Updated: October 15, 2026, 8:03 PM IST
| Jerusalem
کولمبیا نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال ہونے کے بعد مغربی یروشلم میں اپنا سفارت خانہ قائم کردیا ہے۔ اس اقدام سے یروشلم کی حیثیت سے متعلق بین الاقوامی اختلافات ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، کیونکہ بیشتر ممالک شہر کی حتمی حیثیت کے تعین تک اپنے سفارت خانے تل ابیب میں برقرار رکھتے ہیں، جبکہ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی آزاد ریاست کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں۔
کولمبیا کے سفارتخانہ کے افتتاح کی ایک تصویر۔ تصویر: ایکس
۱۴؍ اکتوبر کو ہونے والی افتتاحی تقریب میں اسرائیل کے وزیرِ خارجہ گیڈون ساعر، کولمبیا کے وزیرِ خارجہ عمر بولا ایسکوبار اور یروشلم کے میئر موشے لیون نے شرکت کی۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق، اس افتتاح کے ساتھ کولمبیا ان ۱۰؍ ممالک میں شامل ہوگیا ہے جنہوں نے یروشلم میں اپنے سفارت خانے قائم کیے ہیں۔ تاہم، اس اقدام پر فلسطینی حکام اور اردن نے تنقید کی ہے اور اسے شہر کی قانونی حیثیت سے متعلق بین الاقوامی قراردادوں کے منافی قرار دیا ہے۔ یہ فیصلہ کولمبیا کی اسرائیل سے متعلق خارجہ پالیسی میں نمایاں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ سابق صدر گستاوو پیٹرو کی حکومت نے مئی ۲۰۲۴ء میں غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کردیے تھے۔ بعد ازاں اگست ۲۰۲۶ء میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بحال ہوئے۔ موجودہ صدر ابیلاردو دے لا ایسپرییا نے انتخابی مہم کے دوران اسرائیل کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے اور کولمبیا کا سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی حمایت پر انڈونیشیا میں اینڈریا بوچیلی کے کنسرٹ کی منسوخی کا مطالبہ
اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیڈون ساعر نے افتتاحی تقریب میں سفارت خانے کے قیام کو دونوں ممالک کے تعلقات اور یروشلم کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔ دوسری جانب کولمبیا کے وزیرِ خارجہ عمر بولا ایسکوبار نے کہا کہ ان کا ملک دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کی جانب عملی قدم اٹھا رہا ہے اور اسرائیل ایک تزویراتی شراکت دار ہے۔ یروشلم کی حیثیت اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع کے بنیادی مسائل میں شامل ہے۔ اسرائیل پورے یروشلم کو اپنا دارالحکومت قرار دیتا ہے، جب کہ فلسطینی مشرقی یروشلم کو مستقبل کی آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت مانتے ہیں۔ اسرائیل نے ۱۹۶۷ء کی جنگ میں مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا اور ۱۹۸۰ء میں اسے اپنے ساتھ ضم کرنے کے لیے قانون منظور کیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسی سال قرارداد ۴۷۸؍ کے ذریعے اسرائیل کے اس اقدام کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی قانونی حیثیت تسلیم کرنے سے انکار کیا اور یروشلم میں سفارتی مشن رکھنے والے ممالک سے انہیں واپس بلانے کی اپیل کی۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو نےشمالی مغربی کنارے کے پناہ گزین کیمپوں میں بے گھر فلسطینیوں کی واپسی مسترد کی
اسی پس منظر میں بیشتر ممالک نے اسرائیل میں اپنے سفارت خانے تل ابیب یا اس کے آس پاس برقرار رکھے ہیں۔ ان ممالک کا مؤقف ہے کہ یروشلم کی حتمی حیثیت کا تعین اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہیے۔ کولمبیا کے نئے سفارت خانے کے قیام پر فلسطینی اتھارٹی نے بھی اعتراض کیا اور اسے بین الاقوامی قانونی قراردادوں اور شہر کی حیثیت سے متعلق عالمی اتفاقِ رائے کو نقصان پہنچانے والا اقدام قرار دیا۔ اردن کی وزارتِ خارجہ نے بھی اس فیصلے کو بین الاقوامی قانون اور متعلقہ قراردادوں کے منافی کہا۔ کولمبیا سے پہلے امریکہ، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، کوسوو، پیراگوئے، پاپوا نیو گنی، فجی، ناورو اور صومالی لینڈ یروشلم میں اپنے سفارت خانے قائم کرچکے تھے۔ صومالی لینڈ کو اسرائیل کے علاوہ کسی دوسرے ملک نے آزاد ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔ یروشلم میں کولمبیا کے سفارت خانے کا افتتاح ایسے وقت میں ہوا ہے جب شہر کی حیثیت اور فلسطینی ریاست کے مستقبل پر بین الاقوامی اختلافات برقرار ہیں۔