• Fri, 11 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سی جے پی احتجاج: ۱۴؍ سالہ لڑکی کو ہراساں کئے جانے پر سپریم کورٹ سخت برہم

Updated: September 11, 2026, 10:29 AM IST | New Delhi

دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج میں شامل ہونے والی ۱۴؍ سالہ لڑکی اور اس کے اہل خانہ کو مبینہ طور پر دھمکانے اور ہراساں کرنے کے معاملے پر سپریم کورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ کسی بچی یا اس کے خاندان کو ڈرانا دھمکانا سنگین معاملہ ہے اور بچوں کے خلاف تشدد میں ملوث کسی بھی شخص کو تحفظ نہیں ملنا چاہئے۔ عدالت نے معاملے میں ضروری اقدامات کی یقین دہانی کے بعد شکایات پر غور کرنے کا عندیہ دیا۔

Justice Surya Kant. Photo: INN
جسٹس سوریہ کانت۔ تصویر: آئی این این

دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہروں میں شامل ہونے والی ایک ۱۴؍ سالہ لڑکی اور اس کے اہل خانہ کو کچھ خود ساختہ عناصر ڈرا دھمکارہے ہیں اور ہراساں کر رہے ہیں ، اس معاملےمیں جمعرات کو سپریم کورٹ نے سخت برہمی کا اظہارکیا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا،جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوائے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ کسی بھی بچی یا اس کے خاندان کو اس طرح ڈرانا دھمکانا ایک سنگین معاملہ ہے۔ چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایسے معاملات کو ہلکے میں نہیں لیا جا سکتا۔ اگر کسی بچے کے خلاف تشدد کا معاملہ پیش نظر ہو تواس میں شامل کسی بھی فرد کو تحفظ نہیں ملنا چاہئے۔ اگر اس طرح کے اقدام کے ملزمین کھلے عام گھوم رہے ہیں اور بچی یا اس کے خاندان کو دھمکا رہے ہیں تاکہ وہ قانونی کارروائی کا مطالبہ نہ کریں تو یہ واقعی ایک تشویشناک بات ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: حقیقت دکھانے والے صحافی پر مقدمہ’’ قاصد کے قتل ‘‘ کے مترادف: الہ آباد ہائی کورٹ

یہ لڑکی اس وقت سرخیوں میں آئی جب دائیں بازو کے ایک سوشل میڈیا انفلو ئنسر سوتنتر بھردواج نے سوشل میڈیا پر کھل کر دعویٰ کیا کہ اس نے سی جے پی مظاہروں کے دوران لڑکی کے والد کی پٹائی کی تھی۔ ابتداء میں پولیس نے بھردواج کے خلاف بی این ایس کی معمولی دفعات ۱۱۵ (۲) اور ۱۲۶ (۲) کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، لیکن بعد میں اس نے سوشل میڈیا پر بے خوف انداز میں کھلے عام یہ دعویٰ کیا کہ اس نے لڑکی کے والد کا سر پھاڑ دیا تھا پھربھی پولیس اسے صرف چند گھنٹوں ہی تحویل میں رکھ پائی۔ اس نے این ڈی اے کے رہنماؤں سے اپنے قریبی تعلقات کا دعویٰ بھی کیا۔بعد میں جب سی جے پی کے رہنماؤں نے لڑکی اور اس کے والد کے ساتھ پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے کے باہر احتجاج کیا تو پولیس نے معاملے میں سنگین دفعات شامل کرتے ہوئے بھردواج کو گرفتار کر لیاجو فی الحال عدالتی تحویل میں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آدھار کے معمار نندن نیلیکنی اور نکھل کامتھ کو ایس آئی آر نوٹس

سپریم کورٹ میں یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک وکیل نے بنچ کو بتایا کہ جنہوں نے لڑکی پر حملہ کیا اور اسے دھمکایا ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے، الٹا اس بچی کے خلاف ہی ایک جوابی ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ وکیل نے عدالت سے گزارش کی کہ اتر پردیش اور دہلی پولیس سے اس معاملے کی اسٹیٹس رپورٹ طلب کی جائے، بچی کو تحفظ فراہم کیاجائے اور ملوث افراد کے خلاف سخت اقدامات کئےجائیں۔ وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ان کے پاس اس بات کے ثبوت ویڈیو کی شکل میں موجود ہیں کہ بچی کے گھر پر پتھراؤ بھی کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ عدالت کی بنائی گئی کمیٹی مظاہرین پر تشدد کی جانچ کر رہی ہے، لیکن اس میں وقت لگے گا اور اس دوران بچی کی حفاظت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ چیف جسٹس سوریا کانت نے وکیل کے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس بات پر کوئی دو رائے نہیں ہے اور کسی بھی صورت میں بچی کے خلاف تشدد کرنے والوں کو بخشا نہیںجائے گا۔ اس موقع پر سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اس پورے معاملے کا جائزہ لیں گے اور ضروری اقدامات کریں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت ان تمام شکایتوں پر غور کرے گی اور ضرورت پڑنے پر واضح احکامات جاری کرے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK