ڈائریکٹر جنرل: چین طاقت میں ہندوستان سے کافی آگے ہے، پرانے طریقوں سے مقابلہ مشکل ہے۔ کانگریس: چین کو بہت کلین چٹ دے چکے،اب مودی ملک کے عوام کو سب کچھ صاف صاف بتائیں۔ مودی سرکار:ایل اے سی پرتنازعات کے حل کیلئے سفارتی اور فوجی نظام کے تحت گفتگو کا سلسلہ جاری ہے۔
پون کھیڑا جمعہ کو پریس کانفرنس میں ایک کپ لے کر پہنچے جس پرمودی کی تصویر کےساتھ لکھا تھا’’نریندر سرینڈر‘‘۔ تصویر: آئی این این
انڈو تبتن بارڈ پولیس کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے اپنی سبکدوشی سے ۷؍ دن قبل یہ تصدیق کرکے کہ چین اروناچل میں دراندازی کررہاہے اور لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر متعدد مقامات پر ہندوستانی اور چینی فوجیوں کے درمیان آمنے سامنے کی جھڑپیں ہوئی ہیں،مودی سرکار کی مصیبتیں بڑھادی ہیں۔ کانگریس نے اس ضمن میں مودی سرکار کی خاموشی پر برہمی کا اظہار کرتےہوئے پوری حقیقت عام کرنےکی مانگ کی ہے۔ اُدھر وزارت خارجہ نے اس پر صفائی پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جبکہ چینی فوج گشت کےمعمول کےنظام سے ہٹ کر سرگرمیاں انجام دیتی ہے۔ وزارت کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ’’دونوں ممالک ایل اے سی پر موجود تنازعات کو حل کرنے اور غلط فہمیوں یا غلط اندازوں سے بچنے کیلئے موجودہ سفارتی اور فوجی نظام کے تحت گفتگو جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘‘
آئی ٹی بی پی کے ڈی جی نے کیا کہا؟
اگرچہ شتروجیت کپور نے چین کا نام نہیں لیا لیکن انہوں نے اروناچل میں صورت حال سے نمٹنے کیلئے انڈو تبت بارڈر پولیس کی ’’شوریہ کمانڈو ‘‘ٹیموں کی تعریف کی۔ راجستھان کے الور میں آئی ٹی بی پی اہلکاروں کی سالانہ تقریب میں انہوں نےکہا کہ گزشتہ چند دنوں میں اروناچل میں کئی مقامات پر ہندوستانی اور چینی فوجیوں کے درمیان آمنے سامنے کی جھڑپوں کی صورتحال پیدا ہوئی، جو اَب بھی جاری ہے۔ اس میں شوریہ کمانڈو ٹیموں نے غیر معمولی کردار ادا کیا۔شتروجیت کپور نے جنگ کے جدید طریقوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’ڈرون بڑا چیلنج ہیں تو بہت بڑا موقع بھی ہیں۔ چین فوجی طاقت میں کافی آگے ہے، روایتی طریقوں سے اس سے نمٹنا مشکل ہے۔ اس نے اپنی فوج کو ماڈرنائز کیا ہے اور اس پر بہت خرچ کیا ہے،مگر ڈرون ایسی چیز ہے جس سے چھوٹے ملک بھی بڑے ملک کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے یوکرین اور ایران کی مثال بھی دی۔
یہ بھی پڑھئے: اب تک ۳؍ ہزار عمرہ زائرین کی وطن واپسی ہوچکی ہے: وزارت خارجہ
کانگریس نے سرکارسے جواب مانگا
کانگریس نے اس پر وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ سےوضاحت طلب کی ہے۔اطلاعات ہیں کہ چین نے اروناچل کے بعض علاقوں میں ہندوستانی فوجیوں کو گشت سے روک دیا ہے۔جمعہ کو کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ’’ چین کو بہت زیادہ کلین چٹ دی جا چکی ہے، اب ضروری ہے کہ وزیر اعظم مودی ملک کے سامنے صورتحال واضح کریں۔‘‘ شتروجیت کپور کابیان اروناچل کے ٹاکسنگ علاقے میں کشیدگی کی اطلاعات کے درمیان ہندوستان اور چین کے مذاکرات کے ایک ماہ سے زیادہ عرصے بعد سامنے آیا ہے۔
وزارت خارجہ نے کیا صفائی دی؟
اس بیچ وزارت خارجہ نے صفائی دی ہے کہ دونوں ممالک نے سرحدی انتظام کو بہتر بنانے کیلئے ایل اے سی سے متعلق افہام و تفہیم کے طریقوں کو اپناتے ہوئے مناسب مقامات پر بات چیت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ سرحدی علاقوں میں امن و سکون برقرار رکھنا دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کی مجموعی ترقی کیلئےضروری ہے۔ وزارت نے زور دیکر کہا کہ سرحدی علاقوں میں مسائل اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب چینی فوج کی سرگرمیاں معمول سے ہٹ جاتی ہیں۔
’’ چین کا کھلونا...چھپن انچ ‘‘
پون کھیڑا نے کانگریس ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس میں اپنے ہی انداز میں حکومت کو نشانہ بنایا۔ وہ چائے کا ایک کپ لائے تھے جس پر ’نریندر ،سرینڈر‘ لکھا ہوا تھا۔ کپ کو دکھانے کے بعد انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت جولائی سے اروناچل کی صورتحال سے متعلق معلومات کو دبا رہی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم مودی پر بظاہر ذاتی حملہ کرتے ہوئے انہیں ایک ایسے کھلونے سے تشبیہ دی جس کی چابی چین، امریکہ اور اسرائیل کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’چین کا کھلونا... چھپن انچ ‘‘ پھر کہا’’اور کچھ نہیں کہوں گا۔ ہمارے ملک میں بھی۵۶؍انچ کا کھلونا ہے۔اس کی چابی چین کے پاس، امریکہ اور اسرائیل کے پاس بھی ہے۔‘‘ وزیر اعظم کا نام لئے بغیر انہوں نے ان پر مذکورہ ممالک کے اشاروں پر کام کرنے کا الزام عائد کیا۔
ملکارجن کھرگے کے ۳؍ سوال
۱۔ ڈوکلام اور گلوان کے بعد کیا ایک اور سنگین تصادم کی صورت حال پیدا ہو رہی ہے؟
۲۔گلوان میںکے بعد چین سے درآمدات میں۱۰۲؍ فیصد اضافہ ہوا، حکومت چینی سرمایہ کاری سے متعلق پابندیوں میں نرمی کیوں کر رہی ہے؟
۳۔وزیر اعظم مودی اور چینی صدر کی ملاقاتوں، خصوصی نمائندوں کی گفتگو اور دیگر کوششوں کا کیا نتیجہ نکلا؟ کیا ہندوستان کے گشت کے حقوق بحال ہوئے؟