عبدالستار نے کہا ’’ یہی وقت ہے جب دونوں شیوسینا کو ایک ہوجانا چاہئے ‘‘ امبا داس دانوے نے کہا ’’ میرے دل میں بھی یہ بات کئی بار آ چکی ہے‘‘،سیاسی حلقوں میںکھلبلی
EPAPER
Updated: June 03, 2026, 8:26 AM IST | Mumbai
عبدالستار نے کہا ’’ یہی وقت ہے جب دونوں شیوسینا کو ایک ہوجانا چاہئے ‘‘ امبا داس دانوے نے کہا ’’ میرے دل میں بھی یہ بات کئی بار آ چکی ہے‘‘،سیاسی حلقوں میںکھلبلی
مہایوتی کے اندر ودھان پریشد کی سیٹوں کیلئے ہونے والی تکرار اب باقاعدہ مخاصمت کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے ، حتیٰ کہ ناراض لیڈران نے بی جے پی کا ساتھ چھوڑ کر ادھو ٹھاکرے والی شیوسینا سے ہاتھ ملا لینے پر اصرار شروع کر دیا ہے۔سابق وزیر عبدالستار اور اورنگ آباد ضلع کے شیوسینا (شندے) سے تعلق رکھنے والے دیگر اراکین اسمبلی اس بات سے ناراض ہیں کہ بی جے پی ضلع میں ان کی پارٹی کے وجود کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ بی جے پی کا ساتھ چھوڑ کر شیوسینا (شندے) کو ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا سے ہاتھ ملا لینا چاہئے یعنی دونوں پارٹیوں کو ایک ہوجانا چاہئے۔
اس کی شروعات اس وقت ہوئی جب اورنگ آباد۔ جالنہ ودھان پریشد کی سیٹ بی جے پی کے دبائو کے سبب شندے گروپ کے کسی امیدوار کو دینے کے بجائے سہاس شرساٹ کو دی گئی ۔ یاد رہے کہ اورنگ آباد ضلع میں شروع سے شیوسینا کا دبدبہ رہا ہے لیکن حالیہ کارپوریشن اور میونسپل الیکشن کے بعد یہاں بی جے پی نے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے جس کی وجہ سے مقامی شیوسینا لیڈران تشویش میں مبتلا ہیں۔ پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر عبدالستار کھل کر بغاوت پر اتر آئے ہیں انہوں نے بی جے پی امیدوار سہاس شرساٹ کے سامنے اپنےبیٹے سمیر عبدالستار کو میدان میں اتارا ہے۔ ساتھ ہی انہوں ٹیلیویژن پر بی جے پی کے خلاف کئی انٹرویو دیئے۔ عبدالستار کا کہنا ہے کہ بی جے پی اورنگ آباد میں ہماری گردنیں کاٹنے کا کام کر رہی ہے۔ گردن کاٹنے سے مراد انہوں نے یہ بتائی کہ جتنے اہم عہدے تھے میئر، اسٹینڈنگ کمیٹی، رکن اسمبلی وغیرہ اس پر بی جے پی نے قبضہ کر لیا ہے۔ اب ودھان پریشد سیٹ بھی اسی کے حصے میں گئی ہے۔ اس طرح اورنگ آباد میں شیوسینا (شندے) کا ایک رکن پارلیمان اور ۶؍ اراکین اسمبلی ہیں کل کو انہیں بھی بی جے پی کی وجہ سے اپنی سیٹ گنوانے کا خطرہ ہو سکتا ہے اس لئے شیوسینا کو جلداز جلد اس پر غورکرنا ہوگا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ممتا بنرجی بھی پہلے بی جے پی کی حلیف ہوا کرتی تھیں لیکن بی جے پی نے ان کے ساتھ کوئی مروت نہیں کی اور آج اس پارٹی کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ اسی طرح وہ شیوسینا کے ساتھ نہ کرے۔جب عبدالستار سے متبادل راستہ پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اب دونوں شیوسینا کو ایک ہوجانا چاہئے یعنی ایکناتھ شندے کو او ھو ٹھاکرے سے ہاتھ ملا لینا چاہئے۔ عبدالستار نے کہا’’ہمارے متحد ہونے کا یہی صحیح وقت ہے، اگر ہمارے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے راضی ہو گئے تو دونوں پارٹیوںکے ایک ہونے میں ذرا بھی دیر نہیں لگے گی۔‘‘
عبدالستار کے اس بیان سے سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ دوسری طرف شیوسینا (ادھو) کی جانب سے بھی فوری ردعمل سامنے آیا۔اورنگ آباد سے تعلق رکھنے والے شیوسینا (ادھو) کے سینئر لیڈر امباداس دانوے نے کہا’’ یہ بات میرے دل میں کئی مواقع پر آئی کہ دونوں پارٹیوں کو اب ایک ہوجانا چاہئے۔ لیکن میرے اکیلے کے دل میں ہونے سے کیا ہوتا ہے؟ سامنے والوں کی بھی خواہش ہونی چاہئے۔‘‘میڈیا میں جب عبدالستار کا بیان وائرل ہونے لگا تو ایکناتھ شندے نے انہیں اور اورنگ آباد کے دیگر اراکین اسمبلی کو ممبئی بلایا۔ منگل کو جب عبدالستار ممبئی کیلئے روانہ ہوئے تو راستے میں انہیں امبا داس دانوے دکھائی دیئے۔ انہوں نے دانوے کو راستے میں روکا اور دونوں لیڈران بغلگیر ہوئے۔ ان کا یہ ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوا اور خبریں گردش کرنے لگیں کہ دونوں شیوسینا کے درمیان درپردہ کوئی گفتگو ضرور جاری ہے۔ شیوسینا(ادھو) کے ترجمان سنجے رائوت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’’ شیوسینا ایک ہی ہے۔ شیوسینا کبھی تقسیم نہیں ہوئی۔جس طرف ٹھاکرے ہیں وہ اصل شیوسینا ہے۔جو پارٹی چھوڑ کر گئے تھے وہ غدار ہیں لیکن اگر انہیں لگتا ہے کہ دونوں پارٹیوں کو ایک ہوجانا چاہئے تو وہ ماتوشری آکر بات کریں۔ ‘‘
ایکناتھ شندے کابینہ میٹنگ سے غائب
ایک اور اہم واقعہ جو منگل کو پیش آیا وہ یہ کہ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کابینہ میٹنگ سے غائب رہے۔ حالانکہ انہوں نے ذاتی وجوہات کی بنا پر غیر حاضر رہنے کی بات کہی ۔ میڈیا نے جب شندے سے عبدالستار اور دانوے کے بیان سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا ’’ ہم نے بالا صاحب ٹھاکرے کے نظریات کی پیروی کرتے ہوئے عوام کیلئے ایک حکومت قائم کی اور عوام نے اس حکومت ووبارہ منتخب کیا لہٰذا ہم آگے بھی اپنے ان نظریات کے ساتھ چلتے رہیں گے۔ ‘‘ شندے بین السطور مہایوتی کے ساتھ رہنے کا اشارہ دیا لیکن دانوے اور عبدالستار کے بیان کو مسترد نہیں کیا۔ فی الحال سب کی نظریں ایکناتھ شندے کے فیصلے پر ٹکی ہوئی ہیں۔