بہانے سے انجم کو ٹالتے رہا۔اِس دوران کلیم ڈرائیور اور انجم ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی رہے۔ متوفیہ کے اہل خانہ کی مدد کرنے والے سماجی کارکنان نے بتایا کہ معاملے کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے انجم کی لاش فارنسک جانچ کیلئے ناسک بھیج دی گئی ہے۔اِس خبر کے لکھے جانے تک انجم کی تدفین نہیں ہوسکی ۔قانونی و طبّی مراحل کی تکمیل کی سلسلہ وار کارروائیاں جاری ہیں۔