القدس میں سفارتخانہ کھولنے کی۱۹؍ ممالک کے وزرائے خارجہ نے سخت مذمت کی اور اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف قراردیا۔
EPAPER
Updated: October 17, 2026, 11:46 AM IST | Agency | Ankara
القدس میں سفارتخانہ کھولنے کی۱۹؍ ممالک کے وزرائے خارجہ نے سخت مذمت کی اور اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف قراردیا۔
اسرائیل کے لئے کولمبیا کےذریعہ القدس میں سفارتخانہ کھولنے کی۱۹؍ ممالک کے وزرائے خارجہ نے سخت مذمت کی۔ترکی، الجزائر، جبوتی، انڈونیشیا، فلسطین، قطر، کویت، لبنان، لیبیا، ملائیشیا، مصر، پاکستان، صومالیہ، سوڈان، شام، سعودی عرب، عمان، اردن اور یمن کے وزرائے خارجہ نے کولمبیا کے اسرائیل میں موجود سفارتخانے کو تل ابیب سے القدس منتقل کرنے کے بارے میں مشترکہ بیان جاری کیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ ممالک کے وزرائے خارجہ کولمبیا کے القدس میںسفارتخانہ کھولنے کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کے لئے بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچانے والا اقدام کی سخت مذمت اور قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں۔بیان میں یہ زور دے کر کہا گیا کہ وزرائے خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ مقبوضہ قدس کی قانونی یا تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے یا قدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے متعلق کسی بھی اقدام یا فیصلے کو باطل سمجھا جائے گا اور وہ کسی قانونی نتیجے کے حامل نہیں ہوں گے۔ یہ موقف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی۴۷۶؍ (۱۹۸۰) اور ۴۷۸؍ (۱۹۸۰) سمیت متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہے جو القدس کے کردار یا حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتی ہیں اور ریاستوں سے یہ درخواست کرتی ہیں کہ وہ۱۹۶۷ء میں قبضہ کئے گئے فلسطینی علاقوں کے ایک حصّےالقدس سے اپنے سفارتی مشن ہٹا دیں۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی مخالفت کے باوجود کولمبیا کا مغربی یروشلم میں سفارت خانہ قائم
بیان میں کہا گیا کہ وزرائے خارجہ نے کولمبیا حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرے اور اسے واپس لے، بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نقصان پہنچائیں جن میں مشرقی القدس کو دارالحکومت ماننے والا ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست رکھنے کا حق بھی شامل ہے۔ گزشتہ دنوں کولمبیا نے تل ابیب میں موجود اپنے اسرائیلی سفارتخانے کو۴۶؍ سال بعد قدس منتقل کر دیا ہے۔ اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈیون سار اور ان کے کولمبیائی ہم منصب عمر بولا ایسکوبار قدس میں نئے سفارتخانے کی افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے تھے۔اسرائیل نے ۱۹۸۰ء میں یکطرفہ طور پر القدس کو اپنا دارالحکومت قرار دیا تھا، اس میں۱۹۶۷ء میں اس کے زیرِ قبضہ مشرقی القدس بھی شامل ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر کے کئی ممالک قدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم نہیں کرتے اور ان کے سفارتخانے تل ابیب میں واقع ہیں۔