ایران جنگ کی وجہ سے متاثر ہونےوالے کاروباریوں کوسہارا دینے کیلئے ۱۰۰؍ کروڑ تک کے قرض پر ۹۰؍فیصد کریڈٹ گارنٹی دی جائے گی۔
کریڈٹ گارنڈی اسکیم سے حکومت کا مقصد چھوٹے کاروباری اکائیوں کو راحت پہنچانا ہے-تصویر:آئی این این
مغربی ایشیا کے بحران سے متاثر کاروباروں کیلئے حکومت۲ء۵؍ لاکھ کروڑ روپے کی کریڈٹ گارنٹی اسکیم لانے پر غور کر رہی ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت ایک ایسی اسکیم پر غور کر رہی ہے جس کے تحت خاص طور پر ایم ایس ایم ایز(چھوٹے اور متوسط کاروباریوں) سمیت متاثرہ کاروباروں کو سہارا دیا جائے۔ اس اسکیم کے تحت قرض لینے والوں کی جانب سے امریکہ-ایران تنازع کے باعث ڈیفالٹ ہونے کی صورت میں۱۰۰؍کروڑ روپے تک کے قرضوں پر تقریباً۹۰؍فیصد کریڈٹ گارنٹی فراہم کی جائے گی۔
بینک قرضوں کی یہ گارنٹی نیشنل کریڈٹ گارنٹی ٹرسٹی کمپنی(این سی جی ٹی سی)فراہم کرے گی جو مکمل سرکاری ملکیت والی ذیلی کمپنی ہے۔ اس اسکیم کیلئے حکومت کو تقریباً۱۷؍ہزارکروڑ سے۱۸؍ہزار کروڑ روپے فراہم کرنے ہوں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کووڈ -۱۹؍ وبا کے دوران بھی ایسی اسکیم متعارف کرائی گئی تھی جو بہت کامیاب رہی تھی اور اس نے مختلف شعبوں کے کاروباروں کو قائم رہنے اور اپنے واجبات ادا کرنے میں مدد دی تھی۔
حکومت نے مئی۲۰۲۰ء میں ’’آتم نربھر بھارت ابھیان‘‘ کے تحت ایمرجنسی کریڈٹ لائن گارنٹی اسکیم ( ای سی ایل جی ایس) کا اعلان کیا تھا تاکہ کووڈ-۱۹؍ سے متاثر ہو نے والے اہل مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزس (ایم ایس ایم ایز) اور دیگر کاروباروں کو آپریشنل ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور کاروبار دوبارہ شروع کرنے میں مدد مل سکے۔ ای سی ایل جی ایس میں تقریباً تمام معاشی شعبوں کو شامل کیا گیا تھا اور اس اسکیم کے تحت دیئے گئے قرضوں پر قرض دینے والے اداروں کو۱۰۰؍ فیصد گارنٹی فراہم کی گئی تھی۔
اس اسکیم کا ڈھانچہ ایسا تھا کہ قرض تک آسان رسائی ممکن ہو گئی تھی کیونکہ قرض دہندگان موجودہ کریڈٹ کی بنیاد پر پہلے سے منظور شدہ قرض فراہم کرتے تھے اور کسی نئی جانچ کی ضرورت نہیں ہوتی تھی کیونکہ اضافی قرض پہلے سے منظور شدہ سہولت کے علاوہ دیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ سود کی شرح کو بھی محدود رکھا گیا تھا تاکہ قرض کی لاگت کم ہو اور قرض بغیر کسی پروسیسنگ فیس، پری پیمنٹ چارجز اور گارنٹی فیس کے فراہم کئے جارہے تھے۔ یہ اسکیم۳۱؍ مارچ۲۰۲۳ء تک جاری رہی۔ اس کے علاوہ حکومتی ذرائع کے مطابق حکومت نے حالیہ دنوں میں عام آدمی کی مشکلات کم کرنے کیلئے کئی اقدامات کئے ہیں، جن میں پیٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی بھی شامل ہے۔ واضح رہے کہ یہ ایکسائز ڈیوٹی اس وقت نافذ کی گئی تھی جب عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتیں کم ہوئی تھیں۔ حکومت پر الزام ہے کہ قیمتوں میں اس کمی کا فائدہ عام آدمی کو پہنچانے کے بجائے اس نے ایکسائز ڈیوٹی نافذ کرکے اپنا خزانہ بھرنے کی کوشش کی۔ اب بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی مہنگائی کی صورت میں اگر مذکورہ ایکسائز ڈیوٹی نافذ رہتی تو قیمتوں میں کمی کے فائدہ سے محروم رہنے والے شہریوں کو قیمتوں میں اضافہ کا بوجھ برداشت کرنا پڑتا ۔اس پس منظر میں مرکزی حکومت نے ڈیزل اور پٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی کم کردی۔