• Fri, 16 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

انتھروپک کا انتباہ: اے آئی ماڈلز ۲۰۲۶ء کے اختتام تک انٹرنیٹ پر اپنی کاپیاں خود بنانے کے قابل ہوگے

Updated: October 16, 2026, 9:06 AM IST | Washington

ایکس پر ایک پوسٹ میں، انتھروپک نے اشارہ دیا کہ ”سرکش“ یا بے قابو (misaligned) اے آئی ایجنٹس کا غول (swarm) ایک بوٹ نیٹ بنا سکتا ہے، تیزی سے پھیل سکتا ہے، بند کئے جانے کی کوششوں کے خلاف مزاحمت کرسکتا ہے اور اپنی افزائش کو بڑھانے کیلئے ڈیٹا سینٹرز میں بھی نقب لگا سکتا ہے۔ یہ نظریہ کہ اے آئی ”ایک مستقل بوٹ نیٹ“ کے ذریعے انٹرنیٹ کو یرغمال بنا سکتی ہے، پہلی بار گزشتہ ماہ انتھروپک کے سی ای او ڈاریو اموڈائی نے پیش کیا تھا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

انتھروپک نے متنبہ کیا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کے ماڈلز اپنی روایتی رفتار سے ترقی کرتے رہے تو وہ ۲۰۲۶ء کے اختتام تک خود مختار طور پر انٹرنیٹ پر اپنی کاپیاں بنانے (self-replicate کرنے) کے قابل ہو سکتے ہیں۔ پیر، ۱۲ اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں، کمپنی نے اشارہ دیا کہ ایک ”سرکش“ یا بے قابو (misaligned) ایجنٹس کا غول (swarm) ایک بوٹ نیٹ بنا سکتا ہے، تیزی سے پھیل سکتا ہے، بند کئے جانے کی کوششوں کے خلاف مزاحمت کرسکتا ہے اور اپنی افزائش کو بڑھانے کیلئے ڈیٹا سینٹرز میں بھی نقب لگا سکتا ہے۔ یہ نظریہ کہ اے آئی ”ایک مستقل بوٹ نیٹ“ کے ذریعے انٹرنیٹ کو یرغمال بنا سکتی ہے، پہلی بار گزشتہ ماہ انتھروپک کے سی ای او ڈاریو اموڈائی نے پیش کیا تھا۔ تازہ ترین پوسٹ ان کے اس نقطۂ نظر کی تصدیق کرتی ہے اور یہ واضح کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ یہ صورتحال کیسے پیدا ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دنیا بھر میں فعال صنعتی روبوٹس کی تعداد ۵۰ لاکھ سے تجاوز کر گئی

اپنے تجربات کی بنیاد پر انتھروپک نے بتایا کہ ۳۰ ارب پیرامیٹرز یا اس سے کم والے درمیانے سائز کے ماڈلز پہلے ہی خود سے نقل تیار کرنے کیلئے درکار کئی انفرادی کام انجام دے سکتے ہیں، حالانکہ وہ اس پورے عمل کو قابلِ اعتماد طریقے سے مکمل کرنے کیلئے جدوجہد کرتے ہیں۔ مفروضاتی طور پر، وہ انٹرنیٹ سے منسلک سستے آلات کو ہائی جیک کر کے کمپیوٹ پاور اکٹھی کرسکتے ہیں۔ کمپنی نے کہا کہ ”اس طرح کے ریپلیکیٹر کو بند کرنا ایک چیلنج ہوگا، کیونکہ بند کرنے کیلئے کوئی مرکزی نقطہ موجود نہیں ہوگا۔“

یہ بھی پڑھئے: نیپولین کے دور کا ۲۱۷ سال پرانا پراسرار خط جی پی ٹی-۶ ایسٹرا نے ۶ گھنٹوں میں ڈی کوڈ کر لیا

ایک ٹیسٹ میں، انتھروپک نے گوگل کے ایک چھوٹے ماڈل Gemma4-26B-A4B کو غیر معروف برانڈ کے ۱۵ اینڈرائیڈ ٹی وی باکسز پر چلایا۔ یہ ماڈل اس آسان نیٹ ورک پر اپنی نقل بنانے میں کامیاب رہا۔ کمپنی نے مزید کہا کہ اس سے زیادہ حقیقت پسندانہ بدترین صورتحال میں مختلف ہارڈ ویئر پر مختلف ماڈلز کا ایک غول شامل ہوسکتا ہے جو نقل بنانے کے متنوع طریقے استعمال کر رہا ہو۔ اس نے یہ بھی کہا کہ ”سست ریپلیکیٹرز“ کا ابھرنا زیادہ تیز رفتار ریپلیکیٹرز کی آمد کا اشارہ ہو سکتا ہے جو سخت سیکوریٹی والی مشینوں میں نقب لگانے یا اے پی آئی کیز API Keys چوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

یہ بھی پڑھئے: اے آئی ایجنٹس کنٹرول سے باہر ؟۱۰۰؍زائد عالمی اداروں کے نظام میں سیندھ ماری

اینتھروپک کا یہ انتباہ، ایسے اے آئی ایجنٹس پر بڑھتے ہوئے سیکوریٹی خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے جو سائبر حملوں کو خودکار بنا سکتے ہیں اور حفاظتی رکاوٹوں کو بائی پاس کر سکتے ہیں۔ گزشتہ ماہ، انتھروپک کے سابق محقق جیکب کوکسن اس خدشے کے تحت استعفیٰ دینے پر خبروں کی زینت بنے کہ اے آئی اس دہائی کے اختتام تک انسانیت کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔ کچھ ماہرین اب بھی اس سے غیر مطمئن ہیں، ان کا مؤقف ہے کہ ماڈلز اتنے بڑے ہیں کہ وہ مؤثر طریقے سے حرکت نہیں کر سکتے اور آزادانہ طور پر کام کرنے کیلئے اتنی کمپیوٹ پاور حاصل نہیں کر سکتے۔ کچھ نے انتھروپک پر ”وینڈر کے مبالغے“ کا الزام لگایا، جبکہ دیگر اس انتباہ کو پیش گوئی کے بجائے محض ایک فرضی مفروضہ سمجھتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK