شیو سینا اور ایم این ایس کا انتباہ، کہا : اسےہلانے کی کوشش بھی کی گئی تو خون کی ندیاں بہہ جائیں گی۔ ریاستی وزیر پرتاپ سرنائک کا شہری انتظامیہ کو سخت خط ۔
EPAPER
Updated: May 08, 2026, 10:58 AM IST | Sajid Mehmood Shaikh | Mumbai
شیو سینا اور ایم این ایس کا انتباہ، کہا : اسےہلانے کی کوشش بھی کی گئی تو خون کی ندیاں بہہ جائیں گی۔ ریاستی وزیر پرتاپ سرنائک کا شہری انتظامیہ کو سخت خط ۔
یہاں کاشی میرا علاقے کے چوراہے پر چھترپتی شیواجی مہاراج کے ۳۰ سالہ قدیم تاریخی مجسمے کو میٹرو اور فلائی اوور کی تعمیر کے نام پر ہٹانے کی تجویز نے شہر کے سیاسی درجۂ حرارت میں زبردست اضافہ کر دیا ہے۔ ایک طرف حکمراں جماعت بی جے پی اور شہری انتظامیہ اسے ’مرمت اور تقدس‘ کا معاملہ قرار دے رہے ہیں وہیں شیو سینا (شندے ) اور مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) نے اس اقدام کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔
ایم این ایس کے مقامی صدر سندیپ رانے نے انتظامیہ اورکارپوریٹروں کو کھلی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مجسمے کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجسمے کی منتقلی کی صورت میں پورے مہاراشٹر میں احتجاج کی آگ بھڑک اٹھے گی جس کی تمام تر ذمہ داری میونسپل کمشنر اور مقامی اراکین اسمبلی پر ہوگی۔ ایم این ایس کی خاتون لیڈر ریشماں تپاسے نے سنگین الزام عائد کیا کہ کسی بلڈر کی پراپرٹی کی قیمت بڑھانے کیلئے شہر کی تاریخی پہچان مٹائی جا رہی ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ مجسمہ ہٹانے کے بجائے اسے اتنا بلند کیا جائے کہ میٹرو اور فلائی اوور سے گزرنے والوں کو بھی دور سے اس کے درشن ہو سکے۔ انہوں نے انتہائی سخت لہجے میں کہاکہ ’’اگر اسے ہلانے کی کوشش بھی کی گئی تو خون کی ندیاں بہہ جائیں گی، ہم اپنی جان دے دیں گے لیکن توہین برداشت نہیں کریں گے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مانسون سے قبل رَن وے کی دیکھ بھال کیلئے ایئر پورٹ آج ۶؍ گھنٹے بند رہے گا
ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک نے میونسپل کمشنر رادھا بنود شرما اور میئر ڈمپل مہتا کو خط لکھ کر سخت اعتراض درج کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتظامیہ کے پاس فنڈز کی کمی ہے تو وہ مرمت کا تمام خرچ ذاتی طور پر یا حکومت کے ذریعے ادا کرنےکیلئے تیار ہیں مگر مجسمہ اسی جگہ رہنا چاہئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مجسمے کو ہاتھ لگایا گیا تو انتظامیہ کو شیو سینا کی شدید مخالفت جھیلنی پڑے گی۔
معروف صحافی میور ٹھاکر (لوک ستّا) نے انتظامیہ کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مجسمہ ہٹانے کے بعد اسے کہاں اور کب لگایا جائے گا، اس کا کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جنجیرہ دھاراوی قلعے سے چماجی اپا کا مجسمہ ہٹانے کے بعد اسے دوبارہ نصب کرنے میں ۱۶ ؍سال لگ گئے تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ماہرین اور تاریخ دانوں کے مشورے کے بغیر کوئی قدم نہ اٹھایا جائے۔
یہ بھی پڑھئے: سروے شدہ ہاکرس کو ۵؍ ہفتوں میں ’کیو آر کوڈ‘ والا شناختی کارڈ جاری کرنے کا حکم
دوسری جانب بی جے پی کے رکن اسمبلی نریندر مہتا نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ سڑک کی اونچائی بڑھنے سے مجسمہ گہرائی میں چلا گیا ہے اور وہاں دھول مٹی کا راج ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ ’’جب میٹرو ٹرینیں مجسمے کے اوپر سے گزریں گی تو یہ ایک طرح کی توہین ہوگی۔ ہمارا مقصد مجسمے کو مکمل احتیاط کے ساتھ نکال کر اس کی مرمت کرنا اور اسے کسی نمایاں مقام پر دوبارہ نصب کرنا ہے تاکہ اس کا احترام محفوظ رہے۔‘‘ انہوں نے یقین دلایا کہ یہ فیصلہ کسی سیاسی مقصد کیلئے نہیں بلکہ صرف تقدس اور حفاظتی نکتہ نظر سے کیا جا رہا ہے۔