Inquilab Logo Happiest Places to Work

معاشیانہ: ہندوستانی سنیما کا بدلنا رجحان؛ اب ہدایت کار ہیں ’اسٹار‘

Updated: March 01, 2026, 11:19 AM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

ہندوستان کے کسی مصروف ملٹی پلیکس کے باہر کھڑے ہوئے نوجوانوں سے آپ پوچھیں کہ وہ کس فلم کا انتظار کر رہے ہیں تو حیرت انگیز طور پر اکثر جواب کسی اداکار کا نہیں بلکہ ایک ہدایتکار کا نام ہوگا۔

Despite the presence of a big star like Shah Rukh Khan in the film, only the name of the director `Raj Kumar Hirani` is written on the poster and it is written not in one place but twice, this clearly reflects the new trend. Photo: INN
فلم میںشاہ رخ خان جیسے بڑے اسٹار کے ہونے کے باوجود پوسٹر پر صرف ہدایت کار ’راج کمار ہیرانی‘ کا نام لکھا گیا ہے اور ایک جگہ نہیں بلکہ دو دو مرتبہ لکھا گیا ہے، یہ نئے رجحان کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ تصویر: آئی این این

ہندوستان کے کسی مصروف ملٹی پلیکس کے باہر کھڑے ہوئے نوجوانوں سے آپ پوچھیں کہ وہ کس فلم کا انتظار کر رہے ہیں تو حیرت انگیز طور پر اکثر جواب کسی اداکار کا نہیں بلکہ ایک ہدایتکار کا نام ہوگا۔ کوئی کہے گا کہ اسے ایس ایس راجہ مولی یا انوراگ کشیپ کی اگلی فلم دیکھنی ہے تو کوئی زویا اختر کا ذکر کرے گا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہندوستانی سنیما ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے ، ایسا دور جہاں ہدایتکار خود ’اسٹار‘ بن چکے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب فلم کی کامیابی کا انحصار مکمل طور پر بڑے اداکاروں پر ہوتا تھا۔ انویسٹر، ڈسٹری بیوٹر اور سنیما مالکان سب سے پہلے یہی سوال پوچھتے تھے کہ’’ہیرو کون ہے؟‘‘ لیکن ڈجیٹل انقلاب، او ٹی ٹی پلیٹ فارمز اور عالمی سنیما تک آسان رسائی نے ناظرین کی سوچ بدل دی۔ اب فلم بین صرف چہرے نہیں دیکھتے، وہ وژن دیکھتے ہیں، اسلوب دیکھتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر کہانی کی گہرائی اور سچائی دیکھتے ہیں۔ یہ تبدیلی محض ثقافتی نہیں بلکہ گہرا معاشی اثر بھی رکھتی ہے۔ جب کسی ہدایتکار کا نام اعتماد کی علامت بن جائے تو اس کی فلم سرمایہ کاری کیلئے نسبتاً محفوظ تصور کی جاتی ہے۔ سرمایہ کار جانتے ہیں کہ ایسا نام کم از کم ابتدائی ہفتے میں ٹکٹوں کی زبردست فروخت کی ضمانت دے سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: یادیں حقیقی ہیں یا جعلی؟ مصنوعی ذہانت انسانی یادداشت کو ازسرِنو لکھ رہی ہے

دنیا بھر میں ہدایتکاروں کو تخلیقی معمار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ہالی ووڈ اور یورپی سنیما میں کئی دہائیوں سے فلمیں ہدایتکار کے وژن سے جانی جاتی ہیں۔ ناظرین اداکار کا نام نہیں لیتے بلکہ یوں کہتے ہیں، ’’یہ فلاں ہدایتکار کی فلم ہے،‘‘ گویا وہی اصل اسٹار ہو۔ ہندوستان میں بھی یہی رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بین الاقوامی فلمی میلوں میں شرکت، غیر ملکی مارکیٹس میں ریلیز، اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کی عالمی رسائی نے ہندوستانی ہدایتکاروں کو عالمی سطح پر پہچان دی ہے۔ جب کسی ہندوستانی فلم کو بیرونِ ملک پذیرائی ملتی ہے تو اس کے ساتھ نہ صرف فلم بلکہ پورے ملک کی فلمی صنعت کی ساکھ جڑ جاتی ہے۔ یہ ’سافٹ پاور‘ دراصل معیشت کا ایک اہم ستون بنتی جا رہی ہے۔

ہندوستانی فلم انڈسٹری محض تفریحی شعبہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی نظام ہے۔ اس میں پروڈکشن ہاؤسیز، ملٹی پلیکس چینز، میوزک رائٹس کمپنیاں، ڈجیٹل پلیٹ فارمز، اشتہاری ایجنسیاں اور ہزاروں تکنیکی ماہرین شامل ہیں۔ ایک کامیاب فلم سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ جب کسی معروف ہدایت کار کی فلم ریلیز ہوتی ہے تو اس کے معاشی اثرات کئی سطحوں پر نظر آتے ہیں:

(۱) پری سیلز اور ایڈوانس بکنگ: مشہور ہدایتکار کا نام ٹکٹوں کی پیشگی فروخت میں اضافہ کرتا ہے۔

(۲) ڈجیٹل اور سیٹیلائٹ رائٹس: او ٹی ٹی پلیٹ فارمز زیادہ قیمت ادا کرنے کو تیار ہوتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ہدایتکار کی اپنی فین فالوونگ ہے۔

(۳) برانڈ اشتہارات: بڑی کمپنیاں ایسی فلموں کے ساتھ جڑنا چاہتی ہیں تاکہ ان کا برانڈ بھی تخلیقی معیار سے منسلک ہو۔

(۴) بین الاقوامی مارکیٹ: بیرونِ ملک تقسیم کار ہدایت کار کے نام کو دیکھ کر سرمایہ لگانے میں دلچسپی دکھاتے ہیں۔

یوں ایک نام پورے کاروباری ماڈل کو متحرک کر دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: کیا جین زی معیشت کا ’’پاور سینٹر‘‘ بن رہی ہے؟

فلم دراصل کہانی سنانے کا فن ہے۔ جب ہدایتکار اپنی منفرد شناخت قائم کر لیتا ہے تو اس کی ہر نئی فلم ایک ’ایونٹ‘ بن جاتی ہے۔ ناظرین کو معلوم ہوتا ہے کہ انہیں کچھ مختلف ملنے والا ہے۔ یہی توقع معاشی پہیے کو تیز کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کسی ہدایتکار کی پچھلی فلم نے تنقیدی اور تجارتی کامیابی حاصل کی ہو تو اگلی فلم کیلئے سرمایہ کار زیادہ بجٹ دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ اس سے ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بڑھتی ہے، بڑے سیٹ تیار ہوتے ہیں، بہتر وی ایف ایکس استعمال ہوتا ہے، اور عالمی معیار کا پروڈکشن ممکن ہوتا ہے۔ نتیجتاً سنیما کا معیار بلند ہوتا ہے اور عالمی منڈی میں اس کی قدر میں اضافہ ہوتا ہے۔

ڈجیٹل پلیٹ فارمز نے کھیل ہی بدل دیا ہے۔ اب فلم صرف سینما تک محدود نہیں رہی۔ ایک ہدایتکار کی ویب سیریز یا فلم بیک وقت درجنوں ممالک میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اس عالمی رسائی نے ہدایتکاروں کو نئی آزادی دی ہے ، وہ اب روایتی فارمولوں سے ہٹ کر موضوعات چن سکتے ہیں۔ اس آزادی کا معاشی پہلو بھی اہم ہے۔ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز اصل مواد پر بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ وہ ایسے ہدایتکاروں کے ساتھ معاہدے کرتے ہیں جن کا اپنا ایک تخلیقی دستخط ہو۔ اس طرح ہدایت کار نہ صرف فلم کے خالق بلکہ بزنس ڈیل کے مرکزی کردار بھی بن گئے ہیں۔

آج کا ہندوستانی نوجوان عالمی سنیما دیکھتا ہے، کورین ڈرامے سے لے کر ہالی ووڈ تک سب کچھ اس کی اسکرین پر دستیاب ہے۔ اس مسابقتی ماحول میں صرف بڑے اداکار کا نام کافی نہیں۔ فلم کو منفرد بنانا ضروری ہے، اور یہ ذمہ داری ہدایتکار کے کندھوں پر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلمی تشہیر میں اب ہدایتکار کا نام نمایاں طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ٹریلرز میں ’’فرام دی ڈائریکٹر آف ...‘‘ جیسی عبارتیں نمایاں کی جاتی ہیں۔ یہ دراصل مارکیٹنگ حکمت عملی ہے جو ناظرین کو اعتماد دلاتی ہے کہ انہیں معیاری مواد ملے گا۔

یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: کیا مالی سمجھداری میں جین زی نے مِلینیئلز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے؟

ہندوستان کی معیشت میں ’’کریئیٹو اکنامی‘‘ کا حصہ بڑھ رہا ہے۔ فلم، میوزک، گیمنگ اور ڈجیٹل مواد اب قومی آمدنی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہدایتکار اس تخلیقی معیشت کے معمار ہیں۔ ان کی شناخت جتنی مضبوط ہوگی، اتنی ہی سرمایہ کاری اس شعبے میں آئے گی۔ آنے والے برسوں میں امکان ہے کہ ہدایتکاروں کے ساتھ مل کر پروڈکشن ہاؤسیز عالمی شراکت داریوں میں اضافہ کریں گے۔ مشترکہ پروڈکشن، بین الاقوامی کاسٹ، اور عالمی ریلیز ہندوستانی سنیما کو مزید وسعت دیں گی۔ اس پورے عمل میں ہدایتکار کا نام ایک ’’برانڈ ویلیو‘‘ کے طور پر مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ جب فلم بین ٹکٹ خریدتا ہے تو وہ اس نام پر یقین کرتا ہے جو اسکرین پر چمک رہا ہوتا ہے۔ آج یہ نام اداکار کا ہو، ضروری نہیں، کیونکہ اب ہدایتکار ’’اسٹار‘‘ بن رہا ہے۔ ہندوستانی سنیما ایک نئے عہد میں داخل ہو چکا ہے جہاں تخلیق کار ہی اصل سرمایہ ہیں۔ ہدایت کار اب صرف کیمرے کے پیچھے کھڑا شخص نہیں، بلکہ ایک معاشی قوت، ایک برانڈ، اور ایک ایسی شناخت ہے جو ٹکٹ کھڑکی سے لے کر عالمی منڈی تک اثر ڈال رہی ہے۔ یہی تبدیلی ہندوستانی سنیما کی بڑھتی ہوئی معیشت کی سب سے دلچسپ اور امید افزا کہانی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK