Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسکول بس پر درخت گرنے کے واقعہ پر کارروائی، گارڈن ڈپارٹمنٹ کا افسر معطل

Updated: July 02, 2026, 11:30 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

معاملے کی تفتیش کیلئے۲؍ ڈپٹی میونسپل کمشنروں کی کمیٹی تشکیل دے کر ۸؍ دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت۔ میونسپل اسٹینڈنگ کمیٹی نے رپورٹ آنے تک متعلقہ افسران کو معطل کرنے کا مطالبہ کیاتھا۔

According to the BMC, the uprooted peepal tree was 60 to 70 years old. (Photo: Inquilab)
بی ایم سی کے مطابق اکھڑ جانے والا پیپل کا درخت ۶۰؍ سے ۷۰؍ برس پرانا تھا۔ (تصویر: انقلاب)

چمبور میں پیپل کا تناور درخت ایک اسکول بس پر گرجانے سے   ۱۱؍ سالہ طالب علم وہان شریواستو کی موت اور   ۴؍ طلبہ   زخمی ہوگئے۔ اس  معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایم ویسٹ وارڈ کے گارڈن ڈپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جگدیش بھوئیر کو معطل کردیا گیا ہے اور اس معاملے کی تفتیش کیلئے ’برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن(بی ایم سی)‘ کی کمشنر اشوینی بھیڈے نے ۲؍ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ بدھ کو اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ کی تمام کارروائیوں کو روک کر صرف اس موضوع پر بحث ہوئی جس کے بعد تفتیش کی رپورٹ پیش ہونے تک متعلقہ افسران کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں تقریباً تمام ممبران نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ میٹنگ میں اس بات کا بھی سخت نوٹس لیا گیا کہ بی ایم سی کے گارڈن ڈپارٹمنٹ نے روڈ ڈپارٹمنٹ کو ۲؍ خط لکھ کر متنبہ کیا تھا کہ یہاں سڑک کو سیمنٹ کنکریٹ کا بنانے کی وجہ سے درخت کو نقصان پہنچا ہے اور ان پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے ورنہ برسات کے موسم میں کوئی حادثہ پیش آسکتا ہے۔ تاہم روڈ ڈپارٹمنٹ نے ایک سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ان خطوط کا جواب دینا بھی گوارہ نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھئے: جھیلوں پر بھی بارش، ذخیرہ آب میں اضافہ، پوائی لیک چھلک گئی

بی ایم سی نے بدھ کو ایک پریس ریلیز میں دعویٰ کیا ہے کہ جو پیپل کا درخت گرا تھا، وہ ۶۰؍ سے ۷۰؍ برس پرانا تھا اور اس کے تعلق سے سرکاری یا عوامی شکایت موصول نہیں ہوئی  تھی۔ البتہ جنوری ۲۰۲۶ء میں ایم ویسٹ وارڈ کے اسسٹنٹ کمشنر نےاس علاقے میں سڑک کے کنارے کام کا معائنہ کرنے اور ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات دی تھیں۔ اس سے قبل گرجانے والے مذکورہ درخت کا ۱۲؍ مئی ۲۰۲۶ء کو سروے کیا گیا تھا اور بیرونی مشاہدے میں اسے اچھی حالت میں اور مضبوط پایا گیا تھا۔ مانسون سے قبل مروجہ عمل کے مطابق ۲۹؍ مئی کو اس کی   شاخوں کوتراشا بھی گیا تھا۔ 

دوسری طرف اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ کے دوران کانگریس کے گروپ لیڈر اشرف اعظمی نے کہا کہ ’’مئی میں آریکا شری واستوا نامی ۱۴؍ سالہ لڑکی کی ایک زیر تعمیر عمارت  کے احاطے کا درخت گرنے سےموت ہوگئی تھی اور اب ویسا ہی   ایک اورحادثہ پیش آیا ہے تو بی ایم سی ان حادثات کی وجہ کیوں معلوم نہیں کرپارہی ہے؟‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’سڑکوں کوسیمنٹ کنکریٹ کا بناتے وقت درختوں کا بالکل خیال نہیں رکھا جاتا۔ درختوں کو سرے سے نظر انداز کردیا جاتا ہے جس کی وجہ سے درختوں کو مناسب غذا نہیں مل پاتی، کئی مرتبہ ان کی جڑوں کو نقصان پہنچادیا جاتا ہے جس کی وجہ سے درخت کمزور ہوجاتے ہیں ۔اس طرح وہ  درخت جو عوام کیلئے فائدے کی چیز ہے،   ان کی جان کیلئے خطرہ بن جاتے ہیں۔ اس لئے درختوں کے تحفظ کیلئے اقدام کرنے کے ساتھ ساتھ خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر کے تعلق سے آج اے پی سی آر کا آن لائن سیشن

اس تعلق سے   ایم آئی ایم کے کارپوریٹر ضمیر قریشی نے کہا کہ ایم ویسٹ وارڈ کے ساتھ بی ایم سی افسران کا دوغلہ رویہ ہے اور وہ وہاں ٹھیک طرح سے کام نہیں کرتے۔ ان کے مطابق یہ حادثہ ان کی رہائش گاہ سے ۴؍ سے ۵؍ کلو میٹر دوری پر پیش آیا ہے اور ان کے علاقے میں کئی ایسے درخت ہیں جن کی کٹائی ضروری ہے لیکن اس کیلئے کام نہیں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک متعلقہ افسران اور ٹھیکیدار کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی جائے گی تب تک لاپروائی جاری رہے گی۔ انہوں نےمزید کہا کہ ٹھیکیدار پر ۱۱؍ گنا جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے تو وہ عائد کیا جائے اور افسران کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے۔

این سی پی (اجیت پوار) کی لیڈر ڈاکٹر سعیدہ خان نے کہا کہ جس طرح مانسون سے قبل گٹروں کی صفائی کی مہم چلائی جاتی ہے، اسی طرح درختوں کے تحفظ کی بھی مہم چلائی جانی چاہئے۔ ان کے مطابق درختوں کے بھی ڈاکٹر اور ماہرین ہوتے ہیں تو کمزور اور بیمار درختوں کی شناخت کیلئے ان کی مدد لی جانی چاہئے۔ فی الحال مزدور اپنے اندازے سے درختوں کی کٹائی کرتے ہیں جو غیرمحفوظ طریقہ ہے۔

اس دوران چمبور حادثہ کی تفتیش کیلئے میونسپل کمشنر اشوینی بھیڈے نے ڈپٹی کمشنر (اسپیشل انجینئرنگ) پرشوتم مالواڑے اور ڈپٹی کمشنر (انجینئرنگ) ششانک بھورے پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ہے اور ان افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ ۸؍ دن میں اپنی رپورٹ پیش کریں۔ انہیں اس معاملے کے ماہرین سے مشورہ لینے اور مستقبل میں اس طرح کے حادثات کی روک تھام کیلئے سفارشات پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ممبئی میں اب بھی لاکھوں گاڑی مالکان نے ایچ ایس آر پی نمبر پلیٹ نہیں لگائی

چمبور حادثہ کا معاملہ اسمبلی میں بھی گونجا

ممبئی ،(اسٹاف رپورٹر): بس پر درخت کرنے سے طالب علم کی موت کا معاملہ اسمبلی کے مانسون  اجلاس میں بھی گونجا۔کانگریس کے رکن اسمبلی نانا پٹولے اور دیگر اپوزیشن لیڈروںنے برسراقتدار مہایوتی حکومت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے درختوں کی جڑوں کو منظم طریقے سے کمزور کرنے کیلئے سڑک کوکنکریٹ سے تعمیر کرنے کے پروجیکٹوں کو مورد الزام ٹھہرایا اور برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن( بی ایم سی) سے جوابدہی کا مطالبہ کیا۔  سماجی انصاف کے ریاستی وزیر سنجے شرساٹھ نے  ایوان کو یقین دلایا کہ اس بارے میں حکومت ایک جامع بیان دے گی اور بی ایم سی کو نئی ہدایات جاری کرے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK