منشیات کیس میں آرین خان کو کلین چٹ

Updated: May 28, 2022, 6:31 AM IST | Nadeem asran | Mumbai

این سی بی کو آرین سمیت۶؍ ملزمین کے خلاف کوئی ثبوت نہیںملا ، سمیر وانکھیڈے کیخلاف کارروائی کا امکان ، شاہ رخ خان کو راحت

An extraordinary scandal was hatched against Bollywood superstar Shah Rukh Khan`s son Aryan in which the media was also in the forefront. (PTI)
بالی ووڈ کے سپر اسٹار شاہ رخ خان کے فرزند آرین کیخلاف غیر معمولی طومار باندھا گیا تھا جس میں میڈیا بھی پیش پیش تھا ۔( پی ٹی آئی)

منشیات کےکاروبار اور خرید و فروخت کی سازش میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات کے تحت گرفتاری اور ۲۶؍ دنوں تک جیل میں قید  رکھنے کے بعد  جانچ ایجنسی نارکوٹکس کنٹرول بیورو کو آرین خان  کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا جس کے بعد اسے مجبوراً آرین کو کلین چٹ دینی پڑی ہے۔   بالی ووڈ کے سپر اسٹار شاہ رخ خان کے بیٹے آرین کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہ ہونے کا جواز پیش کرتے ہوئے  این سی بی نے  نہ صرف آرین کو کلین چٹ دی بلکہ اس کے ساتھ مزید ۴؍ افرادکو بھی راحت دے دی لیکن ان میں آرین کا کوئی ساتھی شامل نہیں ہے جبکہ کل ملاکر ۲۰؍ افراد کو اس ہائی پروفائل معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا ۔  اس معاملے میں بیٹے آرین کو راحت ملنے کے بعد شاہ رخ  خان  نے بھی راحت کی سانس لی ہے ۔
 تفتیشی ایجنسی نے این ڈی پی ایس کی خصوصی عدالت کے روبرو ۶؍ ہزار صفحات پر مشتمل داخل کردہ چارج شیٹ میں ملزمین کی فہرست سے آرین کے علاوہ آوین ساہو، گوپال جی آنند ، سمیر سائگن ، بھاسکر اروڑا اور مانو سنگھا کے نام یہ کہتے ہوئے حذف کر دیئے کہ تفتیشی ایجنسی کو ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا ہے ۔ نارکوٹکس کنٹرول بیورو نے اس کیس میںجن ۱۴؍ملزمین کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے ان میں آرین کے دوست ارباز مرچنٹ اور مون مون دھامیچا بھی شامل ہیں جن کی تحویل سے سمیر وانکھیڈے کی ٹیم نے  منشیات ضبط کرنےکا دعویٰ کیا تھا ۔
  ادھر سمیر  وانکھیڈے کو آرین سے کروڑوں روپے رشوت لینے کے الزامات کے بعد کیس کی تفتیش سےہٹادیا گیا تھا ۔ اس کے بعد این سی بی کی  خصوصی تفتیشی ٹیم ( ایس آئی ٹی ) کی سربراہی سنجے کمار سنگھ کو سونپی گئی تھی ، جنہوں نے اپنی چارج شیٹ میں ۶؍ ملزمین کو کلین چٹ دینے اور ۱۴؍ ملزمین کے خلاف چارج شیٹ داخل کرنے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایس آئی ٹی نے اس معاملہ میں شفافیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، شک و شبہات پر مبنی شواہد اورتفتیش کو خارج کرتے ہوئے  اصول اور ضابطہ کی بنیاد پر گرفتار کئے گئے ۶؍ افراد کو ناکافی ثبوتوں کی بنا پر کلین چٹ دی ہے۔ ایجنسی نے ان پر عائد تمام الزامات کو خارج کر دیا ہے اور ان کے نام ملزمین کی فہرست سے نکال دیئے ہیں۔  ساتھ ہی انہوںنے سمیر وانکھیڈے  پر کارروائی کے اشارے دئیے  اور کہا کہ بین الاقوامی سازش کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے اس لئے ممبئی کے افسران پر کارروائی ہو سکتی ہے۔  البتہ چارج شیٹ میں آرین کے منشیا ت کا عادی ہونے  کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔
 آرین کو کلین چٹ دیئے جانے پر دفاعی وکیل ستیش مانے شندے نے نامہ نگاروں سے کہا کہ آرین کے بے گناہ ہونے ،منشیات کے نہ ملنے اور اس کے خلاف کوئی ثبوت نہ ہونے کے باوجود اسے نہ صرف حراست میں لیا گیا بلکہ گرفتار تک کیا گیا اور  بغیر کسی جرم کے اسے ۲۶؍ دنوں تک جیل میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں لیکن ہمیں   اس با ت کی خوشی  ہے کہ ایس آئی ٹی کے سربراہ سنجے کمار سنگھ کی سربراہی میں خصوصی ٹیم نے قانون کا پاس رکھتے ہوئے  آرین کو کلین چٹ دی  اور اسے ملزمین کی فہرست میں شامل نہیں کیا ۔یہ حقیقت ہے کہ جیت  ہمیشہ سچائی کی ہوتی ہے ۔
 یاد رہے کہ گزشتہ سال ۲؍ اکتوبر کو نارکوٹکس کنٹرول بیورو نے ممبئی کے زونل ڈائریکٹر سمیر وانکھیڈے کی سربراہی میں کروڈیلیا کروز پر ہونے  والی ریو پارٹی کے دوران چھاپہ مارا تھا ۔ اس کارروائی کے دوران آرین سمیت کل ۲۰؍ ملزمین کو گرفتار کیا گیا تھا اور آرین پر منشیات کا استعمال کرنے کا الزام لگانے کے ساتھ ساتھ  وہاٹس ایپ  پر ہونے والی گفتگو کو بنیاد بنا کر اس پر منشیات کے عالمی کاروبار میںملوث ہونے کا سنگین الزام بھی  لگایاگیاتھا۔ تفتیش کے دوران سمیر وانکھیڈے پر آرین کو رہا کرنے کیلئے کروڑوں روپے رشوت لینے کا الزام بھی  تھا۔ دوسری طرف آرین کی تحویل سے منشیات نہ ملنے اور اس کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہ ہونے کے باوجود اسپیشل این ڈی پی ایس کورٹ نے ہی نہیں بلکہ سیشن کورٹ نے بھی آرین کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا لیکن   بامبے ہائی کورٹ نے آرین کی ضمانت کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے اس کی رہائی کا فرمان جاری کیاتھا ۔

aryan khan Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK