• Fri, 16 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سی جے پی کا رانکا اورسورو کی رہائی کا مطالبہ، نیہا کی تقریر کے دوران ہنگامہ

Updated: October 16, 2026, 2:52 PM IST | Fazil Ahmed | New Delhi

پریس کانفرنس سے قبل ’ریپبلک بھارت‘ کے رپورٹروں نے خلل ڈالا اور ہنگامہ کیا، دپکے کی جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت بحال کرنے کی بھی اپیل ، آج کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میںاحتجاج کی تیاری،دپکے نے کہا ’’صرف گیانیش کمار کو عہدے پر برقرار رکھنے کے لیے حکومت شہریوں اور احتجاج کرنے والوں پر کارروائی کر رہی ہے۔‘‘

Prakash Raj, Abhijit Dapke, Neha Bora, and Prashant Bhushan during a press conference. Photo: PTI
پرکاش راج ، ابھیجیت دپکے ، نیہا بورا اور پرشانت بھوشن پریس کانفرنس کےد وران۔ تصویر: پی ٹی آئی

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے، جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت بحال کرنے اور سی جے پی لیڈر سورو داس اور آشوتوش رانکا کی رہائی کے مطالبے پر جمعرات کو پریس کلب آف انڈیا میں پریس کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس دوران  ایس آئی آر کے خلاف احتجاج، مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی اور جمہوری احتجاج کے لیے مقامات کی دستیابی کا معاملہ اٹھایا گیا۔پریس کانفرنس شروع ہونے سے قبل اس وقت ہنگامہ ہوگیا جب آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کی قومی صدر نیہا بورا خطاب کر رہی تھیں۔ ریپبلک بھارت کے چار رپورٹروں نے ان کے خطاب کے دوران خلل ڈالنے کی کوشش کی اور بنگلہ دیش کے حوالے سے سوالات کرتے ہوئے ان پر الزام لگایا کہ کیا وہ ہندوستان کو بنگلہ دیش بنانا چاہتی ہیں اور کیا وہ اقتدار کی تبدیلی چاہتی ہیں۔ اس دوران وہاں موجود دیگر صحافیوں نے مداخلت کرتے ہوئے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں چاروں رپورٹروں کو باہر نکال دیا گیا جس کے بعد پریس کانفرنس کی کارروائی شروع ہوئی۔پریس کانفرنس میں  سی جے پی   کے بانی ابھجیت دِپکے، نیہا بورا، اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) کی آئیشی گھوش، سینئر وکلا کپل سبل اور پرشانت بھوشن، اداکار و سماجی کارکن پرکاش راج سمیت دیگر افراد موجود تھے۔ مقررین نے ایس آئی آر کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں کی حراست، صحافیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت محدود کئے جانے پر سوال اٹھائے۔موقع پر موجود بعض افراد نے ریپبلک بھارت کے رپورٹروں کے پریس کانفرنس میں پہنچنے اور ہنگامہ کرنے پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ ایک ہی ادارے کے چار رپورٹرز کا اس طرح وہاں موجود ہونا معمول کی بات نہیں ہے۔سی جے پی کی اپیل پر پریس کلب کےمنتظمین نے انہیں باہر نکالا۔

یہ بھی پڑھئے: انتھروپک کا انتباہ: اے آئی ماڈلز ۲۰۲۶ء کے اختتام تک انٹرنیٹ پر اپنی کاپیاں خود بنانے کے قابل ہوگے

پریس کانفرنس میںابھجیت دپکے  اور نیہا بورا نے  وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ گیانیش کمار کو عہدے پر برقرار رکھنے کیلئے حکومت شہریوں اور احتجاج کرنے والوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ نوجوانوں اور اپوزیشن کے لیڈروں کوحراست میں لینے سے یہ تحریک ختم نہیںہوگی ۔ نیہا بورا نے اسے ووٹ دینے کے حق  کی جدوجہد قراردیا۔

 آج کناٹ پلیس میں ترنگااحتجاج، عدالت کا روک لگانےسے انکار
کاکروچ جنتا پارٹی کا آج دہلی کے کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک پر احتجاج کا منصوبہ ہےجس میںترنگا لہرایاجائےگا ۔سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے جمعرات کو نوجوانوں، محب وطنوں  اور سیاسی جماعتوں سے متحد ہونے کی اپیل کی اور کناٹ پلیس میں ہونے والے طے شدہ ’ترنگا احتجاج‘ کے دوران ترنگا لہرانے کو کہا۔ پریس کانفرنس میں انہوں نے ۱۳؍ کروڑ ووٹروں کے نام حذف ہونے پر سوال اٹھا یا کہ کیا یہ کوئی سیٹنگ تھی؟انہوں نے کہا کہ کنوینر سورو داس اور آسوتوش رانکا کو محض ترنگا لہرانے پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔اس دوران ہائی کورٹ نے سی جے پی کے احتجاج پر روک لگانے  سے انکار کردیا ۔ کناٹ پلیس کے کاروباریوں اور دکانداروںنے تہوارکے سیزن میںکاروبار متاثر ہونے کے اندیشے سے احتجاج  روکنے کی اپیل کی تھی ۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ سی جے پی کو احتجاج سے روکا نہیںجاسکتا۔ عدالت نے کہا کہ بھیڑ کو کنٹرول کرنے  اورحالات کو سنبھالنے کی ذمہ داری پولیس کی ہے۔

پرکاش راج نے کیا کہا ؟

اداکار و سماجی کارکن پرکاش راج نے سورو داس اور آشوتوش رانکا کو عدالتی حراست میں بھیجے جانے پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں کو جنتر منتر پر ترنگا لہرا کر احتجاج کرنے کے معاملے میں حراست میں لیا گیا، جو اظہار رائے کی آزادی سے متعلق سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات کے ذریعے جمہوری آوازوں کو دبایا نہیں جا سکتا۔پرکاش راج نے جنتر منتر کو دوبارہ احتجاج کیلئے دستیاب کرانےکی اپیل کی۔

پرشانت بھوشن نے کیا کہا ؟

پرشانت بھوشن نے کہا کہ گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے والوں پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ اقتدار کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہاں، ہم اقتدار کی تبدیلی چاہتے ہیں۔مقررین نے کہا کہ گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے اور جمہوری حقوق کے تحفظ کی تحریک جاری رہے گی اور اسے روکنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔کپل سبل نے بھی حالات کو غیر اعلانیہ ایمرجنسی سے تعبیر کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK