ایغور قیدیوں کی جبری مشقت سےبنی چینی اشیاء پر امریکہ میں پابندی

Updated: December 25, 2021, 12:22 PM IST | Agency | Washington

جو بائیڈن نےایک سال کے مذاکرات کے بعد وجود میں آنے والے قانون پر دستخط کئے، حقوقی انسانی کی تنظیموں نے قانون کی ستائش کی

Joe Biden and Xi Jinping. Picture:INN
جو بائیڈن اور شی جن پنگ ۔تصویر: آئی این این

وہائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکہ کےصدر جو بائیڈن نے جمعرات کو ایک قانون پردستخط کیے ہیں جس کے تحت چین میں ایغور قیدیوں کی جبری مشقت سےبنی اشیا پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ایغور جبری مشقت پر پابندی کے ایکٹ کو گزشتہ ماہ ایک برس طویل مذاکرات کے بعد کانگریس نے منظور کیا تھا۔اس قانون کے مطابق چین کے صوبے سنکیانگ میں بنائی جانے والی اشیا کی امریکہ درآمد پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ پابندی اس وقت تک رہےگی جب تک کہ یہاں کی کمپنیاں شفاف اور قابلِ یقین ثبوت نہ دے دیںکہ ان کی اشیا کے بننے کے دوران کسی مرحلے پرنسلی طورپر ایغور مسلمانوں سے کیمپوں میں جبری مشقت نہیں کرائی گئی۔بیجنگ ان حراستی مراکز کو تعلیم و فنی تربیت کے مراکز قراردیتاہے جنہیں مبینہ طور پر شدت پسندانہ خیالات سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ چین کی جانب سے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے خلاف مزاحمت کی تازہ لہر فروری میں بیجنگ میں ہونے والے سرمائی اولمپکس سےپہلے شروع ہوئی۔رواں برس کے اوائل میں امریکہ نےچین کے ایغور مسلمانوں کے ساتھ سلوک کو نسل کشی قرار دیا تھا جب کہ گزشتہ ہفتے ہی امریکہ نے سرمائی اولمپکس کے سفارتی بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس قانون سازی کی تعریف کی ہے اور اسے چین کی جانب سے ایغور مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک سے نمٹنے کے لیے ایک اچھی پیش رفت قرار دیا ہے۔
 ایغور ہیومن رائٹس پروجیکٹ‘ کے ’سینئر پروگرام افسر فار ایڈوکیسی اینڈ کمیونیکیشن‘ پیٹر ارون نے ایک خبررساں ادارےسے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا بھرکیلئےپیغام ہے کہ اس معاملے پر امریکہ اقدامات اٹھائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ دوسرے ممالک کی حکومتوں کے لیے مثال ہےکہ وہ بھی ایسے ہی جبری مشقت کے خلاف قوانین کو منظور کریں۔انہوں نے امریکہ کی طرف سے سفارتی بائیکاٹ کی مثال دیتے ہوئےکہا کہ امریکہ نے سب سے پہلے یہ قدم اٹھایا جس پر دوسری حکومتوں نے بھی عمل کیا۔
 امریکی کمپنیوںنائیکی اور کوکا کولا نے اس قانون کے ابتدائی مسودوں کی مخالفت میں لابنگ کی تھی۔ بائیڈن انتظامیہ پر سینیٹرمارکو روبیو نے الزام لگایا تھا کہ وہائٹ ہاؤس اس بل کو اس لیے روک رہا ہے کیوں کہ اس پر بائیڈن کے موسمیاتی تبدیلی کے ایلچی جان کیری کو خدشات ہیں۔پیٹر ارون نےکہا کہ دنیا بھر کی ۴۰؍ فیصدپولی سلیکون کی رسد سنکیانگ سے ہوتی ہے۔ اس پابندی کی وجہ سے سولر سیل اور پینلوں کی صنعت کے لیے مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔اس قانون کے منظور ہونےپرمارکو روبیو نے ایک بیان میں اس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اب امریکہ کا معاشی معاملات میں چین پر انحصار کرنے کا وقت ختم ہونا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK