الہ آباد ہائی کورٹ نےیہ کہتے ہوئے کہحقیقت دکھانے والے صحافی پر مقدمہ ’’ قاصد کے قتل ‘‘ کے مترادف ہے، لکھنؤ کے اسکول کی خراب حالت سامنے لانے والے صحافی کے خلاف ایف آئی آر معطل کر دی۔
EPAPER
Updated: September 10, 2026, 5:04 PM IST | Allahabad
الہ آباد ہائی کورٹ نےیہ کہتے ہوئے کہحقیقت دکھانے والے صحافی پر مقدمہ ’’ قاصد کے قتل ‘‘ کے مترادف ہے، لکھنؤ کے اسکول کی خراب حالت سامنے لانے والے صحافی کے خلاف ایف آئی آر معطل کر دی۔
دی انڈین ایکسپریس کے مطابق، الہٰ آباد ہائی کورٹ نے لکھنؤ کے ایک سرکاری اسکول میں مبینہ طور پر خراب بنیادی ڈھانچے کی رپورٹنگ کرنے پر ایک صحافی کے خلاف درج ایف آئی آر معطل کر دی۔منگل کو دیے گئے اپنے حکم میں عدالت نے کہا کہ ریاست کی کارروائی ’انا کا مسئلہ‘ اور انتقامی اقدام معلوم ہوتی ہے، جو ’قاصد کو قتل کرنے‘ کے مترادف ہے۔اخبار کے مطابق، جسٹس عبدالمعین اور پرمود کمار شریواستو کے بینچ نے تبصرہ کیا کہ حکومت حق تعلیم قانون،۲۰۰۹ء کے تحت قانونی طور پر پابند تھی کہ اسکولوں میں مقررہ معیارات کی تعمیل کو یقینی بنائے۔عدالت نے کہا کہ حکام کو چاہیے تھا کہ صحافی کی نشاندہی کردہ کمیوں کو دور کرتے اور انہیں درست کرنے کی کوشش کرتے، بجائے اس کے کہ ان کی رپورٹ کو ’انا کا مسئلہ‘ سمجھا جائے اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔
یہ بھی پڑھئے: ابو سالم کی ۲۵؍ سالہ قید مکمل ہونے کا دعویٰ، سپریم کورٹ نے رہائی کی اپیل رد کردی
واضح رہے یہ عدالت صحافی امیت یادو کی دائر کردہ درخواست پر سماعت کر رہی تھی، جس میں انہوں نے۲۴؍ اگست کو لکھنؤ کے گوسائی گنج تھانے میں بھارتیہ نیای سنہتا کی دفعات کے تحت اپنے خلاف درج ایف آئی آر کو چیلنج کیا تھا۔درخواست میں کہا گیا تھا کہ یادو۲۰؍ اگست کو بطور رپورٹر اپنے کام کے سلسلے میں گوسائی گنج کے پوروا مادھیہ مک ودیاالیہ گئے تھے۔ انہوں نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ اسکول کی دیکھ بھال ناقص تھی، بیت الخلاء گندے تھے اور پینے کا پانی دستیاب نہیں تھا، نیز دیگر مسائل بھی تھے۔دی انڈین ایکسپریس کے مطابق، بعد میں ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ اسکول بہترین حالت میں تھا اور اس کے بیت الخلاء صاف تھے۔ ایف آئی آر کے مطابق، یادو بغیر اجازت اسکول میں داخل ہوئے، طلبہ کی کلاسوں میں خلل ڈالا اور دو خواتین اساتذہ پر دباؤ ڈالا کہ وہ اسکول کی حالت کے بارے میں بات کریں۔ علاوہ ازیں ایف آئی آر میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ان کی رپورٹ سیاسی تعصب پر مبنی تھی۔بینچ نے مشاہدہ کیا کہ اس کے سامنے پیش کردہ تصاویر سے ابتدائی طور پر اسکول کے بیت الخلاء اور احاطے کی ’انتہائی خراب حالت‘ ظاہر ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’بھارت رتن‘ سی این آر راؤ کو بھی نوٹس، شہریت ثابت کرنی ہوگی
بعد ازاںپی ٹی آئی کے مطابق، عدالت نے اتر پردیش کے اضافی چیف سیکرٹری برائے بنیادی تعلیم کو ہدایت دی کہ وہ اسکول کی موجودہ حالت پر چار ہفتوں میں ذاتی حلف نامہ جمع کرائیں۔سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں یادو نے ہائی کورٹ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ حکم ’جھوٹ پر سچ کی فتح‘ہے۔