مہنگائی کیخلاف کانگریس کا ہلّہ بول، جگہ جگہ احتجاج

Updated: August 06, 2022, 9:13 AM IST | new Delhi

راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور سابق وزیر ششی تھرور سمیت متعدد لیڈران کو حراست میں لے لیا گیا،سبھی نے سیاہ کپڑے پہن رکھے تھے،پولیس کو ناکوں چنے چبانے پڑے

Congress leaders under the leadership of Rahul Gandhi start the protest from Parliament. (Photo: PTI)
کانگریس لیڈران راہل گاندھی کی قیادت میں پارلیمنٹ سے احتجاج کا آغاز کرتے ہوئے۔(تصویر: پی ٹی آئی )

 مہنگائی، بے روزگاری، جی ایس ٹی کے غلط نفاذ، اگنی پتھ اسکیم سمیت عوام کو درپیش متعدد مسائل کے خلاف کانگریس  نے جمعہ کو دہلی و طراف سمیت ملک کے دیگر کئی شہروں میں زوردار احتجاج کیا۔ اس دوران کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی، پارٹی کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی اور سابق وزیر ششی تھرور سمیت متعدد لیڈران کو حراست میں لے لیا گیا۔راہل گاندھی سمیت کانگریس کے متعدد اراکین پارلیمنٹ کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ پارلیمنٹ ہاؤس سے راشٹرپتی بھون تک مارچ نکالنے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ پرینکا گاندھی کو کانگریس ہیڈکوارٹر   کے باہر مارچ نکالنے کی کوشش کے دوران حراست میں لیا گیا۔کانگریس پارٹی کے پُر امن احتجاج پر پولیس کی جابرانہ کارروائی پر پارٹی لیڈران نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس لیڈران نے سیاہ کپڑوں میں  احتجاج کیا۔
سونیا گاندھی نے بھی سیاہ لباس پہنا 
 کانگریس صدر سونیا گاندھی بھی سیاہ لباس پہن کر آئی تھیں۔ انہوں نے اپنی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ پارلیمنٹ میں نعرے لگائے۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو پولیس نے حراست میں لے لیا جب وہ پارلیمنٹ سے راشٹرپتی بھون تک مارچ کے  لئے روانہ ہو رہے تھے۔ پرینکا گاندھی کانگریس ہیڈکوارٹر میں احتجاج کی قیادت کی لیکن  جب وہ اپنے اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کرنے نکلیں تو پولیس نے انہیں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی۔ جس کے بعد وہ کانگریس ہیڈکوارٹر کے سامنے ہی سڑک پر بیٹھ گئیں۔پرینکا گاندھی نے پولیس کو بتایا کہ وہ حکومت کے ساتھ سمجھوتہ کرنے نہیں بیٹھی ہیں۔ مہنگائی کی مخالفت کر کے عوام کی آواز اٹھانا ان کا حق ہے لیکن پولیس نے بہت دقتوں کے بعد  انہیں بھی حراست میں لے لیا۔ اس دوران  تمام بڑے لیڈران  اجے ماکن، سچن پائلٹ اور ہریش راوت کو حراست میں لے لیا گیا۔
اکبر روڈ پر زبردست سیکوریٹی 
 کانگریس کارکنوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر اکبر روڈ پر سیکوریٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ پولیس نے کئی سطحوں پر اہلکاروں کو تعینات کیا تھا۔ کسی کارکن کو اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ دہلی پولیس حراست میں لیے گئے کانگریس لیڈروں کو کنگس وے کیمپ پولیس لائنز لے گئی۔ کانگریس کے دیگر ممبران پارلیمنٹ کو بھی وہیں لے جایا گیا۔کانگریس  کے احتجاج کو دیکھتے ہوئے جنتر منتر علاقے کو چھوڑ کر پوری دہلی میں دفعہ ۱۴۴؍ بھی  نافذ کر دی گئی تھی۔ 
دیگر شہروں میں بھی احتجاج 
 دہلی کے علاوہ کانگریس کارکنوں نے  پٹنہ، ممبئی، اور بھوپال سمیت کئی  شہروں میں مہنگائی کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا۔ اس بارے میں سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے کہا کہ یہ احتجاج مہنگائی اور اگنی پتھ کے خلاف ہے ۔مہنگائی سب کو متاثر کرتی ہے۔ ایک سیاسی جماعت اور منتخب نمائندے کی حیثیت سے ہم عوام کے بوجھ کے خلاف آواز اٹھانے کے پابند ہیں۔کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے کہا کہ ہم عوام کو راستے پر آ کر یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ حکومت مہنگائی اور بے روزگاری کے حوالہ سے جو کچھ بھی کہہ رہی ہے وہ درست نہیں ہے۔ ہم یہ دکھانے کے  لئے آزاد ہیں کہ ایک بار ایوان میں مہنگائی پر بحث ہوئی تھی لیکن حکومت نے یہ اعتراف کرنے سے ہی انکار کر دیا کہ ملک میں مہنگائی بڑھ رہی ہے ۔

congress Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK