ملنڈ کے وکیل نے اپنی شکایت میں اس تعلق سے ہائی کورٹ اور گرین ٹریبونل کی ہدایات کا حوالہ دیا۔ یہ بھی بتایا کہ کنکریٹ کے سبب بڑی تعداد میںدرختوں کی جڑیں کمزور ہوگئی ہیں جس سے مزید حادثے سے انکار نہیں کیا جاسکتا
EPAPER
Updated: July 04, 2026, 8:26 AM IST | Mumbai
ملنڈ کے وکیل نے اپنی شکایت میں اس تعلق سے ہائی کورٹ اور گرین ٹریبونل کی ہدایات کا حوالہ دیا۔ یہ بھی بتایا کہ کنکریٹ کے سبب بڑی تعداد میںدرختوں کی جڑیں کمزور ہوگئی ہیں جس سے مزید حادثے سے انکار نہیں کیا جاسکتا
چمبور میں اسکول بس پر درخت گرنے اور اس میں ایک بچےکی موت کے تعلق سے ملنڈکے ایڈوکیٹ ساگر دیورے نے چمبور پولیس اسٹیشن، ممبئی پولیس کمشنر، جوائنٹ پولیس کمشنرلاء اینڈ آرڈر اور کرائم برانچ میں بی ایم سی کے کمشنر، گارڈن ڈپارٹمنٹ، روڈ اور درختوں کی نگرانی کرنے والے محکموں کے افسران کے خلاف تحریری شکایت کی ہے ۔انہوں نے مذکورہ افسران کو حادثے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئےان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایڈوکیٹ ساگر دیورے نےبامبے ہائی کورٹ کے حکم نامے کا حوالہ دیا کہ درختوں کے گرد ایک میٹر کادائرہ بنانے پر ۹۰؍فیصد عمل نہیں کیا گیا۔ اسی وجہ سے درختوں کی جڑیں بہت کمزور ہوگئی ہیں ۔اس بناء پر ایسے مزید حادثات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے اپنی شکایت میںلکھا کہ بچے کی موت کا یہ معاملہ بہت سنگین ہے ۔ درخت کے ارد گرد کنکریٹ کی وجہ سے درخت گرا ہے ۔ بامبے ہائی کورٹ اور گرین ٹریبونل پہلے ہی درختوں کے ارد گرد کنکریٹ ہٹانے کے واضح احکامات صادر کر چکے ہیں، یہ ذمہ داری میونسپل کمشنر پر عائد ہوتی ہے۔ اسی طرح ۵؍ دسمبر ۲۰۱۵ء کو میونسپل کارپوریشن نے درختوں کے گرد ایک میٹر بائی ایک میٹر ارتھ کور لگانے کا سرکیولرجاری کیا تھا لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ اس کا نتیجہ ہے کہ آج ممبئی میں ۹۰؍ فیصد درختوں کی جڑیں کنکریٹ کی وجہ سے خطرناک حد تک کمزور ہو چکی ہیں۔ اس لئے کمشنر اور دیگر شعبوں کے اہلکاروں کے خلاف کام میں لاپروائی، فرائض کی انجام دہی میں غفلت اور چھوٹے بچے کی موت کا ذمہ دار قرار دے کر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ایڈوکیٹ ساگردیورے کے مطابق اگر مذکورہ ہدایات کونظرانداز نہ کیا گیا ہوتاتوشایدچمبور میںایک بچے کی قیمتی جان نہ جاتی اوریہ خطرناک حادثہ پیش نہ آتا۔